نا امیدی ہمچو گور افشاردت
نا امیدی ہمچو گور افشاردت
گرچہ الوندی ز پا می آردت
ترجمہ
ناامیدی تجھے قبر کی طرح دبا دیتی ہے، چاہے تو بظاہر الوند پہاڑ جیسا طاقت ور ہی کیوں نہ ہو۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں ناامیدی کی تباہ کن قوت کو نہایت شدید اور ہلا دینے والی تصویر میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یأس انسان کو ایسے دباتی ہے جیسے قبر مردے کو دباتی ہے، اور یہ باطنی شکست اس قدر سخت ہے کہ اگر کوئی شخص ظاہری طور پر الوند پہاڑ جیسی قوت رکھتا ہو، تب بھی ناامیدی اسے گرا سکتی ہے۔ شعر کے مطابق:
قبر کی مانند دبانا:
قبر کا استعارہ یہاں نہایت معنی خیز ہے۔ قبر میں حرکت ختم ہو جاتی ہے، امکانات رک جاتے ہیں، اور انسان دنیا کے عمل سے کٹ جاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک ناامیدی بھی جیتے جی انسان کو ایسی ہی حالت میں لے جاتی ہے۔ وہ بولتا ہے مگر اس کے الفاظ میں جان کم ہوتی ہے، چلتا ہے مگر اس کے قدم میں رخ کم ہوتا ہے، اور جیتا ہے مگر اس کے اندر کا ولولہ دب چکا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شاعر نے ناامیدی کو صرف ایک کمزوری نہیں بلکہ ایک زندہ دفن ہو جانے والی کیفیت کے طور پر پیش کیا ہے۔
ظاہری قوت کی بےبسی:
“الوندی” پہاڑ جیسی مضبوطی کی علامت ہے۔ اقبال یہاں بتاتے ہیں کہ مسئلہ صرف جسمانی طاقت، وسائل یا ظاہری رعب کا نہیں۔ اگر باطن ناامید ہو جائے تو ظاہری قوتیں بھی انسان کو سنبھال نہیں سکتیں۔ کتنے ہی طاقت ور لوگ اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں، اور کتنی ہی قومیں وسائل رکھتے ہوئے بھی ناامیدی کے باعث کمزور پڑ جاتی ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ اصل طاقت باطن کی طاقت ہے، اور ناامیدی پہلے اسی جڑ پر وار کرتی ہے۔
یأس کی نفسیاتی گرفت:
ناامیدی انسان کے ذہن، احساس اور ارادے کو ایک ساتھ متاثر کرتی ہے۔ وہ اسے یہ باور کراتی ہے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا، واپسی ممکن نہیں، محنت بےکار ہے، اور اصلاح کا در بند ہو چکا ہے۔ جب یہ خیال دل پر چھا جائے تو انسان اپنے ہی امکانات کو دفن کر دیتا ہے۔
یہی دباؤ اس کی روح کو قبر کی تنگی کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ اقبال اسی باطنی گرفت سے خبردار کرتے ہیں، کیونکہ یہ گرفت اکثر آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہے اور انسان کو اس کا پورا شعور بھی نہیں ہوتا۔
توحید کی روشنی میں نجات:
چونکہ اقبال اس پورے `بخش` میں توحید کو علاج بتا رہے ہیں، اس لیے اس شعر کا مثبت پہلو بھی واضح ہے۔ اگر ناامیدی قبر ہے تو توحید اس قبر سے نکالنے والی روشنی ہے۔ بندہ جب اپنے رب کی رحمت، قدرت اور قربت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ اپنے حالات کو آخری فیصلہ نہیں سمجھتا۔ اس کے لیے زندگی کے دروازے دوبارہ کھلتے ہیں۔
پس یأس کا مقابلہ صرف نفسیاتی تلقین سے نہیں بلکہ ایمانی یقین سے ہوتا ہے۔ یہی یقین انسان کے دبے ہوئے باطن کو دوبارہ زندہ کرتا ہے۔
فرد اور ملت کے لیے تنبیہ:
یہ شعر فرد کو بھی جھنجھوڑتا ہے اور ملت کو بھی۔ فرد چاہے صلاحیت مند ہو، اگر ناامید ہو جائے تو دب جاتا ہے۔ قوم چاہے تاریخ، تعداد یا وسائل رکھتی ہو، اگر اس کا ضمیر یأس کے بوجھ تلے دب جائے تو اس کی حرکت رک جاتی ہے۔ اقبال اس قبر نما کیفیت سے نکلنے کے لیے امید، ایمان اور جد و جہد کی طرف لوٹنے کا اشارہ دیتے ہیں۔
یہی ان کا مقصد ہے: ظاہری قوت سے زیادہ باطنی بیداری کو اصل قوت سمجھنا۔
مثال
ایک مضبوط عمارت بھی اگر اندر سے بنیاد کھو دے تو باہر سے قائم دکھائی دینے کے باوجود ایک دن بیٹھ جاتی ہے۔ اسی طرح انسان بظاہر مضبوط ہو سکتا ہے، مگر ناامیدی اس کی اندرونی بنیاد کو دبا دیتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق ناامیدی انسان کو قبر کی طرح دبا دیتی ہے، چاہے وہ بظاہر کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو۔ اصل نجات توحیدی امید اور باطنی یقین میں ہے، جو اس دفن ہوتی ہوئی زندگی کو دوبارہ اٹھا سکتی ہے۔
