رموز بے خودی

اسود از توحید احمر می شود

اسود از توحید احمر می شود

خویش فاروق و ابوذر می شود

ترجمہ

سیاہ بھی توحید کی تاثیر سے سرخ و روشن ہو جاتا ہے، اور اپنے اندر فاروق اور ابوذر جیسی شان پیدا کر لیتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں توحید کی انقلابی قوت کو صحابۂ کرام کی دو عظیم مثالوں کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔ “اسود” اور “احمر” کے الفاظ سے وہ تاریکی سے روشنی، جمود سے حرارت، اور بےنامی سے عظمت کی طرف سفر کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

اسود سے احمر تک سفر:

“اسود” سیاہی، گمنامی، یا کمزوری کی علامت سمجھا جا سکتا ہے، جبکہ “احمر” سرخی، حرارت، زندگی اور نمایاں شان کی علامت ہے۔ اقبال یہ کہتے ہیں کہ توحید ایسی تاثیر رکھتی ہے جو ایک معمولی، دبی ہوئی یا غیر نمایاں ہستی کو بھی حرارت، وقار اور تابندگی عطا کر سکتی ہے۔ یہ تبدیلی محض سماجی نہیں بلکہ باطنی اور اخلاقی انقلاب ہے۔

یعنی توحید انسان کے رنگ کو ظاہری معنی میں نہیں بلکہ اس کی روح کے رنگ کو بدل دیتی ہے، اسے جرات، غیرت اور روشن کردار عطا کرتی ہے۔

فاروق کی شان:

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حق و باطل میں امتیاز، قوتِ فیصلہ، عدل، ہیبت اور نظم کے استعارے ہیں۔ اقبال کا اشارہ یہ ہے کہ توحید انسان کے اندر ایسی اخلاقی صلابت پیدا کرتی ہے کہ وہ باطل کے سامنے ڈگمگاتا نہیں۔ اس کی شخصیت میں وقار، جرات اور فیصلہ مندی پیدا ہو جاتی ہے۔

یہ وہ کیفیت ہے جس میں آدمی اپنے ضمیر کو دنیاوی خوف کے ہاتھ فروخت نہیں کرتا بلکہ حق کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہتا ہے۔

ابوذر کی شان:

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ زہد، صداقت، بےلاچاری کی نفی، اور عدل اجتماعی کے درد کی علامت ہیں۔ اقبال جب “ابوذر” کا نام لیتے ہیں تو وہ ایسی روح کا تصور سامنے لاتے ہیں جو دنیا کی چمک سے مرعوب نہ ہو، سچ کو کھل کر کہے، اور محروموں کے درد کو اپنے دل میں رکھے۔

اس طرح توحید انسان کو صرف طاقت ور نہیں بناتی، بلکہ اسے عادل، بےنیاز اور حق گو بھی بناتی ہے۔

توحید کی جامع تبدیلی:

اس شعر کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں قوت اور فقر، ہیبت اور صداقت، نظم اور بےنیازی ایک ساتھ جمع ہو جاتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک کامل مسلمان وہی ہے جس میں فاروقی صلابت بھی ہو اور ابوذر ی سادگی و حق گوئی بھی۔ توحید شخصیت کو یک رخی نہیں چھوڑتی بلکہ اسے متوازن عظمت دیتی ہے۔

یعنی آدمی میں صرف جوش نہیں بلکہ عدل بھی، صرف جرات نہیں بلکہ اخلاص بھی، صرف اقتدار نہیں بلکہ جواب دہی بھی پیدا ہوتی ہے۔

ملت کی تعمیر کے لیے نمونہ:

اقبال امت کو بتاتے ہیں کہ اس کی اصل تربیت یہی ہے کہ وہ اپنے افراد میں ایسی صفات پیدا کرے جو صحابہ کے نمونوں سے روشنی لیں۔ کوئی قوم صرف نعروں سے عظیم نہیں بنتی، بلکہ ایسے انسانوں سے بنتی ہے جن میں عدل، حق گوئی، بےنیازی اور عملی جرات جمع ہو۔ توحید ہی وہ بنیاد ہے جس سے یہ صفات یکجا پیدا ہوتی ہیں۔

پس اس شعر میں فرد کی تبدیلی کے ساتھ پوری امت کی اخلاقی تعمیر کا راستہ بھی موجود ہے۔

مثال

ایک معمولی آدمی جب کسی بڑے اصول سے سچی وابستگی اختیار کر لیتا ہے تو وہ ایسے فیصلے کر سکتا ہے جن سے بڑے بڑے صاحبِ اقتدار بھی ڈر جاتے ہیں۔ اصل قوت اس کے منصب سے نہیں بلکہ اس یقین سے آتی ہے جس نے اسے اندر سے بدل دیا ہوتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق توحید معمولی انسان کو بھی روشن، گرم اور باوقار بنا دیتی ہے، یہاں تک کہ اس میں فاروقی عدل اور ابوذر ی صداقت و بےنیازی کی جھلک پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی توحید کی حقیقی انقلابی تاثیر ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button