چشم هستی را مثال مردم است
چشم هستی را مثال مردم است
غیر را بیننده و از خود گم است
ترجمہ
وہ چشمِ ہستی کے مردمک کی مانند ہے، جو دوسروں کو دیکھتا ہے مگر خود اپنی ذات سے گم رہتا ہے۔
تشریح
یہ شعر اقبال کی نہایت بلیغ اور دقیق تمثیلات میں سے ہے۔ “مردم” فارسی میں آنکھ کے پتلی یا مردمک کے معنی بھی رکھتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ نوخیز ملت یا نوخیز شعور چشمِ ہستی کے اس مردمک کی طرح ہے جو دوسروں کو دیکھتا ہے، مگر اپنے آپ سے گم رہتا ہے۔ یعنی اس کے پاس دیکھنے کی صلاحیت ہے، دنیا کے مشاہدے کی قوت ہے، غیر کی طرف متوجہ ہونے کی طاقت ہے، مگر خود اپنی ذات، اپنی حقیقت، اور اپنی داخلی پہچان تک اس کی نظر پوری طرح نہیں پہنچتی۔ اقبال اس ایک استعارے میں پوری ملی نفسیات سمو دیتے ہیں۔
اس تمثیل کی خوبی یہ ہے کہ مردمک خود دیکھنے کا وسیلہ ہے، مگر وہ اپنے آپ کو براہِ راست نہیں دیکھتا۔ اسی طرح بہت سی قومیں یا افراد دنیا کے حالات، دوسروں کی قوت، دوسروں کی تہذیب، دوسروں کی تاریخ، اور دوسروں کے کمالات کو تو بڑی شدت سے دیکھتے ہیں، مگر اپنے باطن کے مرکز سے غافل رہتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک یہی “غیر بینی” اور “از خود گمی” خودی کی کم زوری کی اصل جڑ ہے۔ جب تک نگاہ اپنے مرکز کی طرف نہ لوٹے، دیکھنا بھی مکمل معرفت نہیں بنتا۔
مردمک کا استعارہ:
مردمک آنکھ کا نہایت حساس اور مرکزی حصہ ہے۔ اسی سے روشنی داخل ہوتی ہے اور اسی کے ذریعے دیکھنا ممکن ہوتا ہے۔ اقبال نے اسی لیے یہ استعارہ چنا، کیونکہ وہ بتانا چاہتے ہیں کہ نوخیز ملت بالکل بے حس یا مردہ نہیں؛ اس کے پاس ادراک کی صلاحیت موجود ہے۔
مگر مشکل یہ ہے کہ یہ ادراک ابھی زیادہ تر باہر کی طرف ہے۔ وسیلہ موجود ہے، مگر مرکز کی طرف لوٹنے والی شعوری نگاہ ابھی پوری طرح پیدا نہیں ہوئی۔
غیر بینی:
غیر کو دیکھنا بذاتِ خود عیب نہیں۔ خرابی تب پیدا ہوتی ہے جب ساری نگاہ باہر پر ہو اور باطن کا رخ کھو جائے۔ ایسی حالت میں آدمی دوسروں کے کمالات سے مرعوب، دوسروں کی کم زوریوں میں مشغول، یا دوسروں کے پیمانوں کا اسیر ہو سکتا ہے۔
ملتوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کی قوتوں کو گنتی رہتی ہیں مگر اپنے اندر کے جوہر، اپنی تاریخ کے تسلسل، اور اپنے تہذیبی امکان کو کم دیکھتی ہیں۔ اقبال اسی بیرون نگری کے خلاف باطن نگری کی دعوت دیتے ہیں۔
از خود گمی:
اپنے آپ سے گم ہونا سب سے بڑی غربت ہے۔ آدمی یا ملت کے پاس علم، مشاہدہ، اور گفتگو تو ہو سکتی ہے، مگر اگر وہ اپنے اصل مرکز سے غائب ہے تو اس کی ساری معلومات منتشر رہیں گی۔ اقبال کے نزدیک خودی کی بازیافت اسی گم گشتگی سے نکلنے کا نام ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شاعر صرف غیر بینی پر تنقید نہیں کرتے بلکہ “از خود گم است” کہہ کر مرض کی اصل کو ظاہر کرتے ہیں۔ مسئلہ بیرون کی موجودگی نہیں، اندر کی گم شدگی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کے عہد میں یہ شعر اور بھی زیادہ معنی خیز ہے۔ ہم دوسروں کی زندگیوں، فکر، معیار، تعریفوں اور تصویروں کو مسلسل دیکھتے رہتے ہیں، مگر اپنے اندر کے سوال، اپنی اصل قدر، اور اپنی تہذیبی نسبتوں سے دور ہوتے جاتے ہیں۔ یہ مسلسل “غیر بینی” جدید انسان کا بھی بڑا مسئلہ ہے۔
یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دیکھنے کی قوت کافی نہیں، اپنی طرف لوٹنے کی قوت بھی چاہیے۔ خودی کی پختگی تب آتی ہے جب مردمک صرف غیر ہی کو نہ دیکھے بلکہ اپنی روشنی کے مرکز سے بھی آشنا ہو۔ اقبال اسی واپسی کو ملی اور فردی زندگی کی شرط بناتے ہیں۔
مثال
جیسے آنکھ دوسروں کو تو دیکھتی ہے مگر اپنی پتلی کو براہ راست نہیں دیکھتی، ویسے ہی نوخیز شعور دنیا پر نگاہ رکھتا ہے مگر اپنی اصل پہچان سے غافل رہ سکتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں نوخیز ملت کو مردمکِ چشم سے تشبیہ دے کر بتاتے ہیں کہ وہ دوسروں کو تو دیکھتی ہے مگر اپنے آپ سے گم رہتی ہے۔ خودی کی پختگی اسی وقت آتی ہے جب یہ غیر بینی خود شناسی میں تبدیل ہو۔