گر ترا ذوق معانی رهنماست
گر ترا ذوق معانی رهنماست
نکته ئی پوشیده در حرف «شما»ست
ترجمہ
اگر تمہارے پاس معنی کا ذوق رہنمائی کرتا ہے تو جان لو کہ لفظ “شما” میں ایک چھپا ہوا نکتہ ہے۔
تشریح
یہ شعر پچھلے شعر کی گہرائی کھولتا ہے۔ اقبال کی نگاہ صرف ظاہر الفاظ پر نہیں ٹھہرتی؛ وہ الفاظ کے انتخاب میں چھپی ہوئی روحانی دلالت کو بھی پکڑتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے “دنیای شما” فرمایا، “دنیای من” نہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر تم ذوقِ معانی رکھتے ہو تو اس چھوٹے سے لفظ میں ایک پورا جہان پوشیدہ ہے۔ یہی وہ لطیف فرق ہے جو نبوی حضور، دنیا میں رہنے اور دنیا سے بلند رہنے کے تعلق کو واضح کرتا ہے۔ شعر کے مطابق:
ذوقِ معانی:
اقبال کے ہاں ذوقِ معانی سے مراد وہ باطنی سلیقہ ہے جو الفاظ کے پیچھے چلنے والی روح کو سمجھ سکے۔ ہر شخص الفاظ سن لیتا ہے، مگر ہر شخص ان کے اندر چھپے اشاروں تک نہیں پہنچتا۔ دینی متون، شعری تعبیرات اور نبوی ارشادات صرف لغوی ترجمہ مانگتے نہیں، قلبی بیداری بھی مانگتے ہیں۔
جس دل میں معنی کا ذوق ہو، وہ چھوٹے لفظ میں بھی بڑی روشنی دیکھ لیتا ہے۔
لفظ “شما” کا راز:
یہاں “شما” بتاتا ہے کہ حضور دنیا کے اندر رہتے ہوئے بھی اس سے فاصلہ رکھتے ہیں۔ یہ فاصلہ نفرت یا انکار کا نہیں بلکہ آزادی کا ہے۔ وہ دنیا کو اپنی ملکیت، اپنی اصل یا اپنی منزل نہیں کہتے۔ وہ اسے امت کی دنیا کہتے ہیں، اور خود اس کے اندر انتخابِ خیر، تہذیبِ فطرت اور بندگیِ خدا کا راستہ دکھاتے ہیں۔
یعنی حضور دنیا میں شریک ہیں، مگر دنیا کی تعریف سے محدود نہیں۔
تعلق اور عدمِ اسیری:
یہ نکتہ ایک بڑا اخلاقی سبق دیتا ہے: دنیا سے مکمل قطع تعلق مطلوب نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ایسا تعلق مطلوب ہے جس میں دل اسیر نہ ہو۔ رسول اکرم نے دنیا کی بعض پاک چیزوں کو محبوب کہا، مگر انہیں اپنی ذات کا مرکز نہیں بنایا۔ “شما” کا لفظ اس فرق کو قائم رکھتا ہے۔ یہ لفظ بتاتا ہے کہ نبوی دل کا اصل مرکز خدا ہے، دنیا نہیں۔
جو چیز ہاتھ میں ہو مگر دل میں نہ ہو، وہ نعمت ہے؛ جو دل میں گھر کر لے، وہ آزمائش بن سکتی ہے۔
نبوی انسانیت کی بلندی:
اقبال کے نزدیک یہی وہ لطافت ہے جو حضور کی انسانیت کو عام انسانیت سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ کھاتے ہیں، رہتے ہیں، محبت کرتے ہیں، خوشبو پسند کرتے ہیں، مگر ان سب کے باوجود ان کا مرکز خدا ہی رہتا ہے۔ اس طرح وہ انسان کے لیے یہ نمونہ قائم کرتے ہیں کہ کامل روحانیت، غیر انسانی خشک پن نہیں، بلکہ انسانی زندگی کے اندر الٰہی مرکزیت کا نام ہے۔
اس نکتے کو سمجھے بغیر آدمی یا تو دنیا پرست ہو جاتا ہے یا بے ذوق زاہد۔
آج کے لیے سبق:
آج انسان کی بڑی مشکل یہی ہے کہ وہ جس چیز کو استعمال کرتا ہے، آہستہ آہستہ اسی کی شناخت بن جاتا ہے: دولت، شہرت، رشتہ، پیشہ، قوم، یا خواہش۔ اقبال اس شعر میں سکھاتے ہیں کہ دنیا سے تعلق رکھو مگر اپنے دل کی نسبت اس سے نہ باندھو۔ اگر لفظ “شما” کا راز سمجھ میں آ جائے تو انسان دنیا کے اندر رہتے ہوئے بھی ایک باطنی آزادی پا لیتا ہے۔
اسلامی خودی کی پختگی اسی میں ہے کہ وہ دنیا کو خدمت کا میدان سمجھے، منزل نہ سمجھے۔
مثال
ایک انسان مال رکھتا ہو مگر مال کو اپنی قدر کا معیار نہ بنائے، گھر سے محبت کرے مگر گھر کو مقصدِ حیات نہ سمجھے، اور دنیاوی کامیابی حاصل کرے مگر اسے آخری کامیابی نہ مانے، تو وہ “شما” کے نکتے کو کچھ حد تک پا چکا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق لفظ “شما” اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ رسول اکرم دنیا میں رہتے ہوئے بھی اس کے اسیر نہیں تھے۔ یہی نبوی آزادی مسلمان کو دنیا کے ساتھ صحیح، پاکیزہ اور غیر غلامانہ تعلق سکھاتی ہے۔