ای صراطت مشکل از بی مرکبی
ای صراطت مشکل از بی مرکبی
من چه گویم چون مرا پرسد نبی
ترجمہ
اے وہ شخص جس کا راستہ سواری نہ ہونے کے باعث دشوار ہے، جب نبی مجھ سے پوچھیں گے تو میں کیا جواب دوں گا؟
تشریح
اس شعر میں والد کی آواز نہایت براہِ راست اور دل لرزا دینے والی ہو جاتی ہے۔ وہ گویا اس سائل کو سامنے رکھ کر یا اس کی حالت کا تصور کر کے کہتے ہیں: اے اس شخص جس کا راستہ بے سواری کے باعث مشکل ہے، جب نبی مجھ سے پوچھیں گے تو میں کیا جواب دوں گا؟ اس میں دو درد ایک ساتھ موجود ہیں۔ ایک کمزور انسان کی بیرونی دشواری، اور دوسرا ایک مومن دل کی اندرونی جواب دہی۔ سائل کی محرومی محض معاشی محرومی نہیں رہی؛ وہ ایک ایسا سوال بن گئی ہے جسے والد نبوی دربار کے سامنے محسوس کر رہا ہے۔
“بی مرکبی” بہت بلیغ لفظ ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ اس شخص کے پاس سواری نہیں، اس لیے اس کا راستہ مشکل ہے۔ لیکن اس کے پیچھے پورا انسانی فقر اور بے سروسامانی کھڑی ہے۔ کوئی آدمی جو پہلے ہی زندگی کے بوجھ سے تھکا ہوا ہے، جس کے قدموں کے نیچے نرمی نہیں، سفر کے لیے سہارا نہیں، اور پھر بھی وہ بھیک یا مدد کے لیے دروازے دروازے آتا ہے، اس کے ساتھ سختی کرنا کس قدر سنگ دلانہ بات ہے۔ والد اسی محرومی کو محسوس کر کے اپنی شرمندگی بیان کر رہا ہے۔
بی مرکبی کی علامت:
بی مرکبی صرف مادی فقر نہیں، وہ ہر اس حالت کی علامت ہے جس میں انسان سہارا نہ رکھتا ہو۔ سائل بے سواری ہے، بے قوت ہے، بے مقام ہے۔ اس کے مقابلے میں نوجوان کے پاس گھر ہے، قوت ہے، اختیار ہے۔ نبوی اخلاقیات کا اصل سوال یہی ہے کہ طاقت ور اپنے مقابلے میں بے سہارا انسان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ اگر وہ اسے اور زیادہ زخمی کرے تو وہ اپنے منصبِ انسانی سے گر جاتا ہے۔
اس شعر میں والد نے اسی فرق کو پوری شدت سے محسوس کیا ہے۔ اس کا دل اس لیے کانپ رہا ہے کہ ایک پہلے سے تھکے ہوئے آدمی پر مزید سختی ہوئی، اور وہ بھی ایسے گھر سے جسے نبوی ادب کا امین ہونا چاہیے تھا۔
جواب دہی کا خوف:
“من چه گویم چون مرا پرسد نبی” اس شعر کا روحانی مرکز ہے۔ والد اپنے بیٹے کی غلطی کو صرف بیٹے کا مسئلہ نہیں سمجھ رہا، بلکہ اپنی امانت کا سوال سمجھ رہا ہے۔ شاید اس لیے کہ اولاد کی تربیت اس کے سپرد تھی، یا اس لیے کہ ایک مسلمان گھر کا وقار اس کے ذمہ تھا۔ اب اسے خوف ہے کہ اگر رسول اکرم پوچھیں کہ تمہارے گھر کے اخلاق کا یہ حال کیوں تھا تو وہ کیا جواب دے گا۔
یہ خوف بے بنیاد نہیں، بلکہ محبت آمیز ادب سے پیدا ہوا ہے۔ جس دل میں نسبتِ نبوی زندہ ہو وہ اپنے معمولی سے معمولی عمل کو بھی اس نسبت کے سامنے تولتا ہے۔ یہی خوف حسنِ سیرت کو ظاہری دعوے سے نکال کر زندہ جواب دہی میں بدل دیتا ہے۔
آدابِ محمدیہ کی گہرائی:
اس شعر سے واضح ہوتا ہے کہ آدابِ محمدیہ صرف سلوک کا ایک نمونہ نہیں، جواب دہی کا ایک شعور بھی ہے۔ آدمی جب کمزور کے ساتھ نرمی کرتا ہے تو صرف اس لیے نہیں کہ یہ اچھا اخلاق ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ وہ خود کو نبی کی امت سمجھتا ہے۔ اور اگر اس نسبت کے خلاف کوئی سختی سرزد ہو تو دل میں سوال اٹھتا ہے: میں اس عمل کو حضورِ نبوی کے سامنے کیسے پیش کروں گا؟
اقبال اسی شعور کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک ملی حسنِ سیرت اسی وقت پیدا ہوگا جب روزمرہ کے مزاج میں یہ سوال زندہ ہو: کیا یہ رویہ نسبتِ محمدی کے لائق ہے؟
آج کے لیے سبق:
آج ہم کمزوروں کی بے مرکبی کی صورتیں بہت جگہ دیکھتے ہیں: مالی تنگی، سماجی بے وزنی، جذباتی بے سہارا پن، تعلیم یا صحت کی محرومی، اور کبھی محض اتنا کہ کسی کے پاس اپنا دفاع کرنے کی طاقت نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان لوگوں کے لیے مزید راستہ سخت کرتے ہیں یا کچھ سہارا بنتے ہیں؟ اور اگر ہمارے سلوک پر نبی کی نسبت کا سوال کھڑا ہو جائے تو ہم کیا کہیں گے؟
یہ شعر ہمیں بے پناہ سنجیدگی دیتا ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ کمزور کی محرومی پر سختی کرنا دوہرا ظلم ہے: ایک اس پر، اور ایک اپنی نسبت پر۔
مثال
جیسے پہلے سے لنگڑے آدمی کو دھکا دینا محض حرکت نہیں بلکہ قساوت ہے، ویسے ہی بے سہارا انسان پر سختی نبوی اخلاق سے دوری کی واضح علامت ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں کمزور انسان کی محرومی اور مومن دل کی جواب دہی کو ایک جگہ جمع کرتے ہیں۔ آدابِ محمدیہ کا تقاضا یہی ہے کہ بے سہارا پر سختی کے بجائے رحمت کی جائے، ورنہ نسبتِ نبوی کے سامنے جواب مشکل ہو جاتا ہے۔