رموز بے خودی

سجده ی حق گل بسیمایش زده

سجده ی حق گل بسیمایش زده

ماه و انجم بوسه بر پایش زده

ترجمہ

اس کے چہرے پر حق کے سجدے نے پھول کھلا دیے ہیں، اور چاند و ستارے بھی اس کے قدموں پر بوسہ دیتے ہیں۔

تشریح

علامہ اقبال بخش ۱۰ کے آخری شعر میں محمدی امت کے انسان کی ایک نہایت جمالیاتی اور روحانی تصویر پیش کرتے ہیں۔ یہاں آزادی، مساوات اور اخوت کا نچوڑ ایک ایسے انسان میں ظاہر ہوتا ہے جو حق کے سامنے سجدہ گزار ہے، اور اسی بندگی کے باعث اس کے اندر ایسا جمال اور وقار پیدا ہو جاتا ہے کہ کائنات کی علامتیں بھی گویا اس کے احترام میں جھکنے لگتی ہیں۔ شعر کے مطابق:

سجدۂ حق کا گل بن جانا:

سجدہ یہاں صرف جسمانی عبادت نہیں، بلکہ مکمل سپردگی، تواضع اور بندگی کی علامت ہے۔ جب انسان سچے دل سے خدا کے سامنے جھکتا ہے تو اس کے چہرے پر ذلت نہیں آتی، بلکہ گل کھلتے ہیں۔ اقبال اس سے یہ عظیم حقیقت دکھاتے ہیں کہ حق کے سامنے جھکنا انسان کو کم نہیں کرتا، بلکہ اسے حسن، نور اور وقار عطا کرتا ہے۔

یعنی محمدی آزادی کا راز سرکشی میں نہیں، سجدۂ حق میں ہے۔

بسیمایش کی لطافت:

چہرہ انسان کے باطن کی ترجمانی کرتا ہے۔ اگر سجدے نے چہرے پر گل کھلا دیے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بندگی نے اس کے اندر خشکی نہیں بلکہ تازگی، نرمی، روشنی اور روحانی حسن پیدا کیا ہے۔ یہ وہی انسان ہے جو آزاد بھی ہے، مگر باادب؛ باوقار بھی ہے، مگر متکبر نہیں؛ مضبوط بھی ہے، مگر رحمت سے خالی نہیں۔

اقبال کے نزدیک یہی نبوی انسان کا اصل چہرہ ہے۔

ماه و انجم کا بوسہ:

چاند اور ستارے کائنات کے جمال اور رفعت کی علامت ہیں۔ ان کا بوسہ دینا شعری مبالغہ ضرور ہے، مگر اس کے پیچھے ایک گہرا نکتہ ہے: جو انسان خدا کے سامنے سچا بندہ بن جائے، وہ کائنات میں ذلیل نہیں رہتا بلکہ معزز ہو جاتا ہے۔ سجدہ اسے نیچا نہیں کرتا، کائنات کی سطح پر بھی اس کا مقام بلند کرتا ہے۔

یہی اقبال کی حریت کا آخری کمال ہے کہ بندگی سے بزرگی پیدا ہوتی ہے۔

حریت، مساوات، اخوت کا نچوڑ:

اس شعر میں اگرچہ براہِ راست آزادی، برابری اور بھائی چارے کے الفاظ نہیں، مگر تینوں کا نچوڑ موجود ہے۔ جو حق کے سامنے جھکا ہو، وہ غیر اللہ کے آگے نہیں جھکے گا، یہی حریت ہے۔ جو اپنے وقار کو خدا سے لے، وہ نسبی تکبر سے آزاد ہوگا، یہی مساوات ہے۔ اور جو بندگیِ حق میں جمال پائے، اس کے اندر دوسروں کے لیے رحمت بھی ہوگی، یہی اخوت ہے۔

گویا بخش کا آخری شعر پورے مضمون کو ایک جمالیاتی انجام دیتا ہے۔

آج کے لیے پیغام:

آج آزادی کو اکثر خدا سے بے نیاز خود مختاری سمجھا جاتا ہے، جبکہ اقبال اس کے برعکس راستہ دکھاتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کا سچا وقار اسی وقت کھلتا ہے جب وہ خدا کے سامنے جھکے۔ اگر سجدہ زندہ ہو تو چہرہ بھی گلزار ہوتا ہے، کردار بھی بلند ہوتا ہے، اور اجتماع بھی روشن۔

محمدی انسان کی ساری بلندی اسی راز میں ہے کہ اس کی پیشانی زمین پر جاتی ہے، تبھی اس کا مقام آسمانوں میں بنتا ہے۔

مثال

کبھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک سچا، متواضع اور عبادت گزار انسان بغیر شور کے بھی باوقار محسوس ہوتا ہے۔ لوگ اس کی نرمی میں کمزوری نہیں، ایک خاص نور اور وزن دیکھتے ہیں۔ یہی شعر کی عملی جھلک ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق حق کے سامنے سجدہ انسان کے چہرے پر گل اور اس کے وجود میں وقار پیدا کرتا ہے۔ محمدی حریت کا آخری راز یہی ہے کہ بندگیِ حق انسان کو ذلت نہیں، حقیقی بلندی عطا کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button