رموز بے خودی

قدرت اندر علم او پیداستی

قدرت اندر علم او پیداستی

هم عصا و هم ید بیضاستی

ترجمہ

اس کے علم کے اندر قدرت نمایاں تھی؛ اس میں عصا بھی تھا اور یدِ بیضا بھی۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال شریعت اور آئینِ حق کے علم کی ایک بنیادی صفت بیان کرتے ہیں: یہ علم محض معلومات یا الفاظ کا ذخیرہ نہیں، بلکہ اس کے اندر قدرت چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ پھر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دو معجزوں “عصا” اور “یدِ بیضا” کی طرف اشارہ کرتے ہیں، تاکہ بتایا جا سکے کہ الٰہی علم میں رہنمائی بھی ہوتی ہے، انقلاب بھی، دفاع بھی، اور حجت کی روشنی بھی۔ گویا شریعت ایسا علم نہیں جو انسان کو بے عمل، کمزور یا دنیا سے بے خبر بنا دے؛ اس کے اندر طاقت، حرکت اور تاثیر موجود ہوتی ہے۔ شعر کے مطابق:

علم اور قدرت کا ربط:

اقبال کے نزدیک سچا دینی علم وہ نہیں جو صرف کتابوں میں بند ہو، نہ وہ جو انسان کو عملی دنیا سے کاٹ دے۔ وہ علمِ حق کو ایک زندہ قوت سمجھتے ہیں۔ جب شریعت کو صحیح فہم کے ساتھ جانا جائے تو وہ نفس کو سنبھالتی ہے، فرد کو اٹھاتی ہے، اور ملت کو نظم، وقار اور دفاع کی صلاحیت دیتی ہے۔ اسی معنی میں وہ فرماتے ہیں کہ قدرت اس کے علم کے اندر نمایاں تھی۔

یعنی یہ علم محض نظریاتی روشنی نہیں، کارفرما توانائی بھی رکھتا ہے۔

عصا کی علامت:

عصا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں معجزہ بھی تھا، سہارا بھی، اور باطل کے مقابل ایک طاقت ور نشانی بھی۔ اقبال جب اسے یہاں لاتے ہیں تو اس سے مراد ایسی قوت ہے جو راستہ بھی بنائے، جمود بھی توڑے، اور دشمن کے مقابل کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی دے۔ شریعت کے علم میں بھی ایسی عصائی شان ہے: وہ انسان کو زمین پر ثابت قدم کرتی ہے اور ظلم یا گمراہی کے سانچوں کو چیلنج کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔

گویا شریعت میں حفاظت، قیادت اور مزاحمت تینوں امکانات پوشیدہ ہیں۔

یدِ بیضا کی روشنی:

“یدِ بیضا” حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس روشن معجزے کی طرف اشارہ ہے جس میں ہاتھ نورانی نشان بن کر ظاہر ہوا۔ یہ حجت، روشنی، صداقت اور الٰہی تایید کی علامت ہے۔ اقبال اس سے بتاتے ہیں کہ شریعت کا علم صرف طاقت نہیں دیتا، وہ روشنی بھی دیتا ہے۔ اگر عصا حرکت اور قوت کی علامت ہے تو یدِ بیضا بصیرت، نور اور حق کے آشکار ہونے کی علامت ہے۔

اسی لیے یہ علم نہ اندھی طاقت ہے نہ بے عمل نور؛ دونوں کی جمعیت ہے۔

شریعت کی فعّال معنویت:

یہ شعر دراصل اس خیال کی تردید کرتا ہے کہ شریعت فرد یا ملت کو کمزور بناتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ الٰہی آئین کے اندر وہ علم کارفرما ہے جس سے شخصیت میں استحکام، معاشرے میں نظم، اور امت میں وقار پیدا ہوتا ہے۔ اگر امت نے اس علم کو محض رسم، بحث یا سطحی شعار بنا دیا تو قصور شریعت کا نہیں بلکہ ہمارے فہم کا ہے۔

الٰہی علم میں ابھی بھی عصا کی قوت اور یدِ بیضا کی روشنی موجود ہے، بشرطیکہ اسے زندہ طور پر لیا جائے۔

آج کے لیے سبق:

آج بعض لوگ دینی علم کو محض ماضی کا سامان سمجھتے ہیں، اور بعض اسے صرف مباحث کی چیز بنا دیتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ سچا دینی علم قوموں کو کمزور نہیں کرتا، بلکہ اگر صحیح طرح سمجھا جائے تو ان کے اندر کردار، بصیرت اور قوت پیدا کرتا ہے۔ شریعت کی علمی روایت کو دوبارہ زندہ طاقت میں بدلنا امت کی بڑی ضرورت ہے۔

یہ شعر ہمیں علم کو قوت اور نور دونوں کے طور پر دیکھنا سکھاتا ہے۔

مثال

جیسے ایک سچا نقشہ راستہ بھی دکھاتا ہے اور مسافر کو خطرے سے بچنے کی قوت بھی دیتا ہے، ویسے ہی الٰہی علم میں روشنی بھی ہوتی ہے اور عملی طاقت بھی۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں شریعت کے علم کو زندہ قوت قرار دیتے ہیں۔ اس کے اندر عصا کی طرح حرکت و غلبہ اور یدِ بیضا کی طرح نور و حجت دونوں موجود ہیں، اس لیے یہ علم امت کے لیے طاقت کا سرچشمہ بن سکتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button