دل بخود راهی نداد اندیشه را
دل بخود راهی نداد اندیشه را
شیر قالین کرد شیر بیشه را
ترجمہ
دل نے اندیشے کو اپنے اندر آنے کا راستہ نہ دیا، اور اس نے جنگل کے شیر کو قالین بنا دیا۔
تشریح
یہ شعر حکایت کا اصل باطنی نکتہ کھول دیتا ہے۔ اقبال صاف بتاتے ہیں کہ عالمگیر کی قوت صرف بازو کی قوت نہ تھی، بلکہ اس کے دل نے اندیشے کو جگہ نہ دی۔ یعنی عمل سے پہلے فیصلہ دل میں ہوا۔ یہی باطن کی آزادی بیرونی خطرے پر غالب آ گئی۔ شعر کے مطابق:
اندیشے کو راستہ نہ دینا:
اقبال اندیشے کی نفی مطلقاً نہیں کرتے، بلکہ اس اندیشے کی بات کرتے ہیں جو خطرے کے لمحے میں دل پر قبضہ کر کے حرکت کو توڑ دے۔ احتیاط اور شعور اپنی جگہ ضروری ہیں، مگر ایک مقام کے بعد بے محل اندیشہ انسان کو اپنے ہی امکان سے محروم کر دیتا ہے۔ عالمگیر کے دل نے اس ویران کرنے والے اندیشے کو دروازہ نہ کھولا۔
یعنی دل پہلے سے اس درجے کی یکسوئی میں تھا کہ خوف نے اس کے مرکز پر قبضہ نہ کیا۔
دل کا مقام:
اقبال کے ہاں دل محض جذباتی عضو نہیں، بلکہ پوری شخصیت کا مرکزِ فیصلہ ہے۔ اگر دل میں اندیشہ غالب ہو جائے تو عقل بھی بکھر جاتی ہے، جسم بھی سست ہو جاتا ہے، اور عمل بھی بے وزن ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر دل قائم ہو تو اندیشہ دروازے تک آ کر بھی باطن پر حکمرانی نہیں کر سکتا۔
اس لیے شاعر دل کو اصل میدان بنا کر دکھاتے ہیں، نہ کہ صرف پنجہ اور خنجر کو۔
شیرِ بیشہ کا قالین بننا:
یہ تصویر صرف جسمانی فتح کا اظہار نہیں، بلکہ باطل ہیبت کے بے اثر ہو جانے کی علامت بھی ہے۔ جو شیر ابھی تک آسمان کو ہلانے والی دھاڑ رکھتا تھا، اب ایک قالین بن گیا۔ یعنی خطرے کی ساری ظاہری بڑائی دل کی استقامت کے سامنے اپنی جگہ کھو بیٹھی۔
یہاں قالین ایک بے جان شے کی علامت ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ جس خوف کو دل نے قبول نہ کیا، وہ آخرکار بے وزن ہو گیا۔
عمل سے پہلے باطن کی فتح:
اصل بات یہی ہے کہ شیر پہلے دل میں شکست کھاتا ہے، پھر باہر۔ اگر اندر اندیشہ غالب ہو جاتا تو باہر کے تمام وسائل شاید کافی نہ ہوتے۔ اس لیے اقبال کی دلچسپی جسمانی معرکے سے زیادہ دل کے معرکے میں ہے۔ جس شخص نے اپنے باطن کو خوف کی غلامی سے بچا لیا، وہ باہر کے معرکے میں بھی زیادہ آزاد ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس شعر کا پہلا مصرع دوسرے مصرعے کی اصل بنیاد ہے۔
ہماری دنیا میں سبق:
بہت بار ہمارا “شیر” اصل میں دل کے اندر بڑھتا ہے۔ امتحان آنے سے پہلے ہی اندیشہ اسے اتنا بڑا بنا دیتا ہے کہ ہم حرکت ہی نہیں کر پاتے۔ اقبال کا سبق یہ ہے کہ دل کے دروازے پر نگہبانی کرو۔ جس اندیشے کو حد سے بڑھ کر جگہ دے دی جائے، وہ تمہاری قوت کھا جاتا ہے۔
دل کو حقیقت، ذکر اور یقین کے ساتھ آباد رکھو، پھر بہت سے بیرونی شیر اپنی ہیبت کھو بیٹھیں گے۔
مثال
بعض لوگ امتحان یا انٹرویو سے پہلے ہی اپنے خوف کو اتنا بڑھا لیتے ہیں کہ اصل موقع پر ان کی آدھی طاقت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ جبکہ جو شخص دل میں خوف کو جگہ نہیں دیتا، وہی بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق بڑی فتح پہلے دل میں حاصل ہوتی ہے۔ جب دل اندیشے کو اپنے اوپر حاکم نہیں ہونے دیتا تو بیرونی خطرہ بھی اپنی ہیبت کھو دیتا ہے۔