رموز بے خودی

همچو جو سرمایه از باران مخواه

همچو جو سرمایه از باران مخواه

بیکران شو در جهان پایان مخواه

ترجمہ

نہر کی طرح اپنی ساری پونجی بارش سے طلب نہ کر؛ خود بیکراں ہو جا، اور اس دنیا میں کسی محدود اختتام کا طالب نہ رہ۔

تشریح

اقبال اس شعر میں انحصار، محدود ذریعہ، اور چھوٹے دائرے سے آزاد ہو کر خود اپنی وسعت پیدا کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ جو یا جویبار بارش پر منحصر ہوتی ہے، وہ موسم کے رحم و کرم پر رہتی ہے۔ اس کے مقابلے میں سمندر خود اپنی وسعت رکھتا ہے۔ اقبال مسلم کو جویبار کی محدود انحصاری کیفیت سے نکال کر بحر کی بے پایاں وسعت کی طرف بلاتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

جو اور باران:

جو، یعنی چھوٹی نہر یا بہتی ہوئی باریک دھار، اپنی زندگی کے لیے بارش کی محتاج رہ سکتی ہے۔ بارش نہ ہو تو وہ سوکھنے لگتی ہے۔ اقبال اس سے مراد وہ شخصیت یا ملت لیتے ہیں جو اپنے وجود، حرکت، فکر یا حوصلے کے لیے ہمیشہ بیرونی سہاروں کی منتظر ہو۔ ایسی حالت میں خودی خود مختار نہیں رہتی۔

جو وجود اپنے مرکز سے نہیں جیتا، وہ ہر وقت باہر کی طرف دیکھتا رہتا ہے۔

سرمایہ از باران مخواه:

یہاں سرمایہ صرف مالی یا مادی وسیلہ نہیں، بلکہ حوصلہ، فکر، حرارت، وقار اور حرکت کا سرچشمہ بھی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اپنی اصل متاع ہمیشہ باہر سے طلب نہ کرو۔ جو قوم یا فرد صرف بیرونی مدد، بیرونی تصدیق، بیرونی موقع یا بیرونی قوت پر چلتا ہے، وہ اندر سے کمزور رہتا ہے۔

خودی کی سب سے بڑی پختگی یہ ہے کہ اس کا مرکز اس کے اندر روشن ہو۔

بیکران شو:

یہ شعر کا قلب ہے۔ بیکراں ہونا یعنی وسعت اختیار کرنا، خود کو بڑے پیمانے پر سمجھنا، اپنے امکان کو بڑھانا، اور اپنی روحانی و اخلاقی گہرائی میں اضافہ کرنا۔ اقبال مسلم کو محدود انحصار سے نکال کر ایسی کیفیت کی طرف بلاتے ہیں جہاں وہ خود بحر کی طرح قوت کا سرچشمہ بنے۔

وسعت مانگنے والے کو پہلے اپنے اندر ظرف بڑھانا پڑتا ہے۔

پایان مخواه:

اس مصرعے میں اقبال کی ہمیشگی پسند خودی سامنے آتی ہے۔ محدود مقصد، چھوٹی منزل، یا فوری اختتام پر قناعت کرنا بڑی روح کے شایانِ شان نہیں۔ مسلم کو ایسی زندگی چاہیے جو ایک منزل پا کر سو نہ جائے، بلکہ ہر وسعت کے بعد اگلی وسعت کی طالب رہے۔ یہ لامحدود طلب محض دنیاوی حرص نہیں، بلکہ کمال کی روحانی جستجو ہے۔

بڑا انسان اختتام کو آرام نہیں، اگلے افق کی دہلیز سمجھتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی قوت، اعتماد اور حرکت کے لیے باہر کے اشاروں کے منتظر رہتے ہیں: تعریف ملے تو چلیں، مدد ملے تو کام کریں، موقع ملے تو اٹھیں۔ اقبال کا پیغام اس کے برعکس ہے: اپنے اندر ایسا بحر پیدا کرو کہ تمہاری حرکت موسمی بارشوں کی محتاج نہ رہے۔ جو خودی اپنے اندر قوت پیدا کر لے، وہ مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔

اسلامی خودی کی اصل شان یہی ہے کہ وہ اپنے اندر سے وسعت، حرکت اور بے پایاں طلب کا سرچشمہ پیدا کرے۔

مثال

ایک ادارہ یا شخص اگر صرف مدد، شہرت یا حالات کے سازگار ہونے پر ہی متحرک ہو، تو اس کی رفتار ٹوٹتی رہتی ہے۔ لیکن اگر اس کے اندر اپنا نظم، اپنا حوصلہ اور اپنا مستقل مقصد ہو، تو وہ کم وسائل میں بھی آگے بڑھتا رہتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق مسلمان کو بیرونی سہاروں کی محدود محتاجی سے نکل کر اپنے اندر بحر جیسی وسعت پیدا کرنی چاہیے۔ جو خود بیکراں ہو جائے، وہ چھوٹے اختتام اور موسمی سرمائے پر قانع نہیں رہتا۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button