رموز بے خودی

روح از تن رفت و هفت اندام ماند

روح از تن رفت و هفت اندام ماند

آدمیت گم شد و اقوام ماند

ترجمہ

جسم سے روح نکل گئی اور صرف اس کے ظاہری اعضا باقی رہ گئے، انسانیت گم ہو گئی اور صرف قومیں باقی رہ گئیں۔

تشریح

اقبال اس شعر میں جدید قومیّت کے ایک نہایت گہرے روحانی نقصان کو بیان کرتے ہیں۔ پچھلے اشعار میں وہ بتا چکے تھے کہ وطن پرستی نے اخوت کو کاٹا، انسانیت کو قبائل میں بانٹا، اور دنیا کی جنت چھین کر پیکار کی تلخی پیدا کی۔ اب وہ اسی عمل کی داخلی تصویر کھینچتے ہیں: جیسے جسم میں روح نہ رہے اور صرف اعضا باقی رہ جائیں، ویسے ہی جدید دنیا میں آدمیت کی اصل روح رخصت ہو گئی اور صرف قومی ڈھانچے، جھنڈے، سرحدیں اور گروہی شناختیں باقی رہ گئیں۔ شعر کے مطابق:

روح از تن رفت:

روح زندگی کا اصل مرکز ہے۔ جسم کے اعضا اسی وقت معنی رکھتے ہیں جب ان میں روح موجود ہو۔ اقبال اس استعارے سے کہتے ہیں کہ اجتماعی زندگی کی اصل روح اخوت، عدل، رحم، باہمی حرمت اور ایک بڑی اخلاقی نسبت تھی۔ جب یہ روح نکل گئی تو معاشرے بظاہر باقی رہے، ریاستیں بھی قائم رہیں، ادارے بھی چلتے رہے، مگر ان کے اندر وہ زندہ معنی باقی نہ رہے جو انسان کو واقعی انسان بناتے ہیں۔

زندگی صرف ساخت سے نہیں، اس باطنی حرارت سے بنتی ہے جو ساخت کو مقصد عطا کرتی ہے۔

هفت اندام ماند:

سات اعضا کا ذکر جسمانی ہیئت کے باقی رہ جانے کی علامت ہے۔ یعنی صورت موجود ہے، مگر حقیقت غائب۔ اقبال کے نزدیک جدید تہذیب میں بہت سی چیزیں ظاہراً موجود ہیں: قانون، حکومت، تنظیم، تہذیب، ترقی، تعلیمی ادارے، اور قومی شعور۔ مگر اگر ان سب کے پیچھے روحانی اور اخلاقی جان نہ ہو تو وہ اعضا کی طرح ہیں جو شکل رکھتے ہیں مگر زندگی نہیں۔

شکل باقی رہ جانا ہمیشہ بقا کی علامت نہیں ہوتا، کبھی وہ زوال کی خاموش خبر بھی ہوتا ہے۔

آدمیت گم شد:

آدمیت سے مراد وہ وسیع انسانی شعور ہے جس میں آدمی دوسرے آدمی کو اپنے جیسا محترم، صاحب درد اور حق دار سمجھتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہی آدمیت کھو گئی۔ جب انسان کا رشتہ حق اور اخوت سے کٹتا ہے تو وہ پہلے اپنے گروہ، پھر اپنے مفاد، پھر اپنی شناخت کو دیکھتا ہے، اور اس کے بعد ہی دوسرے کی انسانیت یاد آتی ہے۔ اس ترتیب سے آدمیت آہستہ آہستہ اوجھل ہو جاتی ہے۔

آدمیت تب تک زندہ رہتی ہے جب انسان اپنی نسبت کو صرف خود تک محدود نہ کرے۔

اقوام ماند:

قومیں باقی رہ گئیں، مگر انسان کھو گیا۔ یہ ایک بہت بڑا الٹاؤ ہے۔ قوم دراصل انسانوں کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ انسان قوم کے لیے۔ مگر جب قوم خود معبود بن جائے تو آدمی اس کے سامنے ثانوی ہو جاتا ہے۔ پھر قوم کی بقا، مفاد اور غرور کے نام پر انسان کی جان، عزت اور سچائی قربان ہونے لگتی ہے۔ اقبال اسی صورتِ حال کو تہذیبی بیماری کے طور پر دیکھتے ہیں۔

جب وسیلہ اصل بن جائے تو مقصد اپنی جگہ سے ہٹ جاتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج ہم ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں قومی اور اجتماعی شناختیں بہت طاقتور ہیں، مگر انسانی قربت، اخلاقی حساسیت اور سچی ہمدردی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اقبال کا شعر ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ کہیں ہم بھی روح کے بغیر اعضا، اور آدمیت کے بغیر اقوام تو نہیں بنا رہے۔ ترقی، ریاست، ادارہ اور قومی شعور اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان سب کو انسانیت، عدل اور اخلاقی روح کے تابع رہنا چاہیے۔

اسلامی خودی کی نگاہ میں اصل چیز آدمیت ہے، اقوام اس کی خادم ہوں تو خیر ہے، اس کی قاتل ہوں تو نہیں۔

مثال

اگر کوئی معاشرہ ظاہری طور پر مضبوط ہو، اس کے پاس قانون، طاقت اور نظم بھی ہو، مگر وہ کمزور انسان کے درد پر خاموش رہے اور دوسروں کے ساتھ صرف قومی مفاد کی زبان میں بات کرے، تو یہ اسی حالت کی مثال ہے کہ جسم تو باقی ہے مگر روح نکل چکی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق جدید قومیّت نے اجتماعی زندگی کی روح نکال دی اور صرف ظاہری ڈھانچے باقی رکھے۔ انسانیت گم ہو گئی اور اس کی جگہ قوموں کی سخت اور محدود شناختیں رہ گئیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button