رموز بے خودی

سست و بیجاں تار و پود کار او

سست و بیجاں تار و پود کار او

نا گشودہ غنچۂ پندار او

ترجمہ

(تنہا اور خام فرد کے) کام کا تانا بانا کمزور اور بے جان ہے، اور اس کے خیال کی کلی ابھی کھلی نہیں۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں اس فرد کی حالت بیان کرتے ہیں جو ابھی اجتماع اور تربیت سے محروم ہے۔ ایسا فرد خام، کمزور اور نامکمل ہوتا ہے۔ شعر کے مطابق:

کام کا کمزور تانا بانا:

اقبال کہتے ہیں کہ خام اور تنہا فرد کے کام کا تانا بانا کمزور اور بے جان ہوتا ہے۔ اس کی کوششوں میں مضبوطی، تسلسل اور جان نہیں ہوتی۔

وہ جو بھی کام کرتا ہے، اس میں پختگی اور استحکام کی کمی رہتی ہے، کیونکہ اسے ابھی اجتماع کی قوت اور تربیت میسر نہیں آئی۔

خیال کی بند کلی:

شاعر کہتے ہیں کہ اس فرد کے خیال کی کلی ابھی کھلی نہیں۔ یعنی اس کی فکر اور صلاحیتیں ابھی پوشیدہ اور غیر مکمل ہیں، اور اپنی پوری خوبصورتی کے ساتھ ظاہر نہیں ہوئیں۔

جیسے بند کلی ابھی پھول بن کر نہیں کھلی، ویسے ہی اس فرد کی سوچ اور صلاحیت ابھی نکھار کی منتظر ہے۔

خام فرد کی حالت:

اقبال اس کے ذریعے یہ باور کراتے ہیں کہ اجتماع اور تربیت سے محروم فرد اپنی صلاحیتوں سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور خام رہ جاتا ہے۔

تربیت کی ضرورت:

اس خامی کا علاج اجتماع اور رہنمائی ہے، جو فرد کی صلاحیتوں کو نکھار کر اسے مکمل اور بارآور بناتی ہے۔

مثال

جیسے ایک بند کلی جب تک دھوپ اور فضا نہ پائے، پھول بن کر نہیں کھلتی، ویسے ہی خام فرد جب تک اجتماع اور تربیت نہ پائے، اپنی صلاحیتوں کے ساتھ نہیں نکھرتا۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ اجتماع اور تربیت سے محروم فرد کمزور، خام اور نامکمل رہتا ہے، اور اس کی صلاحیتیں بند کلی کی طرح پوشیدہ رہتی ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button