صبح از مشرق ز مغرب شام رفت
صبح از مشرق ز مغرب شام رفت
جام صد روز از خم ایام رفت
ترجمہ
صبح مشرق سے چل کر مغرب میں شام بن گئی، اور سینکڑوں دنوں کے جام وقت کے خم سے گزر گئے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں وقت کے بہاؤ اور ملت کی بقا کے درمیان ایک نہایت گہرا تعلق واضح کرتے ہیں۔ صبح کا مشرق سے نکلنا اور شام کی صورت میں مغرب تک پہنچ جانا اس کائناتی گردش کی علامت ہے جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتی ہے۔ اسی طرح “جام صد روز” کا “خم ایام” سے گزر جانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دن، زمانے، دور اور ادوار مسلسل گزر رہے ہیں۔ لیکن اقبال کا مقصد صرف گزرنے کا نوحہ نہیں، بلکہ یہ سمجھانا ہے کہ وقت کے اندر بہت کچھ بدلتا ہے مگر بعض حقیقتیں ان تبدیلیوں کے باوجود باقی رہتی ہیں۔ ملتِ محمدیہ کی اصل زندگی بھی اسی طرح وقتی ادوار سے بلند ہے۔ شعر کے مطابق:
صبح سے شام تک کا سفر:
صبح کا شام میں بدل جانا تغیر کا سب سے واضح استعارہ ہے۔ ایک ہی دن کے اندر روشنی کا آغاز بھی ہے، اس کی بلوغت بھی، اور اس کا زوال بھی۔ اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ فطرت کا یہ نظام خود اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ہر ظاہری حالت مستقل نہیں ہوتی۔ عروج کے بعد نزول اور نزول کے بعد پھر اگلی صبح آتی ہے۔
ملت کی تاریخ میں بھی یہی قانون کارفرما ہے۔ کچھ زمانے روشن صبح کی مانند ہوتے ہیں، کچھ شام کی طرح کم نور۔ مگر جس طرح شام آخری حقیقت نہیں، اسی طرح زوال کا کوئی دور بھی امت کی مطلق موت نہیں ہوتا۔
خمِ ایام کا مفہوم:
خمِ ایام ایک بڑی بامعنی تعبیر ہے۔ خم میں شراب محفوظ رہتی ہے اور اس سے بار بار جام بھرے جاتے ہیں۔ اقبال وقت کو ایسے خم سے تشبیہ دیتے ہیں جس سے دنوں کے جام نکلتے رہتے ہیں۔ ایک جام ختم ہو جاتا ہے، پھر دوسرا آتا ہے۔ گویا ایام کا سلسلہ افراد اور واقعات سے کہیں زیادہ وسیع اور مسلسل ہے۔
اس مثال سے وہ سمجھاتے ہیں کہ اگر ایک زمانہ گزر گیا تو حقیقت کا سرچشمہ بند نہیں ہوا۔ تاریخ کے جام تو بدلتے رہتے ہیں، مگر وقت کی کارگاہ چلتی رہتی ہے، اور ملت اگر زندہ ہو تو وہ ہر نئے دور میں اپنے لیے نئی صورت پیدا کر سکتی ہے۔
جامِ صد روز:
سینکڑوں دنوں کے جام گزر جانے کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے عہد، بہت سے تجربے اور بہت سی کیفیات تاریخ میں آ چکی ہیں۔ اقبال کے نزدیک مدت کا گزر جانا خود فنا کی دلیل نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان گزرے ہوئے ایام سے کیا باقی رہا۔ اگر صرف واقعات باقی رہیں تو تاریخ بوجھ بن جاتی ہے، لیکن اگر معنی باقی رہیں تو وہی تاریخ ملت کے لیے رہنمائی بن جاتی ہے۔
ملتِ محمدیہ کی قوت بھی اسی میں ہے کہ اس کے گزرے ہوئے دن محض مردہ ماضی نہیں، بلکہ زندہ سرمایہ بن سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ امت ان میں اصول تلاش کرے، صرف قصے نہیں۔
وقت اور دوامِ ملت:
اس شعر کا اصل نکتہ یہ ہے کہ ملت کو اپنے آپ کو محض ایک وقتی دور کے پیمانے سے نہیں ناپنا چاہیے۔ اگر کسی عہد میں کمزوری ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اصل حقیقت ختم ہو چکی ہے۔ اقبال وقت کے بہاؤ کو سامنے لا کر بتاتے ہیں کہ بہت سے دن آئے اور گزر گئے، مگر جس چیز کی بنیاد حق پر ہو، وہ وقت کے ان بدلتے جاموں سے مٹتی نہیں۔
دوام کا مطلب یہ نہیں کہ ہر صبح ہمیشہ صبح ہی رہے، بلکہ یہ ہے کہ صبح و شام کے تمام سفر کے باوجود اصل زندگی کا قانون قائم رہے۔ یہی ملت کے لیے امید کی بنیاد ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کے سامنے سب سے بڑی فکری غلطیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ کسی ایک دور کی شکست یا کامیابی کو آخری فیصلہ سمجھ لیتی ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ دنوں کے جام بدلتے رہتے ہیں۔ ایک زمانہ اگر ہماری امید کے مطابق نہ ہو تو بھی تاریخ ختم نہیں ہو جاتی۔ ہمیں اپنے حال کو وسیع تر وقت کے اندر رکھ کر دیکھنا چاہیے، اور اس بنیادی روح کی حفاظت کرنی چاہیے جو نئے ایام میں پھر سے قوت پیدا کر سکتی ہے۔
مثال
جیسے ایک قوم کی تعلیمی زبوں حالی کا ایک دور آ جائے تو یہ ضروری نہیں کہ اس کی علمی روایت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ہو۔ اگر کتاب، استاد، ذوقِ علم اور فکری غیرت کی جڑ باقی ہو تو اگلی نسل میں وہی روایت نئے انداز سے پھر زندہ ہو سکتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں وقت کے مسلسل بہاؤ کو ملت کے دوام کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ صبح شام میں بدلتی ہے اور بہت سے دن گزر جاتے ہیں، مگر اس سے وہ حقیقت مٹتی نہیں جو وقتی ادوار سے بلند ہو۔ ملتِ محمدیہ کی اصل زندگی بھی اسی طرح زمانوں کے گزرنے کے باوجود باقی رہتی ہے۔