رموز بے خودی

دزدد از پا طاقت رفتار را

دزدد از پا طاقت رفتار را

می رباید از دماغ افکار را

ترجمہ

یہ پاؤں سے چلنے کی طاقت چرا لیتا ہے، اور دماغ سے خیالات کو بھی چھین لیتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں خوف اور یأس کی ڈکیتی کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ بیماری انسان کے قدموں سے حرکت کی قوت چھین لیتی ہے اور اس کے دماغ سے سوچنے، منصوبہ بنانے اور نئے راستے دیکھنے کی صلاحیت بھی ربودہ کر لیتی ہے۔ شعر کے مطابق:

طاقتِ رفتار کی چوری:

پاؤں زندگی میں حرکت، سفر، پیش قدمی اور عمل کی علامت ہیں۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ یہ طاقتِ رفتار چُرا لیتا ہے تو مراد یہ ہے کہ خوف انسان کو عمل سے روک دیتا ہے۔ وہ جانتا بھی ہو تو بڑھ نہیں پاتا، چاہتا بھی ہو تو قدم نہیں اٹھا پاتا، اور نیکی یا حق کی طرف جانے والی راہ میں تھم جاتا ہے۔

یہ چوری اس لیے خطرناک ہے کہ انسان کو بعض اوقات اپنا رکا ہوا قدم نظر بھی نہیں آتا۔ وہ خود اپنے توقف کی عادت ڈال لیتا ہے اور اس جمود کو حکمت یا احتیاط کا نام دینے لگتا ہے۔

دماغ سے افکار کا چھن جانا:

یأس صرف عمل کو نہیں روکتی، فکر کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جب دل خوف میں ہو تو دماغ نئے امکان، تازہ تدبیر اور روشن خیال کو پوری طرح جنم نہیں دے پاتا۔ بار بار کا اندیشہ، شکست کا تصور، اور بدگمانی فکر کی آزادی کم کر دیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ شاعر “می رباید” کہتے ہیں۔ یعنی جیسے کوئی ڈاکو کھلی چیز نہیں بلکہ پوشیدہ متاع بھی لے جائے، ویسے ہی خوف دماغ کے اندر کی روشنی اور فکر کی تازگی بھی لے جاتا ہے۔

فکر اور عمل کا باہمی ربط:

اقبال اس شعر میں ایک بڑی حقیقت دکھاتے ہیں: جب فکر کمزور ہو تو عمل کمزور ہوتا ہے، اور جب عمل رک جائے تو فکر بھی سست پڑتی ہے۔ خوف دونوں پر بیک وقت حملہ کرتا ہے۔ وہ نہ صرف قدم روکتا ہے بلکہ دماغ کی راہوں کو بھی دھندلا دیتا ہے۔

اسی لیے اس مرض کا علاج جزوی نہیں ہو سکتا۔ دل کو مضبوط کرنا، فکر کو روشن کرنا، اور قدم کو حرکت دینا، تینوں ایک ساتھ درکار ہیں۔ یہی توحیدی تربیت کا مقصد ہے۔

حرکت اور تخلیق کی بازیافت:

جب انسان غیر اللہ کے خوف سے نکلتا ہے تو اس کے قدم دوبارہ چلنے لگتے ہیں، اور اس کے دماغ میں نئے افکار بھی لوٹنے لگتے ہیں۔ امید حرکت کو جنم دیتی ہے، اور حرکت سے نئی فکر بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے اقبالی علاج میں ایمان صرف تسلی نہیں، تخلیقی بحالی بھی ہے۔

یعنی دل کا علاج دماغ کی روشنی بھی واپس لاتا ہے، اور دماغ کی روشنی قدموں کی رفتار بھی بڑھاتی ہے۔

ملت کے لیے معنی:

ایک ملت جب خوف میں مبتلا ہو جاتی ہے تو اس کے قدم بھی رک جاتے ہیں اور اس کے افکار بھی دوسروں کے تابع ہونے لگتے ہیں۔ نہ وہ جرات سے عمل کرتی ہے، نہ آزادانہ سوچ پیدا کرتی ہے۔ اقبال امت کو یہی بتا رہے ہیں کہ اس کی فکری غلامی اور عملی کمزوری کا ایک بڑا سبب خوف بھی ہے۔

پس اس شعر میں قومی احیا کا ایک بنیادی راز بھی پوشیدہ ہے: خوف کو نکالو، فکر اور عمل دونوں بحال ہو جائیں گے۔

مثال

ایک طالب علم اگر امتحان کے خوف میں ایسا گرفتار ہو جائے کہ پڑھتے وقت ذہن کام نہ کرے اور لکھنے بیٹھے تو ہاتھ نہ چلے، تو اس کی اصل صلاحیت دبی رہ جاتی ہے۔ خوف نے اس کی فکر اور عمل دونوں کو باندھ دیا ہوتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق خوف اور یأس انسان کے قدموں سے حرکت کی طاقت اور دماغ سے افکار کی تازگی دونوں چھین لیتے ہیں۔ نجات اسی میں ہے کہ دل کو توحیدی اعتماد سے مضبوط کر کے فکر اور عمل دونوں کو دوبارہ آزاد کیا جائے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button