رموز بے خودی

نغمه از ضبط صدا پیداستی

نغمه از ضبط صدا پیداستی

ضبط چون رفت از صدا غوغاستی

ترجمہ

نغمہ تو آواز کے ضبط سے پیدا ہوتا ہے، اور جب یہ ضبط آواز سے نکل جائے تو صرف شور باقی رہ جاتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال نظم اور بے نظمی کے فرق کو ایک اور مثال سے روشن کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خوبصورت نغمہ محض آواز کی موجودگی سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ آواز کے اندر ایک خاص ضبط، ایک درست میزان، ایک مناسب ترتیب اور ایک تابع شدہ حرکت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب یہی ضبط ختم ہو جائے تو وہی آواز جو نغمہ بن سکتی تھی، صرف شور و غوغا بن جاتی ہے۔ اقبال اس کے ذریعے فرد، معاشرہ اور ملت تینوں کے لیے ایک نہایت اہم اصول بیان کرتے ہیں: قوت کافی نہیں، نظم ضروری ہے۔ شعر کے مطابق:

ضبط کی حقیقت:

ضبط سے مراد محض دبانا یا روکنا نہیں بلکہ ایسی سنجیدہ ترتیب ہے جو قوت کو صحیح شکل دیتی ہے۔ آواز اپنی اصل میں ایک توانائی ہے، مگر یہ توانائی یا تو نغمہ بن سکتی ہے یا شور۔ فیصلہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آیا وہ ضبط یافتہ ہے یا نہیں۔ اقبال کے نزدیک انسان کی خواہشات، احساسات، خیالات اور اجتماعی توانائیاں بھی ایسی ہی ہیں۔

اگر یہ سب حقانی اصول کے تابع ہو جائیں تو تہذیب، علم، عدل اور حسن پیدا کرتے ہیں۔ لیکن اگر ان پر کوئی ضبط نہ رہے تو وہی توانائی فساد، فتنہ، جذباتی شور اور بے سمت حرکت میں بدل سکتی ہے۔

نغمہ اور شور:

نغمہ صرف آواز نہیں بلکہ معنی دار آواز ہے۔ اس میں تناسب ہے، آہنگ ہے، اثر ہے اور ایک ایسی ترتیب ہے جو دل میں اترتی ہے۔ اس کے برعکس غوغا میں بھی آواز بہت ہوتی ہے، مگر اس میں کوئی مرکز، کوئی حسن اور کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ اقبال یہاں امت کی اجتماعی کیفیت کا بھی نقشہ کھینچتے ہیں: ایک ملت میں جوش بہت ہو سکتا ہے، مگر اگر اس جوش کو آئین نہ سنبھالے تو وہ شور رہ جاتا ہے، تعمیر نہیں بنتا۔

اس لیے ہر بلند آواز حق کی آواز نہیں ہوتی۔ کبھی خاموش اور منظم عمل، بلند مگر بے ربط نعروں سے کہیں زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔

فرد کی سطح پر معنی:

فرد کے اندر بھی یہی قانون چلتا ہے۔ علم ہو مگر ضبط نہ ہو تو تکبر بن سکتا ہے۔ قوت ہو مگر ضبط نہ ہو تو ظلم بن سکتی ہے۔ محبت ہو مگر ضبط نہ ہو تو فتنہ بن سکتی ہے۔ آزادی ہو مگر ضبط نہ ہو تو بکھراؤ بن جاتی ہے۔ اقبال کا یہ شعر دراصل انسان کو اپنی داخلی قوتوں کے نظم کی طرف بلاتا ہے۔

جب انسان اپنی آواز کو، اپنے نفس کو اور اپنی حرکات کو ایک سچے اصول کا پابند کرتا ہے تو اس کی زندگی میں نغمہ پیدا ہوتا ہے۔ ورنہ شور زیادہ اور اثر کم رہتا ہے۔

ملت کی سطح پر معنی:

ملت کے اندر بہت سے خیالات، جذبات، صلاحیتیں اور رجحانات ہوتے ہیں۔ اگر ان سب کو ایک زندہ آئین نظم دے تو ان سے ایک عظیم تہذیب بن سکتی ہے۔ لیکن اگر نظم نہ رہے تو یہی چیزیں تنازع، نعرہ بازی، باہمی تصادم اور فکری الجھن کا سبب بن جاتی ہیں۔

اقبال اس لیے قرآن کو ملت کا آئین کہتے ہیں، کیونکہ وہ اسی ضبط کو فراہم کرتا ہے جو طاقت کو نغمہ، اور کثرت کو وحدت میں بدل دیتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج کے دور میں معلومات، اظہار اور جذبات کی فراوانی ہے۔ ہر طرف آوازیں ہیں، مگر ہر آواز نغمہ نہیں۔ اقبال کا شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ قول، فکر، سیاست، دعوت اور اجتماعی حرکت کو ضبط درکار ہے۔ یہ ضبط اخلاق، علم، وحی اور ذمہ داری سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو شور بہت ہوگا مگر نتیجہ کم نکلے گا۔

اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ہماری آواز کتنی بلند ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس آئین کے تحت منظم ہے۔

مثال

جیسے ایک مجمع میں سو لوگ ایک ساتھ بولیں تو شور پیدا ہوتا ہے، لیکن وہی لوگ اگر ایک باقاعدہ جماعت، ترتیب اور مقصد کے ساتھ کام کریں تو بڑا نتیجہ سامنے آتا ہے، ویسے ہی ضبط ہی آواز کو نغمہ بناتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک نغمہ صرف آواز سے نہیں بلکہ آواز کے ضبط سے پیدا ہوتا ہے۔ جب ضبط ختم ہو جائے تو قوت شور میں بدل جاتی ہے۔ یہی اصول فرد، معاشرہ اور ملت تینوں پر لاگو ہوتا ہے، اس لیے آئین اور نظم اجتماعی بقا کے لیے لازم ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button