رموز بے خودی

از کمان آیم چو سوی سینه من

از کمان آیم چو سوی سینه من

نیک می بینم به توی سینه من

ترجمہ

جب میں کمان سے نکل کر سینے کی طرف آتا ہوں تو میں اس سینے کے اندر جھانک کر اچھی طرح دیکھ لیتا ہوں۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں تیر کی زبان سے ایک نہایت باریک اور فیصلہ کن حقیقت بیان کرتے ہیں: حملہ یا قوت کا ظاہری رخ کچھ بھی ہو، اصل فیصلہ اس دل اور سینے کی کیفیت سے ہوتا ہے جس پر یہ وارد ہو رہا ہے۔ یہاں تیر صرف جسمانی چوٹ کا ذریعہ نہیں بلکہ باطن کا امتحان لینے والی چیز بن جاتا ہے۔ شعر کے مطابق:

تیر کا دیکھنا کیا معنی رکھتا ہے:

ظاہر میں تیر تو صرف ایک آہنی پیکان ہے، مگر اقبال نے اسے دیکھنے والا بنا کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ میدانِ عمل میں صرف باہر کے مناظر نہیں کھلتے، اندر کے راز بھی سامنے آ جاتے ہیں۔ جب کوئی امتحان، صدمہ، معرکہ یا خطرہ انسان کے سینے تک پہنچتا ہے تو وہ اس کے باطن کی حقیقت ظاہر کر دیتا ہے۔

گویا تیر کہہ رہا ہے کہ میں صرف گوشت کو نہیں چیرتا، میں دل کی کیفیت بھی جانچ لیتا ہوں۔ یہی اقبال کا مقصود ہے: حالات انسان کا اندر کھول دیتے ہیں۔

سینہ بطور باطن:

سینہ یہاں محض جسمانی عضو نہیں بلکہ دل، نیت، ایمان اور ضمیر کی علامت ہے۔ آدمی کی اصل حقیقت اسی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ روزمرہ حالتوں میں شاید یہ راز چھپا رہتا ہے، مگر جب معرکہ درپیش ہو، جب قربانی کی گھڑی آئے، یا جب حق کے لیے کھڑا ہونا پڑے، تب سینہ خود اپنی گواہی دینے لگتا ہے۔

اقبال کے نزدیک یہی وجہ ہے کہ میدان صرف بیرونی طاقت کا امتحان نہیں، بلکہ باطنی حقیقت کا انکشاف بھی ہوتا ہے۔ تیر کے آنے پر جسم سے پہلے دل کی حالت سامنے آتی ہے۔

امتحان حقیقت کو ظاہر کرتا ہے:

یہ شعر ایک عام اصول بھی سکھاتا ہے: انسان اپنے بارے میں بہت کچھ سوچ سکتا ہے، مگر اصل حقیقت آزمائش کے لمحوں میں کھلتی ہے۔ کوئی شخص خود کو بہادر سمجھتا ہو، مگر خطرہ آنے پر اس کے سینے میں کیا ہے، وہی اصل پیمانہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح کوئی اپنے آپ کو مومن، صادق یا باوقار سمجھتا ہو، مگر امتحان دکھا دیتا ہے کہ باطن میں یأس، خوف اور خود غرضی زیادہ ہے یا یقین اور صفا۔

اس لحاظ سے تیر ایک علامت بن جاتا ہے ہر اس واقعے کی جو دل کی تہوں تک پہنچ کر اس کی سچائی کو ظاہر کر دے۔

باطنی تیاری کی ضرورت:

اقبال کا پیغام یہ ہے کہ صرف ظاہری تیاری کافی نہیں۔ ہتھیار، نظم، مہارت اور تدبیر اپنی جگہ اہم ہیں، مگر سینہ اگر درست نہ ہو تو معرکہ حقیقت میں جیتا نہیں جاتا۔ دل کو خوف، یأس، ریا اور ضعف سے پاک رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اصل نظر اسی باطن پر پڑنے والی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال کے ہاں جہاد، معرکہ یا قوت ہمیشہ اخلاقی اور روحانی تطہیر سے وابستہ رہتے ہیں۔ میدان میں جانے سے پہلے سینہ صاف ہونا چاہیے۔

فرد اور ملت دونوں کے لیے سبق:

فرد کی سطح پر یہ شعر کہتا ہے کہ اپنے آپ کو آزمائش سے پہلے پہچانو۔ تمہارے سینے میں کیا ہے؟ امت کی سطح پر یہ بتاتا ہے کہ قوم کی اصل طاقت اس کے اسلحے یا تعداد سے پہلے اس کے دل کی صفا اور اس کے اجتماعی ضمیر کی حالت میں ہے۔ اگر سینے میں خوف، یأس یا خود غرضی زیادہ ہو تو تیز ترین تیر بھی فیصلہ کن فائدہ نہیں دے گا۔

پس اس شعر میں اقبال ہمیں ہر بڑے عمل سے پہلے اپنے باطن کے محاسبے کی دعوت دیتے ہیں۔ یہی محاسبہ قوت کو حق کے تابع رکھتا ہے۔

مثال

کسی مشکل انٹرویو، عدالت، یا حق کے موقع پر انسان کی تیاری صرف زبان سے نہیں جانچی جاتی، بلکہ اس کے دل کی کیفیت فوراً ظاہر ہو جاتی ہے۔ اعتماد، خوف، سچائی اور اضطراب سب سامنے آ جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک طرح کا “تیر” ہے جو سینے کے اندر جھانک لیتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق جب آزمائش سینے تک پہنچتی ہے تو وہ باطن کی حقیقت ظاہر کر دیتی ہے۔ اس لیے اصل تیاری ظاہری قوت سے پہلے دل کی صفائی، ایمان کی مضبوطی اور نیت کی درستی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button