گفت ای یاران مسلمانیم ما
گفت ای یاران مسلمانیم ما
تار چنگیم و یک آهنگیم ما
ترجمہ
انہوں نے کہا: اے دوستو، ہم مسلمان ہیں، ہم چنگ کے تار ہیں اور سب ایک ہی نغمے سے بندھے ہوئے ہیں۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں ابوعبید کے جواب کو صرف ایک جنگی فیصلہ نہیں رہنے دیتے، بلکہ اسے ملت کی روح کا اعلان بنا دیتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے “ہم مسلمان ہیں” کہتے ہیں، یعنی فیصلے کی بنیاد شخصی رائے، وقتی فائدہ یا جنگی چال نہیں بلکہ اسلامی نسبت ہے۔ پھر وہ اس نسبت کو ایک موسیقائی استعارے میں کھولتے ہیں: ہم چنگ کے تار ہیں، مگر سب ایک ہی آہنگ کے تابع۔ شعر کے مطابق:
ہم مسلمان ہیں:
یہ فقرہ محض شناخت کا بیان نہیں، اصول کا اعلان ہے۔ گویا ابوعبید کہتے ہیں کہ ہمارا ردعمل صرف دشمن کی چالاکی یا فتح کے فائدے سے طے نہیں ہوگا۔ ہم اپنی ملت، اپنے دین اور اپنے نبوی مزاج کے مطابق عمل کریں گے۔ یہاں “مسلمان” ہونا عملی اخلاق کا نام بن جاتا ہے، صرف عقیدے کے نام کا نہیں۔
اقبال اسی لمحے فردی جذبات سے اوپر اٹھ کر ملت کے مرکز کو فیصلہ ساز بنا دیتے ہیں۔
تارِ چنگ کا استعارہ:
چنگ کے تار الگ الگ ہوتے ہیں، مگر ایک ہی ساز میں بندھے ہوتے ہیں۔ ہر تار کی اپنی جگہ ہوتی ہے، مگر ان کی اصل قدر اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ ایک ہم آہنگ نغمے میں شریک ہوں۔ اقبال کے نزدیک امت بھی ایسی ہی ہے: افراد مختلف ہیں، مگر ان کا اخلاقی اور روحانی مرکز ایک ہے۔
اس سے فرد کی انفرادیت مٹتی نہیں، بلکہ ملت کے آہنگ میں اپنا درست مقام پاتی ہے۔
یک آہنگی کی اہمیت:
اگر ایک تار اپنی الگ دھن بجانے لگے تو پورا ساز بگڑ جاتا ہے۔ ابوعبید اسی نکتے سے مسلمانوں کو یاد دلاتے ہیں کہ فردی فیصلہ بھی ملت کے عمومی آہنگ سے باہر نہیں ہونا چاہیے۔ امان، صلح، جنگ، وفا، اور عدل جیسے اصول اس اجتماعی نغمے کا حصہ ہیں۔
گویا اسلامی اخوت محض محبت نہیں، ایک اخلاقی ہم آہنگی بھی ہے۔
ملت بطور زندہ موسیقی:
یہ استعاره اقبال کی شاعری کی لطافت بھی دکھاتا ہے۔ وہ ملت کو پتھریلا، خشک یا محض عسکری بندوبست نہیں سمجھتے، بلکہ زندہ آہنگ دار حقیقت سمجھتے ہیں۔ اگر اس کے افراد نبوی مرکز کے مطابق جئیں تو اس سے ایک اخلاقی موسیقی پیدا ہوتی ہے۔ اور اگر ہر شخص اپنی مصلحت کی آواز پر چلے تو یہ موسیقی شور میں بدل جاتی ہے۔
ابوعبید کا فیصلہ دراصل شور کے مقابلے میں ملت کے اصل نغمے کو بچانا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کے اندر بہت سے الگ الگ لہجے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا بنیادی آہنگ ایک ہے؟ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر افراد، جماعتیں اور ادارے خود کو ملت کے چنگ کے تار سمجھیں تو بہت سے تنازعات کم ہو جائیں۔ مگر اگر ہر شخص اپنی ذات، اپنے مفاد یا اپنے حلقے کا ساز بجائے تو وحدت زخمی ہو جاتی ہے۔
اسلامی اخوت کی حفاظت کے لیے “ہم مسلمان ہیں” کو صرف شناخت نہیں، مشترک اخلاقی آہنگ بنانا ہوگا۔
مثال
ایک کامیاب ٹیم میں ہر فرد کی مہارت الگ ہوتی ہے، مگر اگر سب ایک ہی مقصد اور ایک ہی کھیل کے منصوبے سے جڑے رہیں تو فتح ممکن ہوتی ہے۔ ورنہ باصلاحیت افراد بھی ایک دوسرے کے خلاف کام کرنے لگتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق مسلمان ملت کے چنگ کے تاروں کی طرح ہیں: الگ الگ ہوتے ہوئے بھی ایک ہی نبوی آہنگ کے تابع۔ فردی فیصلے اسی وقت درست ہوتے ہیں جب وہ اس اجتماعی اخلاقی موسیقی کو توڑنے کے بجائے مضبوط کریں۔
