هر که از قید جهات آزاد شد
هر که از قید جهات آزاد شد
چون فلک در شش جهت آباد شد
ترجمہ
جو شخص سمتوں کی قید سے آزاد ہو گیا، وہ آسمان کی طرح چھ سمتوں میں آباد ہو گیا۔
تشریح
اقبال اس شعر میں آزادی کو انتہائی بلند آفاقی معنی دیتے ہیں۔ پچھلے شعر میں وہ مقام کی قید توڑنے کی بات کر رہے تھے، اب دائرہ اور بڑھا دیتے ہیں: صرف ایک جگہ نہیں، جہات کی ساری تقسیم سے اوپر اٹھو۔ جو خودی اپنی حقیقت کو مشرق و مغرب، شمال و جنوب، اوپر و نیچے جیسی حد بندیوں میں قید نہیں کرتی، وہ فلک کی طرح ہر طرف وسعت، اثر اور آبادی پیدا کرتی ہے۔ شعر کے مطابق:
قیدِ جهات:
“جهات” صرف جغرافیائی سمتیں نہیں، بلکہ ہر وہ خانہ بندی ہے جو انسان کو محدود کر دے۔ یہ قومیت ہو سکتی ہے، مسلکی تنگی، تہذیبی غرور، طبقاتی قید، نسلی احساس، یا فکری جمود۔ اقبال کہتے ہیں کہ جب تک خودی ان خانوں میں اپنی آخری تعریف ڈھونڈتی رہے گی، وہ آسمانی وسعت حاصل نہیں کر سکتی۔
سمتیں رہنمائی کے لیے اچھی ہیں، مگر اگر وہ شناخت کی جیل بن جائیں تو رشد رک جاتی ہے۔
آزاد شد:
یہ آزادی لاابالی پن نہیں، بلکہ بڑی نسبت کا شعور ہے۔ آدمی جب حق، توحید، رسالت اور مقصد کے بڑے افق سے جڑتا ہے تو چھوٹی سمتیں اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں مگر اس پر غالب نہیں رہتیں۔ وہ کسی ایک طرف کا آدمی نہیں رہتا؛ وہ جہاں بھی ہو، حق کا آدمی رہتا ہے۔
بڑی نسبت چھوٹی نسبتوں کو مٹاتی نہیں، ان کی حد متعین کرتی ہے۔
چون فلک:
فلک کا استعارہ بہت گہرا ہے۔ آسمان کسی ایک گوشے کی ملکیت نہیں، سب پر سایہ کیے ہوئے ہے۔ اس کی موجودگی ہر سمت میں ہے۔ اقبال مسلم کی خودی کو اسی وسعت، اسی رفعت اور اسی ہمہ گیری کی طرف بلاتے ہیں۔ آسمان کا کام نیچے کے اختلافات میں قید ہونا نہیں، ان سب پر محیط ہونا ہے۔
جو خودی فلک سے نسبت چاہتی ہے، اسے زمینی تعصبات سے اوپر اٹھنا پڑتا ہے۔
در شش جهت آباد شد:
چھ جہات میں آباد ہونے کا مطلب ہے کہ اس کی تاثیر ہر طرف پھیل گئی، اس کا ظرف ہر جانب کھل گیا، اور وہ ایک محدود دائرے کی چیز نہ رہا۔ ایسا انسان جہاں بھی جائے خیر لے کر جاتا ہے، جس ماحول میں بھی رہے اس میں معنی پیدا کرتا ہے، اور کسی ایک سمت کا اسیر نہیں بنتا۔ اس کی موجودگی آفاقی ہو جاتی ہے۔
اصل آبادی وہ ہے جو وجود کے ہر رخ میں روشنی پیدا کرے۔
آج کے لیے سبق:
آج کی دنیا شناختوں کے تنازعات سے بھری ہوئی ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی سمت، جھنڈے، نعرے یا تنگ دائرے میں کھینچا جا رہا ہے۔ اقبال کا شعر دل کو بڑا کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنی اصل وفاداری کو اتنا بلند رکھو کہ تم ہر سمت میں خیر، عدل اور وسعت کے حامل بنو۔ اگر تم صرف ایک سمت کے آدمی بن گئے تو باقی سمتیں تم سے خالی ہو جائیں گی۔
اسلامی خودی کی عظمت یہ ہے کہ وہ کسی ایک جہت کی اسیر نہیں بلکہ حق کی وجہ سے سب جہتوں میں آباد ہوتی ہے۔
مثال
ایک عالم یا قائد اگر صرف اپنے گروہ کی زبان بولے تو اس کا اثر محدود رہتا ہے، مگر اگر وہ حق، عدل اور خیر کے اصول پر کھڑا ہو کر مختلف طبقات، زبانوں اور علاقوں تک فائدہ پہنچائے تو وہ واقعی کئی جہتوں میں آباد ہو جاتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق جو خودی تنگ سمتوں اور خانہ بندیوں کی قید سے آزاد ہو جاتی ہے، وہ آسمان کی طرح ہر جہت میں اثر اور آبادی پیدا کرتی ہے۔ حقیقی وسعت یہی ہمہ جہتی آزادی ہے۔