لااله گویان چو انجم بی شمار
لااله گویان چو انجم بی شمار
بسته چشم اندر ظلام روزگار
ترجمہ
لا الٰہ کا نغمہ کہنے والے بے شمار ستارے ابھی زمانے کی تاریکی میں آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔
تشریح
اس شعر میں اقبال تنقید کے بعد اچانک امید کا ایک در کھولتے ہیں۔ “لااله گویان چو انجم بی شمار” سے مراد وہ بے شمار ممکنہ انسان، وہ آئندہ نسلیں، اور وہ چھپی ہوئی روحانی صلاحیتیں ہیں جو ابھی پوری طرح ظاہر نہیں ہوئیں۔ شاعر انہیں ستاروں سے تشبیہ دیتے ہیں، کیونکہ ستارہ روشنی، سمت، اور آسمانی نسبت کی علامت ہے۔ مگر یہ ستارے ابھی “بسته چشم” ہیں، یعنی ان کی آنکھیں کھلی نہیں، ان کی روشنی ظاہر نہیں ہوئی، اور ان کا عملی کردار ابھی دنیا کے افق پر نمودار نہیں ہوا۔
“اندر ظلام روزگار” اس زمانے کی تاریکی کو ظاہر کرتا ہے جس میں یہ امکانات ابھی پوشیدہ ہیں۔ گویا اقبال کہہ رہے ہیں کہ موجودہ تہذیبی بحران کے باوجود امت کے اندر بے شمار توحید شعار امکانات اب بھی موجود ہیں۔ ابھی وہ ظاہر نہیں ہوئے، مگر معدوم بھی نہیں۔ ان کی آنکھیں بند ہیں، مگر ان کے اندر “لا الٰہ” کی صدا موجود ہے۔ یہی شعر آئندہ اشعار کی تمہید بھی بنتا ہے، جہاں شاعر اس نامشہود امکان کو اور زیادہ کھولتے ہیں۔ اس طرح وہ ناامیدی کے بجائے باطنی امکان کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں۔
ستاروں کی تمثیل:
ستارے اندھیرے میں سمت دیتے ہیں، اسی لیے اقبال نے انہیں آئندہ روشنی کی علامت بنایا ہے۔ یہ وہ روحانی اور انسانی امکانات ہیں جو ابھی ظہور کے مرحلے تک نہیں پہنچے، مگر اپنی اصل میں موجود ہیں۔
ان کی کثرت بھی اہم ہے۔ شاعر صرف ایک دو امیدوں کی بات نہیں کر رہا، بلکہ بے شمار پوشیدہ امکانات کی خبر دے رہا ہے۔
بسته چشم ہونے کا مطلب:
آنکھ بند ہونا غفلت بھی ہو سکتا ہے، مگر یہاں زیادہ مناسب معنی امکانِ پوشیدہ کا ہے۔ جیسے کوئی روشنی ابھی طلوع ہونے سے پہلے افق کے پیچھے ہو، ویسے ہی یہ توحیدی امکانات ابھی مکمل ظہور میں نہیں آئے۔
اس لیے شعر میں مایوسی نہیں بلکہ صبر اور انتظار کا پہلو بھی شامل ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ اندھیرے کے باوجود نور کے بیج اندر موجود ہیں۔
لا الٰہ کی صدا:
“لا الٰہ” صرف زبانی ذکر نہیں بلکہ توحید، حریت، اور باطل سے انکار کی پوری روح کا نشان ہے۔ جو ستارے اس صدا کے حامل ہیں، وہ مستقبل کی ایسی نسلوں کی علامت ہیں جو حق کی بنیاد پر اٹھ سکتی ہیں۔
یوں اقبال تنقید سے امید کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ وہ دکھاتے ہیں کہ ملت کی اصل روح ابھی پوری طرح بجھی نہیں، بلکہ اندھیرے میں بھی اپنے امکانات محفوظ رکھے ہوئے ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کے زمانے میں جب زوال، بحران، اور اخلاقی کم زوری زیادہ نمایاں دکھائی دے تو مایوسی آسان ہو جاتی ہے۔ اقبال اس کے برعکس اندرونی امکان کو دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں۔
یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر تاریک دور کے اندر کچھ ستارے ابھی پیدا ہونے کے منتظر ہوتے ہیں۔ ملت کی باطنی روح اگر زندہ ہو تو اس کے اندر توحید شعار نسلوں کے امکانات کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔
مثال
جیسے زمین کے اندر چھپے ہوئے بے شمار بیج سرد موسم میں خاموش پڑے رہتے ہیں مگر ان کے اندر بہار کی پوری صلاحیت محفوظ ہوتی ہے، ویسے ہی ملت کے اندر پوشیدہ روحانی امکانات اپنے ظہور کے وقت کے منتظر رہتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں امید کا اعلان کرتے ہیں کہ ملت کے اندر بے شمار توحید شعار امکانات اب بھی موجود ہیں۔ وہ ابھی زمانے کی تاریکی میں پوشیدہ ہیں، مگر ان کے اندر مستقبل کی روشنی زندہ ہے۔