یک طرف فریادی دعوی گری
یک طرف فریادی دعوی گری
یک طرف شاهنشه گردون فری
ترجمہ
ایک طرف فریاد کرنے والا مدعی کھڑا تھا، اور دوسری طرف وہ بادشاہ جو آسمان جیسی شان و شوکت رکھتا تھا۔
تشریح
اقبال اس شعر میں عدالت کے اندر قائم ہونے والے حیرت انگیز توازن کو ایک ہی منظر میں سمیٹ دیتے ہیں۔ ایک طرف زخمی معمار ہے، دوسری طرف فلک بوس جاہ و جلال کا حامل بادشاہ۔ مگر دونوں ایک ہی مقدمے کے دو فریق ہیں۔ یہی منظر اسلامی مساوات کی سب سے روشن تصویر بنتا ہے: کمزور اور طاقت ور ایک ہی میزان کے سامنے کھڑے ہیں۔ شعر کے مطابق:
فریادی دعویٰ گر:
اقبال نے معمار کو “فریادی” کہا، یعنی وہ ظلم کا مارا ہوا شخص ہے، مگر ساتھ ہی “دعویٰ گر” بھی کہا، یعنی اس کے پاس حق کا دعویٰ ہے۔ وہ محض گریہ کرنے والا نہیں بلکہ دلیل اور استحقاق کے ساتھ کھڑا ہونے والا انسان ہے۔ اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی عدالت مظلوم کو صرف رحم کا مستحق نہیں سمجھتی، بلکہ حق کا مدعی مانتی ہے۔
یہ فرق بہت اہم ہے: ہمدردی کمزور کو تسلی دیتی ہے، مگر حق اسے وقار دیتا ہے۔
شاهنشه گردون فری:
بادشاہ کو “گردون فری” کہنا اس کی عظمت، شان اور بلند مرتبے کا استعارہ ہے۔ اقبال بادشاہ کی قوت کو کم نہیں کرتے؛ وہ پوری شان کے ساتھ اسے دکھاتے ہیں تاکہ عدالت کی عظمت اور زیادہ کھل کر سامنے آئے۔ اگر ایک معمولی افسر نہیں بلکہ فلک رتبہ سلطان بھی عدالت میں فریق بن جائے، تو یہی اسلامی مساوات کے کمال کا اعلان ہے۔
عدالت کی سچائی تب نمایاں ہوتی ہے جب وہ واقعی بڑے کو بھی چھوٹا کر دے، اور چھوٹے کو بھی سننے کا حق دے۔
دو کناروں کا جمع ہونا:
یہ شعر دراصل سماجی تفاوت کے دو انتہائی سروں کو آمنے سامنے لاتا ہے۔ ایک طرف زخمی ہنرمند، دوسری طرف سلطنت کا تاج دار۔ اقبال کا کمال یہ ہے کہ وہ اس فاصلے کو مٹاتے نہیں، بلکہ اسی فاصلے کو عدالت کے اندر بے اثر بنا دیتے ہیں۔ گویا فرق اپنی جگہ موجود ہے، مگر حق کے فیصلے میں وہ فیصلہ کن نہیں رہتا۔
اسلامی مساوات کا مطلب سب کو ایک جیسا لباس پہنانا نہیں، بلکہ سب کے لیے ایک ہی قانون قائم کرنا ہے۔
منظر کی تہذیبی عظمت:
اس منظر میں پوری اسلامی تہذیب کی روح نظر آتی ہے۔ اگر عدالت کے اندر فریادی اور بادشاہ برابر حیثیت سے کھڑے ہوں تو رعیت کے دل میں امن پیدا ہوتا ہے، اور اقتدار اپنے حدود پہچانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال اس حکایت کو محض تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
اس شعر میں عدالت ایک عمارت نہیں، ملت کے ضمیر کی زندہ شکل بن جاتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی کسی نظام کی اصل جانچ یہی ہے کہ کیا عام شہری اور بااثر شخصیت ایک ہی قانونی فورم پر ایک ہی قواعد کے تابع ہوتے ہیں؟ اگر طاقت ور کے لیے الگ راستہ اور کمزور کے لیے الگ معیار ہو تو مساوات محض نعرہ رہ جاتی ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ انصاف کی عزت وہیں قائم رہتی ہے جہاں فریادی اور بادشاہ دونوں کو ایک ہی نظر سے دیکھا جائے۔
قانون کی اصل شان یہی ہے کہ وہ فاصلے دیکھ کر بھی ان کے اثر کو فیصلہ کن نہ بننے دے۔
مثال
جب ایک عام ملازم اور ایک بااثر مالک لیبر کورٹ یا عدالت میں ایک ہی کارروائی کے تابع ہوں، اور فیصلے میں عہدہ یا دولت نہیں بلکہ حق سنا جائے، تو یہی اس شعر کی عملی تصویر ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں اسلامی مساوات کی زندہ تصویر کھینچتے ہیں: ایک طرف فریادی، دوسری طرف بادشاہ، مگر دونوں ایک ہی عدالت میں ایک ہی حق کے سامنے کھڑے ہیں۔
