رموز بے خودی

برهمن گل از خیابانش ببرد

برهمن گل از خیابانش ببرد

خرمنش مغ زاده با آتش سپرد

ترجمہ

برہمن نے اس کے باغ کی رونق چھین لی، اور مجوسی النسل قوت نے اس کی ساری کھیتی کو آگ کے حوالے کر دیا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں مختلف تہذیبی اور مذہبی نظاموں کی علامتوں کو جمع کر کے دکھاتے ہیں کہ عام انسان ہر طرف سے لوٹا جا رہا تھا۔ برہمن اور مغ زادہ یہاں کسی ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ان ڈھانچوں کی نمائندگی ہیں جو انسان کی خوب صورتی، اس کی محنت اور اس کی روح دونوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ شعر کے مطابق:

گل کا چھن جانا:

“گل” زندگی کی تازگی، وقار، حسن اور انسانی فطرت کی لطافت کی علامت ہے۔ جب شاعر کہتا ہے کہ برہمن نے گل لے لیا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان سے اس کے وجود کی خوشبو، اس کی اصل رونق اور اس کی آزاد نمو چھین لی گئی۔ یعنی مذہبی و سماجی برتری کے نظام نے اس کے ذوق، اس کی شخصیت اور اس کے وقار پر قبضہ کر لیا۔

یہ محرومی صرف معاشی نہیں، تہذیبی اور نفسیاتی بھی تھی۔

خرمن کا جلایا جانا:

خرمن محنت، رزق اور اجتماعی سرمایہ کی علامت ہے۔ اسے آگ کے حوالے کرنا صرف لوٹنا نہیں بلکہ تباہ کر دینا ہے۔ اقبال اس سے بتاتے ہیں کہ ظلم کبھی کبھی صرف استحصال پر نہیں رکتا، وہ انسان کے بنائے ہوئے سب کچھ کو جلا بھی دیتا ہے۔ یعنی اس کی محنت بھی محفوظ نہیں، اس کی پیداوار بھی نہیں، اور اس کی آئندہ زندگی کی امید بھی نہیں۔

گویا مظلوم انسان کے پاس نہ باغ بچتا ہے نہ کھیت۔

اقبال کی تہذیبی تنقید:

یہ شعر کسی خاص فرقے کے خلاف وقتی جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ تاریخ کے اس اصول کی طرف اشارہ ہے کہ جب مذہبی یا تہذیبی نظام انسان کی برابری کو قبول نہ کریں تو وہ اس کی زندگی کے مختلف گوشوں کو تباہ کرنے لگتے ہیں۔ اقبال دکھاتے ہیں کہ انسان کبھی عقیدے کے نام پر، کبھی طبقے کے نام پر، کبھی طاقت کے نام پر پامال ہوا۔

اسی پس منظر میں رسالتِ محمدیہ کی مساوات اور اخوت ایک عظیم بحالی بن کر سامنے آتی ہے۔

حریت کی ضرورت:

جب کسی معاشرے میں انسان کا گل بھی محفوظ نہ ہو اور خرمن بھی، تو اس کے لیے آزادی محض خوب صورت لفظ نہیں رہتی بلکہ بنیادی ضرورت بن جاتی ہے۔ محمدی رسالت کی حریت اسی معنی میں زندگی بخش ہے: وہ انسان کے حسن، اس کے حق اور اس کی محنت، تینوں کو تحفظ دیتی ہے۔

اقبال کے نزدیک یہی آزادی انسان کو دوبارہ اس کے اصل مقام تک پہنچاتی ہے۔

آج کے لیے پیغام:

آج بھی بہت سے نظام انسان سے اس کا “گل” چھین لیتے ہیں، یعنی اس کی ثقافتی عزت، اس کی زبان، اس کی شناخت یا اس کی امید؛ اور اس کا “خرمن” بھی جلا دیتے ہیں، یعنی اس کی محنت کو برباد یا بے قیمت کر دیتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر نظام انسان کے حسن اور اس کے رزق دونوں کے خلاف ہو جائے تو وہاں محمدی حریت کی ضرورت پھر سے پیدا ہو جاتی ہے۔

اخوت اور مساوات تبھی معنی رکھتی ہیں جب انسان کی لطافت اور محنت دونوں محفوظ ہوں۔

مثال

کسی کمزور برادری سے اگر ایک طرف اس کی ثقافت اور شناخت چھین لی جائے، اور دوسری طرف اس کی زمین یا روزگار بھی تباہ کر دیا جائے، تو اس کی حالت اسی شعر کی تصویری شکل بن جاتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق قدیم جابرانہ نظاموں نے انسان سے اس کی رونق بھی چھینی اور اس کی محنت بھی برباد کی۔ محمدی آزادی اسی تباہی کے مقابلے میں انسان کی عزت، رزق اور فطرت کی بحالی کا پیغام ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button