رموز بے خودی

نقش الا الله بر صحرا نوشت

نقش الا الله بر صحرا نوشت

سطر عنوان نجات ما نوشت

ترجمہ

اس نے صحرا پر “الا الله” کا نقش لکھ دیا، اور ہماری نجات کے عنوان کی پہلی سطر تحریر کر دی۔

تشریح

اگر پچھلے شعر میں “لا” کی تیغ تھی تو یہاں “الا الله” کا اثبات ہے۔ اقبال کربلا کو نفی اور اثبات کے مکمل کلمے میں بدل دیتے ہیں۔ امام حسین نے باطل کی نفی ہی نہیں کی، بلکہ اللہ کے حق، اس کی حاکمیت، اس کی اطاعت، اور اس کے لیے جینے مرنے کے اثبات کو بھی صحرا کی ریت پر ثبت کر دیا۔ شعر کے مطابق:

نقشِ الا الله:

“الا الله” کلمۂ توحید کا اثباتی حصہ ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ خدا ہے، بلکہ یہ کہ حاکم وہی ہے، اطاعت کا مستحق وہی ہے، خوف و محبت کا آخری مرکز وہی ہے، اور نجات کا دروازہ بھی اسی کی طرف کھلتا ہے۔ امام حسین نے اپنے قیام سے یہ ثابت کیا کہ باطل کی نفی کے بعد خالی پن نہیں آتا، بلکہ اللہ کی مطلق حاکمیت کا روشن اثبات آتا ہے۔

اس لیے کربلا محض رد نہیں، ایک عظیم اثبات بھی ہے۔

بر صحرا نوشت:

صحرا عموماً ویرانی، خاموشی اور فراموشی کی جگہ سمجھی جاتی ہے، مگر اقبال کہتے ہیں کہ حسین نے اسی صحرا کو تحریر کی تختی بنا دیا۔ ان کا خون، ان کا قیام، ان کا انکار، ان کی تکبیر، سب مل کر ریت پر ایسا نقش بن گئے جو مٹنے والا نہ تھا۔ یہ لکھائی قلم سے نہیں، کردار سے ہوئی۔

جو تحریر خون سے لکھی جائے، وہ ریت پر بھی باقی رہتی ہے۔

سطرِ عنوانِ نجات:

اقبال کے نزدیک ہماری نجات کا عنوان اسی وقت لکھا جاتا ہے جب ہم “لا” کے بعد “الا الله” تک پہنچیں۔ یعنی باطل کے انکار کے ساتھ حق کا اثبات بھی لازم ہے۔ امام حسین نے امت کو یہ راستہ دکھایا کہ نجات محض محفوظ رہنے میں نہیں، بلکہ خدا کے لیے کھڑے ہونے میں ہے۔ اسی لیے وہ ہماری نجات کے عنوان کی پہلی سطر لکھتے ہیں۔

یہ نجات فردی بھی ہے، اجتماعی بھی، روحانی بھی، تہذیبی بھی۔

کربلا بطور نوشتہ:

یہ شعر ہمیں کربلا کو ایک متن کی طرح پڑھنا سکھاتا ہے۔ اس صحرا میں ایک عنوان لکھا گیا: اگر امت کو نجات چاہیے تو اسے باطل سے انکار اور اللہ کے لیے وفا سیکھنی ہوگی۔ یوں کربلا تاریخ کے کنارے پر ہوا ایک حادثہ نہیں، امت کی رہنمائی کے لیے چھوڑا گیا ایک زندہ نوشتہ بن جاتی ہے۔

جس نے اس نوشتے کو پڑھ لیا، اس نے حریت کا راستہ پا لیا۔

آج کے لیے سبق:

آج نجات کو اکثر صرف دنیاوی کامیابی، محفوظ زندگی، یا ظاہری ترقی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ حقیقی نجات کا عنوان خدا کے ساتھ وابستگی اور باطل سے آزادی میں لکھا جاتا ہے۔ حسینیت ہمیں اسی عنوان کی پہلی سطر پڑھاتی ہے۔

اسلامی حریت کی منزل صرف انکار نہیں، اللہ کے ساتھ نئے عہد کا اثبات بھی ہے۔

مثال

اگر کوئی تحریک صرف مخالفت میں رہ جائے تو اس کی طاقت ادھوری رہتی ہے؛ مگر جب وہ واضح طور پر یہ بھی دکھا دے کہ ہم کس حق، کس اخلاق اور کس خدا مرکز وفاداری کے لیے کھڑے ہیں، تب وہ نجات کا عنوان لکھتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق امام حسین نے کربلا کے صحرا پر “الا الله” کا اثبات لکھ دیا اور امت کی نجات کا عنوان واضح کر دیا۔ کربلا توحید کے مکمل کلمے کی زندہ تحریر ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button