رموز بے خودی

عقل را سرمایه از بیم و شک است

عقل را سرمایه از بیم و شک است

عشق را عزم و یقین لاینفک است

ترجمہ

عقل کی پونجی خوف اور شک سے بنی ہوتی ہے، جبکہ عشق کے ساتھ عزم اور ایسا یقین جڑا ہوتا ہے جو اس سے جدا نہیں ہوتا۔

تشریح

اقبال یہاں عقل اور عشق کے باطنی سرچشموں کا فرق بیان کرتے ہیں۔ عقل کا کام سوال کرنا، خطرہ دیکھنا، نقصان کا اندازہ لگانا اور ممکنہ نتائج سے ڈرنا بھی ہے؛ اسی لیے اس کے اندر شک اور بیم کا پہلو زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عشق حق سے جڑ کر ایک ایسا یقین پیدا کرتا ہے جس سے عزم الگ نہیں ہوتا۔ اسلامی حریت اور کربلا کی منطق سمجھنے کے لیے یہ فرق بنیادی ہے۔ شعر کے مطابق:

بیم اور شک کی عقل:

اقبال عقل کی مذمت مطلق طور پر نہیں کر رہے، بلکہ اس کے مزاج کی ایک حد دکھا رہے ہیں۔ عقل کے پاس حساب ہے، اس لیے اس کے پاس اندیشہ بھی ہے۔ وہ پوچھتی ہے: اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟ اگر وسائل کم ہوئے تو؟ اگر سامنے طاقت زیادہ ہوئی تو؟ یہ سوالات ایک درجے تک مفید ہیں، مگر جب یہی ذہن کا اصل سرمایہ بن جائیں تو انسان فیصلہ کن عمل سے رکنے لگتا ہے۔

اس طرح عقل کی روشنی کئی بار قدم کی لرزش بن جاتی ہے۔

عزم و یقینِ عشق:

عشق کے اندر بھی اندھا پن نہیں، مگر اس کا اصل سرمایہ خوف نہیں بلکہ یقین ہوتا ہے۔ یہ یقین اس بات کا ہوتا ہے کہ حق حق ہے، اور اس کے لیے کھڑا ہونا لازم ہے، چاہے دنیاوی نتائج آسان نہ ہوں۔ جب اس یقین کے ساتھ عزم جڑ جائے تو انسان کے اندر ایک ایسی استقامت پیدا ہوتی ہے جو صرف حسابی ذہن سے پیدا نہیں ہوتی۔ اقبال اسے “لاینفک” کہتے ہیں، یعنی عشق سے عزم و یقین الگ ہی نہیں۔

گویا عشق کا ایمان اس کے عمل کا جوہر بھی ہے اور قوت بھی۔

کربلا کے تناظر میں:

اگر کربلا کو عقلِ بیم و شک کی نگاہ سے دیکھا جائے تو وہاں صرف خطرہ، قلتِ عدد، سیاسی خسارہ اور ظاہری شکست نظر آئے گی۔ مگر عشق کے عزم و یقین نے وہی میدان ابدی فتح میں بدل دیا۔ حسینیت کی اصل بنیاد یہی تھی کہ حق کے ساتھ یقین لاینفک تھا، اور اسی یقین نے عزم کو اس درجہ بلند کر دیا کہ دنیاوی خوف فیصلہ کن نہ رہ سکا۔

اس لیے کربلا عقل کی شکست نہیں، خوف پر یقین کی فتح ہے۔

اسلامی حریت کی روح:

اقبال کے نزدیک سچا آزاد انسان وہ نہیں جو ہر چیز پر شک کرتا رہے، بلکہ وہ ہے جو حق پہچاننے کے بعد اس پر یقین کے ساتھ قائم ہو جائے۔ اگر آدمی ہمیشہ امکانات اور خطرات کے توازن میں اٹکا رہے تو اس کی گردن کسی نہ کسی خوف کی غلام رہتی ہے۔ عشق اس خوف کو توڑتا ہے اور بندے کو اپنے مقصد کے لیے ثابت قدم بناتا ہے۔

اسی لیے حریت کی بنیاد اعتمادِ حق پر ہے، نہ کہ صرف تجزیۂ خطرات پر۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی بہت سے لوگ سچ سمجھتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے، کیونکہ ان کا سرمایہ خوف ہے: نوکری کا، سماج کا، نقصان کا، تنہائی کا۔ اقبال سکھاتے ہیں کہ حق کے لیے اٹھنے والا دل صرف تجزیے سے نہیں، یقین سے بنتا ہے۔ جب یقین پیدا ہو تو عزم بھی پیدا ہوتا ہے، اور پھر حریت محض خیال نہیں رہتی۔

اسلامی خودی کو اسی لیے شک کی انتہا نہیں، یقین کی پختگی درکار ہے۔

مثال

ایک شخص جو بدعنوانی، ظلم یا جھوٹ کو سمجھ تو رہا ہو مگر ہر بار خوف کی وجہ سے خاموش رہے، وہ عقلِ بیم میں گرفتار ہے؛ جبکہ وہی شخص اگر حق کے ساتھ یقین پیدا کر لے تو اسی یقین سے اس کے اندر بولنے اور کھڑے ہونے کا عزم آ سکتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق عقل کا سرمایہ اندیشہ اور شک ہو سکتا ہے، مگر عشق کا سرمایہ عزم اور یقین ہے۔ اسلامی آزادی اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب حق کے بارے میں یقین انسان کے اندر خوف سے زیادہ مضبوط ہو جائے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button