قصه گویان حق ز ما پوشیده اند
قصه گویان حق ز ما پوشیده اند
معنی هجرت غلط فهمیده اند
ترجمہ
قصہ سنانے والوں نے ہم سے حق بات چھپا دی ہے، اور ہجرت کے معنی کو غلط سمجھ لیا ہے۔
تشریح
یہ شعر پورے اس استدلال کا تنقیدی خلاصہ ہے جو اقبال نے ہجرت کے متعلق قائم کیا ہے۔ ان کے نزدیک مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگ ہجرت کا ایک جزوی مطلب لے لیتے ہیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری دینی تاریخ کئی بار محض قصہ گوئی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جب واقعہ قصہ بن جاتا ہے تو اس کی تعمیری حکمت، اس کی روحانی معنویت اور اس کا عملی سبق چھپ جاتا ہے۔ اقبال اسی لیے کہتے ہیں کہ “قصه گویان” نے حق ہم سے پوشیدہ کر دیا اور ہجرت کے معنی کو غلط سمجھ لیا۔ شعر کے مطابق:
قصه گویان:
قصہ گو یہاں محض داستان سنانے والے نہیں، بلکہ وہ سب لوگ ہیں جو تاریخ کو اس کی باطنی حکمت سے کاٹ کر صرف جذبات، واقعات یا سطحی ڈرامائیت کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ وہ ہجرت کو سناتے تو ہیں، مگر اس کے اندر امت سازی، توحیدی قومیت، آفاقی حرکت، عبادت کی وسعت اور تعمیری تدبیر کا سبق نہیں دکھاتے۔
جب تاریخ عبرت سے خالی ہو جائے تو داستان تو رہتی ہے، رہنمائی کم ہو جاتی ہے۔
حق کیوں پوشیدہ ہوا:
اقبال کہتے ہیں کہ حق ہم سے “پوشیدہ” کر دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سچ بالکل غائب نہیں ہوا، مگر اس پر پردہ ڈال دیا گیا۔ لوگ واقعہ جانتے ہیں، تاریخ پڑھتے ہیں، محبت بھی رکھتے ہیں، مگر اصل معنی تک نہیں پہنچتے۔ ہجرت کا ذکر رہ جاتا ہے، اس کا نصب العین چھپ جاتا ہے۔
بعض اوقات حقیقت ہمارے پاس ہوتی ہے، مگر ہمارے شعور میں نہیں ہوتی۔
غلط فہمیِ ہجرت:
ہجرت کو اگر محض جان بچانے، ظلم سے نکلنے، یا ایک اضطراری واقعہ سمجھ لیا جائے تو اس کی آدھی حقیقت بھی سامنے نہیں آتی۔ اقبال کے نزدیک ہجرت ایک ایسا اصول ہے جس میں حرکت، تجدید، وسعت، امت کی تعمیر، نئی تہذیبی بنیاد، اور جغرافیائی بت شکنی شامل ہے۔ اسے اگر صرف دکھ، فرار یا مصیبت کے بیانیے میں بند کر دیا جائے تو اس کا زندہ پیغام ضائع ہو جاتا ہے۔
ہجرت صرف ماضی کی خبر نہیں، مستقبل کی حکمت بھی ہے۔
اقبال کا مقصود:
اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنی تاریخ کو دوبارہ سمجھیں۔ واقعہ سے عشق ضرور ہو، مگر اس کے معنی سے غفلت نہ ہو۔ سیرت اگر صرف آنکھ نم کرنے والی داستان بن جائے اور کردار بدلنے والی تعلیم نہ بنے، تو امت اپنے خزانے کے سامنے ہوتے ہوئے بھی مفلس رہتی ہے۔ اسی لیے وہ ہجرت کی تعبیر ازسرنو کر رہے ہیں: اسے امت کی فکری آزادی اور اجتماعی تعمیر کے اصول کے طور پر پڑھو۔
سچی محبت وہی ہے جو واقعات سے سبق نکال کر زندگی کا حصہ بنائے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہماری دینی گفتگو میں بھی قصہ بہت ہے، مگر تربیت کم؛ جذبات بہت ہیں، مگر حکمت کم؛ معلومات بہت ہیں، مگر معنی کم۔ اقبال اس شعر میں تنبیہ کرتے ہیں کہ تاریخ کو محض سننے کی چیز نہ بناؤ، سمجھنے کی چیز بناؤ۔ ہجرت کو اگر صحیح سمجھا جائے تو یہ انسان کو مصلحت کی قید سے نکال کر مقصدی حرکت، روحانی استقلال اور اجتماعی تعمیر کی طرف لے جا سکتی ہے۔
اسلامی خودی کی بیداری کے لیے سیرت کے واقعات کو پھر سے معنی کی روشنی میں پڑھنا ضروری ہے۔
مثال
اگر کوئی قوم اپنے ماضی کے عظیم واقعات صرف یادگاری تقاریر میں دہراتی رہے مگر ان سے ادارہ، اخلاق، نظم اور نئی اجتماعی حکمت نہ پیدا کرے، تو وہ قصہ تو سن رہی ہوتی ہے مگر معنی نہیں سمجھ رہی ہوتی۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق ہجرت کے متعلق ہماری بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم اسے قصہ بنا کر اس کی تعمیری اور روحانی حکمت سے غافل ہو گئے ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہجرت کو امت سازی، حرکت اور صحیح اسلامی قومیت کے اصول کے طور پر سمجھا جائے۔