پرده ی زور و ریا پیراهنش
پرده ی زور و ریا پیراهنش
فتنه را آغوش مادر دامنش
ترجمہ
زور اور ریا کا پردہ اس کا لباس ہے، اور اس کا دامن فتنے کے لیے ماں کی آغوش کی مانند ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں خوف کے اخلاقی اور اجتماعی نتائج کی تصویر کو اور زیادہ سختی سے مکمل کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خوف ایسا مرض ہے جو باہر سے جبر، ریا اور دکھاوے کا لباس پہنتا ہے، اور اندر سے فتنے کو پرورش دیتا ہے۔ یہ شعر فردی کمزوری سے آگے بڑھ کر معاشرتی فساد کے میکانزم کو بھی سمجھاتا ہے۔ شعر کے مطابق:
زور کا پردہ:
بعض اوقات جو شخص اندر سے خوف زدہ ہوتا ہے، وہ اس خوف کو چھپانے کے لیے زور، سختی یا جارحانہ انداز اختیار کرتا ہے۔ اقبال اسی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یعنی ہر سختی حقیقی قوت کی علامت نہیں، کبھی وہ اندرونی خوف پر ڈالا گیا ایک پردہ بھی ہوتی ہے۔
یہ بات فرد پر بھی صادق آتی ہے اور حکومتوں، جماعتوں اور معاشروں پر بھی۔ بہت سا جبر اس باطن سے پیدا ہوتا ہے جو خود ڈرا ہوا ہو اور اپنی کمزوری کو سختی سے چھپانا چاہتا ہو۔
ریا بطور لباس:
ریا یعنی دکھاوا، بناوٹ، اور وہ چہرہ جو حقیقت کو چھپا کر پیش کیا جائے۔ اقبال کہتے ہیں کہ خوف کا لباس ریا ہے، کیونکہ ڈرا ہوا دل اکثر سچائی کے بجائے بناوٹ اختیار کرتا ہے۔ وہ ظاہر میں کچھ اور دکھاتا ہے اور اندر سے کچھ اور ہوتا ہے۔
یہی ریا انسان کی شخصیت کو دو حصوں میں بانٹ دیتی ہے۔ پھر اس کے الفاظ، اس کی عبادت، اس کی سیاست یا اس کا اخلاق، سب میں ایک داخلی دوغلا پن پیدا ہو سکتا ہے۔ توحید اس کے برعکس ظاہر و باطن کو ایک کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔
فتنے کی پرورش:
شعر کا دوسرا مصرع نہایت شدت رکھتا ہے۔ اگر خوف زور اور ریا کو جنم دیتا ہے تو آگے بڑھ کر فتنہ بھی اسی کے دامن میں پروان چڑھتا ہے۔ کیونکہ جہاں جبر ہو، وہاں صداقت کم ہوتی ہے؛ جہاں ریا ہو، وہاں اعتماد ٹوٹتا ہے؛ اور جہاں اعتماد ٹوٹے، وہاں فتنہ کے لیے زرخیز فضا پیدا ہو جاتی ہے۔
اقبال نے “آغوش مادر” کہہ کر یہ دکھایا کہ خوف فتنے کو صرف جگہ نہیں دیتا، بلکہ اسے اپنے اندر پالنے والی کیفیت بھی بن جاتا ہے۔ یہ ایک گہری سماجی تشخیص ہے۔
فرد سے معاشرہ تک:
فرد کے دل میں بیٹھا خوف اگر درست نہ کیا جائے تو وہ جھوٹ، ریا، سختی اور کینہ پیدا کرتا ہے۔ یہی چیزیں جب اجتماعی سطح پر جمع ہوں تو معاشرہ فتنہ خیز ہو جاتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے، ظاہر و باطن الگ ہو جاتے ہیں، اور طاقت سچائی کی جگہ لینے لگتی ہے۔ اقبال دراصل دل کی بیماری سے سماج کے فساد تک کا راستہ دکھا رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ وہ اس مسئلے کو صرف اخلاقی نصیحت کی سطح پر نہیں رکھتے بلکہ حیاتِ ملت کے ایک بنیادی مسئلے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
توحید کا اجتماعی اثر:
اگر خوف اجتماعی فتنے کا سرچشمہ بن سکتا ہے تو توحید اجتماعی صداقت، امانت اور وقار کا سرچشمہ بن سکتی ہے۔ جب دلوں میں خدا کا خوف اور غیر اللہ سے آزادی پیدا ہوتی ہے تو زور کے پردے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، ریا کی بناوٹ ٹوٹنے لگتی ہے، اور فتنہ پالنے والی فضا سکڑتی ہے۔
یہی وہ تبدیلی ہے جسے اقبال امت کے لیے ضروری سمجھتے ہیں: باطن درست ہو تو ظاہر میں عدل، اعتماد اور خیر بھی بڑھتا ہے۔
مثال
کبھی کوئی ادارہ اندر سے کمزور اور خوف زدہ ہوتا ہے تو باہر بہت سخت قواعد، دکھاوے کی شان، اور مصنوعی وقار کھڑا کر دیتا ہے۔ مگر اسی کے اندر سازش، عدم اعتماد اور فساد بڑھنے لگتا ہے۔ یہی شعر کی اجتماعی تصویر ہے۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک خوف زور اور ریا کو لباس بنا لیتا ہے اور فتنے کو اپنے اندر پرورش دیتا ہے۔ اس لیے اس مرض کا علاج صرف فرد نہیں، پورے معاشرے اور امت کی صحت کے لیے ضروری ہے۔
