نعره ی حیدر نوای بوذر است
نعره ی حیدر نوای بوذر است
گرچه از حلق بلال و قنبر است
ترجمہ
حیدر کی للکار ہی ابوذر کی صدا ہے، اگرچہ وہ بلال اور قنبر کے حلق سے بلند ہو۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں اسلامی اخوت اور مساوات کا ایک نہایت بلند منظر پیش کرتے ہیں۔ مختلف صحابہ اور اہلِ بیت کے مزاج، رنگ، سماجی پس منظر اور تاریخی شخصیات الگ الگ ہیں، مگر ان کے درمیان ایک ایسا روحانی آہنگ ہے کہ ایک کی صدا دوسرے کی صدا معلوم ہوتی ہے۔ شعر کے مطابق:
حیدر اور ابوذر کی نسبت:
حیدر شجاعت، جرات اور قوت کی علامت ہیں، جبکہ ابوذر زہد، صداقت، فقر اور حق گوئی کی علامت۔ اقبال یہ کہہ کر کہ “نعرهٔ حیدر نوای بوذر است” ظاہر کرتے ہیں کہ اسلامی جماعت میں طاقت اور حق گوئی، شجاعت اور فقر، عمل اور صدق ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ مختلف رنگوں کے باوجود ان سب کا سرچشمہ ایک ہے۔
گویا اسلامی اخوت افراد کو ایک ہی اخلاقی دھڑکن میں باندھ دیتی ہے۔
بلال و قنبر کا ذکر:
بلال اور قنبر دونوں ایسے نام ہیں جو نسلی، طبقاتی یا سماجی برتری کے باطل معیاروں کو توڑتے ہیں۔ ان کے “حلق” سے وہی صدا بلند ہونا اس مساوات کی نشانی ہے جو اسلام نے قائم کی: شرف آواز کے مقام سے نہیں، اس کے سرچشمے سے ہے۔ اگر صدا حق کی ہو تو اسے بلند کرنے والا حبشی ہو یا غلام پس منظر رکھتا ہو، وہی ملت کی آواز بن جاتی ہے۔
یہی محمدی مساوات کا جیتا جاگتا استعارہ ہے۔
آواز کی وحدت:
اس شعر میں مختلف شخصیات کے ذریعے ایک بڑے اصول کو ظاہر کیا گیا ہے: ملت کی اصل آواز ایک ہوتی ہے، اگرچہ اسے ادا کرنے والے مختلف ہوں۔ اخوت کا مطلب یہی ہے کہ حق، عدل، شجاعت اور وفا مختلف گلے، زبانوں اور سماجی مقامات سے نکل کر بھی ایک ہی صدا معلوم ہوں۔
اگر یہ وحدت باقی رہے تو امت کی کثرت حسن بن جاتی ہے، خطرہ نہیں۔
اخوت اور مساوات کا جمال:
اقبال کا کمال یہ ہے کہ وہ مساوات کو خشک جملے میں نہیں، زندہ نسبتوں میں دکھاتے ہیں۔ حیدر، ابوذر، بلال، قنبر: سب الگ پس منظر، مگر ایک آہنگ۔ یہی وہ اخوت ہے جس میں کسی کی زبان چھوٹی نہیں، کسی کا نسب فیصلہ کن نہیں، اور کسی کی سماجی حیثیت اس کی روحانی آواز کو کم نہیں کرتی۔
یہی نبوی جماعت کی تہذیبی خوب صورتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کے اندر نام، حلقے، نسب، قومیت اور جماعتی پس منظر کئی بار اصل پیغام سے بڑا ہو جاتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر ہماری صدا واقعی نبوی ہو تو اسے بلند کرنے والے کے طبقے یا رنگ سے اس کی قدر کم نہیں ہوتی۔ اصل سوال آواز کا سرچشمہ ہے۔
اخوت اسی وقت سچی ہوگی جب ہم حق کی صدا کو مختلف حلقوں سے آتے ہوئے بھی ایک ملت کی صدا سمجھیں۔
مثال
کسی اچھی تحریک میں بڑے مقرر اور عام کارکن کی زبان الگ ہو سکتی ہے، مگر اگر دونوں ایک ہی سچائی اور ایک ہی اصول سے بول رہے ہوں تو سننے والا بنیادی آہنگ ایک ہی محسوس کرتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق اسلامی اخوت مختلف مزاجوں، نسلوں اور مقامات کے لوگوں کو ایک ہی اخلاقی آواز میں جوڑ دیتی ہے۔ یہی مساوات ہے کہ حق کی صدا کسی بھی حلق سے بلند ہو، وہ ملت کی صدا بن سکتی ہے۔