محفل انجم ز جذب باہم است
محفل انجم ز جذب باہم است
ہستی کوکب ز کوکب محکم است
ترجمہ
ستاروں کی محفل باہمی کشش سے قائم ہے، اور ایک ستارے کا وجود دوسرے ستاروں سے مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں ستاروں کی تمثیل سے اجتماعیت اور باہمی کشش کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک وجود کا استحکام باہمی ربط میں ہے۔ شعر کے مطابق:
ستاروں کی محفل اور باہمی کشش:
اقبال کہتے ہیں کہ آسمان پر ستاروں کی جو محفل سجی ہے، وہ باہمی کشش اور جاذبیت کے اصول پر قائم ہے۔ یہی کشش انہیں ایک نظام میں باندھے رکھتی ہے۔
اگر یہ باہمی کشش نہ ہو تو ستارے بکھر جائیں اور کائنات کا نظام درہم برہم ہو جائے۔
ستارے کا استحکام دوسرے ستاروں سے:
شاعر کہتے ہیں کہ ایک ستارے کا وجود اور اس کا استحکام دوسرے ستاروں کے ساتھ اس کے تعلق سے قائم ہے۔ تنہا ستارہ اپنی جگہ برقرار نہیں رہ سکتا۔
یہ باہمی ربط ہی ہے جو ہر ستارے کو اس کے مدار میں مضبوطی سے قائم رکھتا ہے۔
فرد اور اجتماع پر انطباق:
اقبال اس کائناتی اصول کو انسانی زندگی پر منطبق کرتے ہیں کہ جس طرح ستارے باہمی کشش سے مستحکم ہیں، اسی طرح فرد کا استحکام بھی اجتماع اور باہمی ربط سے ہے۔
وحدت میں قوت:
یوں اقبال یہ حقیقت واضح کرتے ہیں کہ وجود کی مضبوطی تنہائی میں نہیں بلکہ باہمی ربط اور اجتماعیت میں ہے۔
مثال
جیسے آسمان پر ستارے ایک دوسرے کی کشش سے اپنے مدار میں قائم رہتے ہیں اور مل کر ایک خوبصورت نظام بناتے ہیں، ویسے ہی افراد باہمی ربط سے ایک مضبوط اور مستحکم ملت تشکیل دیتے ہیں۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ جس طرح ستاروں کا نظام باہمی کشش سے قائم ہے، اسی طرح فرد کا استحکام بھی اجتماع اور باہمی ربط سے ہے۔
