موسی و فرعون و شبیر و یزید
موسی و فرعون و شبیر و یزید
این دو قوت از حیات آید پدید
ترجمہ
موسی و فرعون ہوں یا شبیر و یزید، یہ دو قوتیں زندگی کے اندر ہمیشہ پیدا ہوتی رہتی ہیں۔
تشریح
اقبال اس شعر میں کربلا کو تاریخ کے ایک بند باب سے نکال کر حیاتِ انسانی کے دائمی اصول میں بدل دیتے ہیں۔ موسی و فرعون اور شبیر و یزید دو الگ الگ زمانوں کے نام ہیں، مگر اقبال کہتے ہیں کہ حقیقت ایک ہی ہے: حق اور باطل، بندگیِ خدا اور استبداد، حریت اور جبر، وفا اور ہوس، یہ دو قوتیں زندگی کے اندر بار بار جنم لیتی ہیں۔ شعر کے مطابق:
موسی و فرعون:
موسی نبوت، آزادی، خدا کے حکم اور مظلوم کی نجات کی علامت ہیں، جبکہ فرعون تکبر، استبداد، خود خدائی اور غلام بنانے والی قوت کا نشان ہے۔ یہ داستان صرف بنی اسرائیل کے ماضی کی داستان نہیں بلکہ طاقت اور حق کے دائمی تصادم کی ایک آفاقی تصویر ہے۔ اقبال اسے شبیر و یزید کے ساتھ ملا کر بتاتے ہیں کہ تاریخ بدلتی ہے، اصولی کشمکش نہیں بدلتی۔
یعنی فرعونیت اور موسویت صرف شخصیات نہیں، مسلسل ظاہر ہونے والے مزاج ہیں۔
شبیر و یزید:
شبیر، یعنی امام حسین، عشقِ حق، آزادی، نبوی وفاداری اور قربانی کی قوت ہیں۔ یزید اس کے برعکس اقتدارِ ہوس، جبر، دینی صورت میں دنیاوی استبداد، اور باطل نظام کی نمائندگی کرتا ہے۔ اقبال ان دونوں کو اسی سلسلے میں رکھتے ہیں جس میں موسی و فرعون ہیں، تاکہ واضح ہو جائے کہ کربلا کوئی محدود داخلی سیاسی جھگڑا نہیں بلکہ حق و باطل کی ابدی جنگ کا ایک نہایت روشن مرحلہ ہے۔
یہ نسبت حسینیت کے پیغام کو عالمی اور دائمی بنا دیتی ہے۔
دو قوت از حیات:
اقبال کہتے ہیں کہ یہ دونوں قوتیں خود زندگی کے اندر سے ابھرتی ہیں۔ یعنی جہاں بھی انسان ہوگا، وہاں حق اور باطل، خدمت اور استبداد، بندگی اور خود خدائی، ایثار اور ہوس کے امکانات بھی ہوں گے۔ زندگی کوئی یک رنگ میدان نہیں؛ یہ مسلسل انتخاب، کشمکش اور ترجیح کا نام ہے۔
اس لیے امت کو ہر دور میں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کس قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔
کربلا کا دائمی سبق:
کربلا صرف سن 61 ہجری کی حقیقت نہیں۔ ہر زمانے میں شبیر اور یزید کے نئے نام، نئے لباس اور نئی صورتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ کبھی یہ سیاسی میدان میں ہوں گی، کبھی فکری میدان میں، کبھی معاشی، ادارہ جاتی یا تہذیبی صورت میں۔ اقبال ہمیں تاریخ کو علامت کی طرح پڑھنا سکھاتے ہیں تاکہ ہم اپنے زمانے کی یزیدیت اور حسینی ذمہ داری کو پہچان سکیں۔
یہی پہچان حریت کی بیداری کا پہلا قدم ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی ہمیں یہ سادہ غلطی نہیں کرنی چاہیے کہ حق و باطل کے قصے بس پرانے زمانے کی باتیں ہیں۔ استبداد، جھوٹ، مفاد پرستی اور ظلم آج بھی نئے ناموں سے زندہ ہیں؛ اسی طرح وفا، حریت، صداقت اور قربانی کی ضرورت بھی آج باقی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ زندگی میں یہ دو قوتیں ہمیشہ ظاہر ہوں گی، اس لیے ہر فرد اور ہر امت کو اپنا مقام متعین کرنا ہوگا۔
اسلامی خودی کا سوال ہر دور میں یہی رہتا ہے: تم موسی کے ساتھ ہو یا فرعون کے، شبیر کے ساتھ یا یزید کے؟
مثال
کسی ادارے، ریاست یا سماج میں جب ایک طرف حق، اصول اور کمزور کے دفاع کی قوت ہو اور دوسری طرف استبداد، مفاد اور طاقت کے ناجائز استعمال کی قوت، تو وہی پرانا معرکہ نئے ناموں سے دوبارہ سامنے آ رہا ہوتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ موسی و فرعون اور شبیر و یزید دو مستقل تاریخی و روحانی قوتیں ہیں جو ہر دور کی زندگی میں نئے روپ کے ساتھ ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ کربلا اسی ابدی کشمکش کا روشن ترین نمونہ ہے۔
