رموز بے خودی

سطوت کسری و قیصر رهزنش

سطوت کسری و قیصر رهزنش

بند ها در دست و پا و گردنش

ترجمہ

کسریٰ اور قیصر کی ہیبت اس کی راہ زن بنی ہوئی تھی، اور اس کے ہاتھ، پاؤں اور گردن میں زنجیریں پڑی ہوئی تھیں۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں دو عظیم سلطنتوں، ایران و روم، کو علامت کے طور پر لاتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسئلہ صرف دو مخصوص بادشاہوں کا نہیں، بلکہ ہر اس سیاسی نظام کا ہے جو انسان کی راہ روک کر اسے زنجیروں میں جکڑ دے۔ “کسری” اور “قیصر” یہاں استبدادی قوت، سلطنتی غرور اور انسان دشمن جبر کی نمائندہ تصویریں ہیں۔ شعر کے مطابق:

سطوتِ کسری و قیصر:

“سطوت” صرف طاقت نہیں بلکہ وہ دہشت بھی ہے جو طاقت کے گرد بن جاتی ہے۔ جب سلطنتیں اپنے وجود کو مطلق سمجھنے لگیں تو ان کی ہیبت عام انسان کے دلوں پر چھا جاتی ہے۔ اقبال کے نزدیک ایسی ہیبت صرف سیاسی نظم قائم نہیں کرتی بلکہ آزادی کے امکان کو بھی دبا دیتی ہے۔ انسان سوچنے، بولنے اور اپنے اصل مقام کو پہچاننے سے محروم ہو جاتا ہے۔

گویا جبر پہلے خوف بنتا ہے، پھر خوف زنجیر بن جاتا ہے۔

راہ زن ہونے کا مفہوم:

راہ زن وہ ہے جو راستہ لوٹ لے۔ اقبال کی نظر میں استبدادی سلطنتیں انسان سے صرف اس کی محنت یا رزق نہیں چھینتیں، بلکہ اس کا راستہ چھینتی ہیں۔ اس کی ترقی، اس کی خودی، اس کی روحانی حرکت اور اس کا تاریخی امکان لوٹ لیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ شاعر ظلم کو صرف قید نہیں کہتے، رہزنی کہتے ہیں۔ ظلم انسان کی منزل چوری کر لیتا ہے۔

بند در دست و پا و گردن:

یہ تصویر مکمل غلامی کی ہے۔ ہاتھ بند ہوں تو عمل محدود ہوتا ہے، پاؤں بند ہوں تو حرکت رک جاتی ہے، اور گردن بند ہو تو وقار اور آزادی دونوں زخمی ہوتے ہیں۔ اقبال دکھاتے ہیں کہ استبداد نے انسان کی پوری شخصیت کو گھیر رکھا تھا: اس کے عمل کو بھی، اس کی حرکت کو بھی، اور اس کی عزت کو بھی۔

یعنی ظلم جزوی نہیں، ہمہ گیر تھا۔

رسالت کا سیاسی معنی:

یہ شعر اس بات کا مقدمہ ہے کہ محمدی رسالت کا اثر صرف خانقاہی یا فردی نہ تھا، بلکہ اس نے سلطنتی جبر کے مقابل ایک نئی انسانی بنیاد قائم کی۔ جب انسان کو یہ بتایا گیا کہ سب بندگی صرف خدا کے لیے ہے، تو قیصر و کسریٰ کی خدائی متزلزل ہوئی۔ یہی اعلان بعد میں حریت اور مساوات کی راہ کھولتا ہے۔

اقبال کے نزدیک رسالت انسان کی روح کو بھی آزاد کرتی ہے اور اس کے سیاسی امکان کو بھی۔

آج کے لیے سبق:

آج کسریٰ و قیصر کی صورتیں بدل گئی ہیں۔ کبھی یہ ریاستی جبر ہے، کبھی سرمایہ دارانہ تسلط، کبھی عالمی طاقت کا دباؤ، کبھی ادارہ جاتی استبداد۔ مگر اصول وہی ہے: جب طاقت انسان کا راستہ روک لے اور اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دے تو نبوی پیغام پھر آزادی کی ضرورت بن جاتا ہے۔

اقبال ہمیں سکھاتے ہیں کہ ظلم کی بڑی طاقت بھی اس وقت لرزتی ہے جب انسان اپنی اصل بندگی خدا کے ساتھ جوڑ لے۔

مثال

اگر کسی معاشرے میں قانون طاقت ور طبقے کے لیے ہو اور عام آدمی ہر قدم پر ڈرا ہوا اور محدود ہو، تو اس کے ہاتھ، پاؤں اور گردن بظاہر آزاد ہوتے ہوئے بھی بند ہوتے ہیں۔ یہی جدید زنجیر ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق قیصر و کسریٰ کی ہیبت نے انسان کا راستہ لوٹ لیا تھا اور اسے مکمل غلامی میں جکڑ رکھا تھا۔ محمدی رسالت کی آزادی اسی سلطنتی خدائی کو توڑ کر انسان کے وقار کو بحال کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button