بود معماری ز اقلیم خجند
بود معماری ز اقلیم خجند
در فن تعمیر نام او بلند
ترجمہ
خجند کے علاقے کا ایک معمار تھا جس کا نام فنِ تعمیر میں بہت بلند اور مشہور تھا۔
تشریح
علامہ اقبال حکایت کے آغاز میں ہی نگاہ کو سلطنت کی چکاچوند سے ہٹا کر ایک کاریگر پر جما دیتے ہیں۔ یہ معمولی بات نہیں۔ کہانی کسی لشکر، وزیر یا شاہی دربار سے شروع نہیں ہوتی بلکہ ایک معمار سے شروع ہوتی ہے جس کی اصل پہچان اس کا فن ہے۔ اقبال گویا ابتدا ہی میں بتا دیتے ہیں کہ اسلامی مساوات کی بحث میں نسب، منصب اور تخت سے پہلے انسان کی صلاحیت، محنت اور کردار آتے ہیں۔ شعر کے مطابق:
خجند سے نسبت:
اقبال نے معمار کو کسی بڑے سیاسی مرکز سے نہیں بلکہ خجند جیسے خطے سے وابستہ کیا۔ اس میں یہ نکتہ پوشیدہ ہے کہ عظمت صرف دارالحکومتوں میں پیدا نہیں ہوتی۔ ایک دور افتادہ خطے کا فرد بھی اپنے فن کے سبب مرکزِ توجہ بن سکتا ہے۔ اسلامی تہذیب میں اصل معیار یہ نہیں کہ تم کہاں کے ہو، بلکہ یہ ہے کہ تم اپنے کام میں کیا قدر رکھتے ہو۔
یہ نسبت جغرافیہ کو تو مانتی ہے، مگر انسان کی قیمت کو جغرافیے میں قید نہیں کرتی۔
فن کی عزت:
“در فن تعمیر نام او بلند” اس بات کی دلیل ہے کہ معمار کی عظمت اس کے پیشے کے اندر ہے۔ اقبال کے ہاں محنت کش، صنعت گر اور ہنرمند محض ہاتھ سے کام کرنے والے لوگ نہیں بلکہ تہذیب کے معمار ہوتے ہیں۔ مسجد، شہر، بازار، پل، مدرسہ اور مکان سب انہی کے ہاتھوں سے بنتے ہیں۔ اس لیے ان کی عزت کسی درباری تعارف کی محتاج نہیں۔
یہ شعر خاموشی سے محنت کے وقار کا اعلان ہے۔
مساوات کا پہلا دروازہ:
اسلامی مساوات صرف عدالت کے کمرے میں ظاہر نہیں ہوتی، وہ اس نگاہ سے شروع ہوتی ہے جس میں ایک کاریگر کو بھی تاریخ کا مرکزی کردار سمجھا جائے۔ اگر کسی معاشرے میں صرف بادشاہوں کے نام محفوظ رہیں اور ہنرمند گم نام رہ جائیں تو وہ تہذیب باطن سے نابرابر ہے۔ اقبال اس ابتداء سے بتاتے ہیں کہ کہانی کا اخلاقی وزن اسی معمار کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔
گویا مساوات پہلے شعور میں پیدا ہوتی ہے، پھر قانون میں شکل لیتی ہے۔
فن اور خودی:
ایک بلند نام ہنر مند خودی کے بغیر پیدا نہیں ہوتا۔ تعمیر کا فن صبر، تناسب، نظر، پیمائش اور حسنِ ترتیب مانگتا ہے۔ اقبال کے نزدیک ایسا شخص محض مزدور نہیں رہتا، بلکہ اپنے فن کے ذریعے اپنی باطنی قوت کا اظہار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حکایت کے شروع میں اس معمار کو احترام کے ساتھ متعارف کراتے ہیں۔
جس ہاتھ میں مہارت ہو، اس ہاتھ میں ایک تہذیبی امانت بھی ہوتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی معاشروں کی اصل بنیاد وہ لوگ ہیں جو بناتے ہیں: استاد، انجینئر، معمار، کاریگر، ڈیزائنر، مستری اور مزدور۔ مگر اکثر عزت ان لوگوں کو زیادہ ملتی ہے جو صرف حکم دیتے ہیں۔ اقبال ہمیں الٹا سبق دیتے ہیں: تعمیر کرنے والا بھی مرکزِ عزت ہے۔ اسلامی مساوات کا تقاضا ہے کہ مہارت کو طبقاتی غرور کے نیچے نہ دبایا جائے۔
جو قوم اپنے ہنرمندوں کی قدر کھو دیتی ہے، وہ آخرکار اپنی تہذیبی بنیادیں بھی کمزور کر دیتی ہے۔
مثال
ایک بہترین اسپتال یا مسجد کے افتتاح میں اکثر بڑے نام سامنے ہوتے ہیں، مگر اصل کام وہی انجینئر، مستری اور کاریگر کرتے ہیں جن کے بغیر عمارت وجود میں نہیں آتی۔ انصاف یہی ہے کہ عزت کا حصہ انہیں بھی ملے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ اسلامی مساوات کی گفتگو ایک ہنرمند کے وقار سے شروع ہوتی ہے۔ اصل قیمت انسان کے فن، کردار اور خدمت کی ہے، نہ کہ صرف اس کے منصب یا علاقے کی۔
