این عناصر را جهان ما شمرد
این عناصر را جهان ما شمرد
خویشتن را میهمان ما شمرد
ترجمہ
اس نے ان مادی عناصر کو ہماری دنیا سمجھا، اور اپنے آپ کو اس دنیا میں ایک مہمان جانا۔
تشریح
یہ شعر پچھلے تمام نبوی مضامین کو نہایت گہری سادگی میں جمع کر دیتا ہے۔ اقبال کے مطابق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مادی، عنصری اور وقتی دنیا کو انسانوں کی دنیا کے طور پر دیکھا، مگر اپنے آپ کو اس کا مستقل باشندہ نہیں بلکہ مہمان سمجھا۔ یہاں “عناصر” سے مراد مادی وجود کے اجزا اور دنیا کی وہ سطح ہے جو جسم، مادہ، زمانہ اور فنا سے بنی ہے۔ حضور اس کے اندر آئے، اس میں رہے، اسے منور کیا، مگر دل کی نسبت اس سے نہ باندھی۔ شعر کے مطابق:
عناصر کا مفہوم:
قدیم فکری زبان میں عناصر سے مراد دنیا کی مادی بناوٹ کے بنیادی اجزا ہیں۔ اقبال اس لفظ سے محض فلسفیانہ اصطلاح مراد نہیں لیتے، بلکہ وہ پوری مادی دنیا، اس کی محدودیت، اس کی فانی ساخت، اس کے وقتی رشتوں اور اس کی جسمانی فضا کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ وہ دنیا ہے جس میں انسان پیدا ہوتا، بڑھتا، جیتا اور مرتا ہے۔
مگر جو ہستی وحی کے نور سے جڑی ہو، اس کے لیے یہ دنیا آخری تعریف نہیں بنتی۔
جہانِ ما:
“جهان ما” میں اقبال ایک بڑا فرق قائم کرتے ہیں۔ یہ دنیا ہماری ضرورت، ہماری آزمائش، ہماری محنت، ہماری تربیت اور ہماری کمزوریوں کا میدان ہے۔ ہم عناصر کے ساتھ گہرے بندھے ہوئے ہیں، کیونکہ ہماری زندگی جسم، خواہش، خوف، محبت اور مادی اسباب کے اندر چلتی ہے۔ حضور اس دنیا سے باخبر ہیں، اس کے مسائل کو سمجھتے ہیں، مگر ان کی ذات اس کے بندھنوں میں تعریف نہیں پاتی۔
وہ ہمارے درمیان آتے ہیں تاکہ ہمیں اس دنیا کے اندر رہتے ہوئے اس سے اوپر جینے کا سلیقہ سکھائیں۔
میهمان ہونا:
مہمان اپنے قیام کی عارضی حیثیت جانتا ہے۔ وہ گھر میں رہتا ہے مگر اسے اپنی ملکیت نہیں سمجھتا۔ اقبال اس استعارے سے دکھاتے ہیں کہ حضور دنیا کے اندر تھے مگر دل سے اسے مستقل وطن نہیں سمجھتے تھے۔ ان کا اصل تعلق خدا سے، وحی سے، ابدی سچائی سے اور اُس حیاتِ جاوداں سے تھا جو مادی عناصر کی گرفت سے بلند ہے۔
مہمان کا یہ شعور انسان کو شکر بھی سکھاتا ہے اور عدمِ غرور بھی۔
نبوی زہد کی حقیقت:
یہ شعر اسلامی زہد کو بھی درست معنی دیتا ہے۔ زہد کا مطلب دنیا کو چھوڑ دینا نہیں، بلکہ اسے امانت اور عارضی قیام سمجھنا ہے۔ رسول اکرم نے دنیا کو حقیر اس لیے نہیں جانا کہ وہ بری ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ آخری منزل نہیں۔ اسی لیے ان کی زندگی میں ذمہ داری، صفائی، محبت، عدل اور معاشرت سب موجود ہیں، لیکن دل کی اصل توجہ خدا کی رضا کی طرف رہتی ہے۔
یہ زہد انسان کو بے تعلق نہیں کرتا، بلکہ تعلقات کو صحیح وزن دیتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کا آدمی دنیا کو اپنا مستقل گھر سمجھ کر اس کے لیے ہر حد پار کرنے لگتا ہے۔ مال، جائداد، عہدہ، شناخت اور آسائشیں اس کے لیے آخری سچ بن جاتی ہیں۔ اقبال اس شعر میں یاد دلاتے ہیں کہ اگر حضور جیسے کامل انسان نے دنیا میں اپنے آپ کو مہمان سمجھا، تو امت کے لیے بھی یہی شعور نجات کا راستہ ہے۔ اس شعور سے انسان نعمتوں کو استعمال کرتا ہے مگر ان پر مغرور نہیں ہوتا، اور آزمائشوں سے گزرتا ہے مگر ٹوٹتا نہیں۔
میهمان ہونے کا احساس خودی کو شفاف اور سفر آشنا بناتا ہے۔
مثال
جو مسافر کسی شہر میں چند دن کے لیے ٹھہرا ہو وہ وہاں کے وسائل سے فائدہ اٹھاتا ہے، لوگوں سے تعلق بھی رکھتا ہے، مگر اپنا سارا وجود اسی قیام پر نہیں ٹکا دیتا۔ اسی طرح دنیا میں مہمان ہونے کا شعور انسان کو توازن دیتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق رسول اکرم نے مادی دنیا کو انسانوں کا میدان سمجھا مگر اپنے آپ کو اس میں ایک مہمان جانا۔ یہی شعور امت کو دنیا کے استعمال، شکر، زہد اور باطنی آزادی کا صحیح راستہ دیتا ہے۔