دل مقام خویشی و بیگانگی است
دل مقام خویشی و بیگانگی است
شوق را مستی ز ہم پیمانگی است
ترجمہ
دل ہی اپنائیت اور بیگانگی کا مقام ہے، اور شوق کو سرمستی ہم پیمانی اور ہم عہدی سے ملتی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں دل کی مرکزی حیثیت اور اجتماعی وابستگی کے روحانی راز کو بیان کرتے ہیں۔ انسان کی نسبتیں، اس کی محبتیں، اس کی وفاداریاں اور اس کی بیگانگیاں اصل میں دل ہی میں جنم لیتی ہیں۔ اسی دل کے رشتے سے شوق کو سرمستی اور قوت ملتی ہے، اور یہی رشتہ فرد کو ملت کے ساتھ جوڑتا ہے۔ شعر کے مطابق:
دل بطور مرکزِ نسبت:
اقبال کہتے ہیں کہ خویشی اور بیگانگی دونوں کا مقام دل ہے۔ ظاہری رشتے، نسب، زبان یا قربت اپنی جگہ، مگر اصل اپنائیت دل سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر دل میں محبت، مقصد کی شرکت اور باطنی ربط ہو تو دور کے لوگ بھی اپنے بن جاتے ہیں، اور اگر یہ ربط نہ ہو تو قریب کے لوگ بھی اجنبی رہتے ہیں۔
اس طرح شاعر ہمیں بتاتے ہیں کہ زندگی کی اصل وحدت یا تفرقہ صرف ظاہری پیمانوں سے نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ اس کا مرکز دل کی کیفیت ہے۔
بیگانگی کا اصل سبب:
بیگانگی صرف فاصلے یا اختلاف سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دل مشترک مقصد اور سچے تعلق سے خالی ہو جائے۔ ایک ہی قوم، ایک ہی خاندان یا ایک ہی جماعت کے لوگ بھی اگر دلوں کے اعتبار سے کٹے ہوئے ہوں تو بیگانگی بڑھتی جاتی ہے۔ اقبال اس لطیف حقیقت کو بہت کم لفظوں میں بیان کر دیتے ہیں۔
یعنی خویشی اور بیگانگی کا راز سماج کے ڈھانچے سے پہلے باطن کے تعلق میں ہے۔
شوق اور ہم پیمانگی:
شوق تنہا بھی ہو سکتا ہے، مگر اس کی پختگی اور سرمستی اکثر مشترک عہد سے پیدا ہوتی ہے۔ “ہم پیمانگی” اس بات کی علامت ہے کہ لوگ ایک ہی سچ، ایک ہی مقصد اور ایک ہی وفاداری پر جمع ہوں۔ جب دلوں میں یہ مشترک عہد پیدا ہوتا ہے تو شوق میں ایک نئی سرشاری آتی ہے۔ انسان اپنے مقصد میں اکیلا نہیں رہتا بلکہ اسے اپنے جیسے دلوں کی رفاقت میسر آتی ہے۔
یہی رفاقت شوق کو دیرپا، فعال اور اجتماعی قوت میں بدل دیتی ہے۔
ملت کی روحانی بنیاد:
اقبال کے نزدیک ملت کی بنیاد صرف قانونی یا سیاسی اتحاد نہیں، بلکہ دلوں کا ایک عہد ہے۔ اگر قوم کے افراد ایک سچے نصب العین پر باہم جڑ جائیں تو ان کی جماعت میں روح پیدا ہوتی ہے۔ پھر محض ہجوم نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ ملت وجود میں آتی ہے۔ شوق کی مستی یہی ہے کہ وہ مشترک ایمان اور مشترک وفاداری سے تازہ ہوتی رہتی ہے۔
اسی لیے امت کی وحدت کے لیے دلوں کا ایک ہونا ضروری ہے، نہ کہ صرف نعروں کا ایک ہونا۔
فرد کے لیے سبق:
یہ شعر فرد کو بھی یہ سکھاتا ہے کہ وہ اپنے دل کی نسبتوں کو پہچانے۔ اس کا شوق کن لوگوں اور کن مقاصد کے ساتھ زندہ ہوتا ہے؟ اس کی اپنائیت کس بنیاد پر قائم ہے؟ اگر دل حق کے عہد سے جڑا ہو تو اس کے رشتے بھی پاکیزہ، اس کی محبتیں بھی بامعنی، اور اس کی بیگانگیاں بھی اصولی ہوں گی۔
یوں دل صرف جذبات کا گھر نہیں رہتا بلکہ اخلاقی انتخاب کا مرکز بن جاتا ہے۔
مثال
کبھی دو لوگ ایک دوسرے سے پہلے واقف نہیں ہوتے، مگر جیسے ہی انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی مقصد، ایک ہی درد یا ایک ہی خدمت کے راستے پر ہیں، ان کے درمیان فوراً قربت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ ظاہری تعلق سے زیادہ دل کی ہم پیمانگی کا اثر ہوتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق اپنائیت اور بیگانگی کا اصل مرکز دل ہے، اور شوق کو قوت مشترک عہد اور ہم پیمانگی سے ملتی ہے۔ ملت کی زندہ وحدت بھی اسی باطنی ربط سے پیدا ہوتی ہے۔