از نوای آتشینش رفت سوز
از نوای آتشینش رفت سوز
لیکن اندر سینه دم دارد هنوز
ترجمہ
اس کی آتشیں نوا سے وہ سوز تو چلا گیا، لیکن اس کے سینے میں ابھی کچھ دم باقی ہے۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال بقا اور زوال کے درمیان ایک نہایت باریک فرق دکھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی ابتدائی حرارت، جوش، روحانی سوز یا انقلابی نوا اپنی اصل شدت میں باقی نہیں رہی، لیکن اس کے باوجود ان کے سینے میں کچھ دم ابھی تک موجود ہے۔ یعنی کامل عروج تو رخصت ہو چکا، مگر حیات کی ایک باطنی رمق زندہ ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی رمق قوموں کی بقا کا نشان اور مستقبل کے امکان کی بنیاد ہوتی ہے۔ شعر کے مطابق:
نوای آتشین:
“نوای آتشین” اس اصل حرارت، ایمانی جوش، نبوی تاثیر اور وہ زندہ آواز ہے جو کسی قوم کو بلند مقصد کے لیے متحرک کرتی ہے۔ جب قوم اپنے مرکز کے ساتھ پوری زندگی سے جڑی ہو تو اس کی نوا محض آواز نہیں رہتی بلکہ سوز و اثر بن جاتی ہے۔ اقبال تسلیم کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی اس نوا کا ابتدائی آتشیں رنگ مدھم پڑ گیا۔
یہ اعتراف بہت اہم ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بقا کا مطلب یہ نہیں کہ قوم لازماً اپنے اصل کمال پر بھی قائم ہو۔
سوز کے کم ہونے کا مطلب:
سوز کے جانے سے مراد یہ ہے کہ اصل تخلیقی حرارت، وہ روحانی اضطراب، وہ زندہ اثر انگیزی اور وہ مرکزی تابانی کم ہو گئی جس سے تاریخ میں نئی حرکت پیدا ہوتی ہے۔ قومیں بعض اوقات اپنے پہلے سوز کو کھو دیتی ہیں، مگر پھر بھی ان میں کچھ ایسی چیز باقی رہتی ہے جو انہیں مکمل موت سے بچا لیتی ہے۔
اقبال اسی “کچھ باقی رہ جانے” کے اصول کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
سینے میں دم ہونا:
“دم دارد هنوز” کا مطلب یہ ہے کہ قوم کے اندر زندگی کی آخری سانس ابھی باقی ہے۔ اس کے پاس شاید پہلا جوش نہ ہو، مگر ایک اندرونی ربط، تاریخی یاد، مذہبی ڈھانچہ یا اخلاقی بقا ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہی باقی ماندہ دم ہے۔ اقبال اس کو بہت اہم سمجھتے ہیں، کیونکہ اسی کے سہارے قومیں صدیوں کے بعد بھی اپنی صورت محفوظ رکھ سکتی ہیں۔
گویا سوز کا کم ہونا افسوسناک ہے، مگر دم کا باقی رہنا امید کی علامت ہے۔
امت کے لیے پوشیدہ تنبیہ:
اقبال مسلمان کو متنبہ کرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اپنے اندر کے باقی ماندہ دم کو بھی حقیر سمجھ کر ضائع کر دو۔ اگر مکمل حرارت موجود نہیں، تب بھی جو سانسِ حیات باقی ہے اسے محفوظ رکھنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تقلید، ضبط ملت اور ورثے سے وابستگی کو انحطاط کے دور میں ضروری قرار دیتے ہیں۔
کیونکہ جب سوز کم ہو تو بے قاعدہ حرکت اکثر شعلہ نہیں بلکہ راکھ پیدا کرتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج مسلمان اپنے ماضی کے مقابلے میں اپنے اندر پہلے جیسی مرکزی حرارت کم محسوس کرتے ہیں۔ مگر اگر قرآنی شعور، نماز، دینی روایت، خاندانی تربیت، علم کا احترام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ابھی دلوں میں کسی درجے میں موجود ہے تو یہ “دم” کم نہیں۔ اسے بچانا، بڑھانا اور اس کے گرد نئی زندگی تعمیر کرنا ہی حکمت ہے۔
اقبال کا سبق یہ ہے کہ باقی ماندہ دم کی حفاظت کے بغیر سوز کی واپسی ممکن نہیں۔
مثال
جیسے بجھی ہوئی آگ میں اگر تھوڑی سی چنگاری اور گرمائش باقی ہو تو صحیح حفاظت سے شعلہ پھر اٹھ سکتا ہے، ویسے ہی قوم کے باقی ماندہ دم سے بھی نئی زندگی پیدا ہو سکتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا اصل سوز کم ہو گیا تھا، مگر ان کے سینے میں کچھ دم باقی رہا۔ یہی باقی رمق قوم کی بقا اور مستقبل کے امکان کا حقیقی سرمایہ بنتی ہے۔

