رموز بے خودی

بر زمین کربلا بارید و رفت

بر زمین کربلا بارید و رفت

لاله در ویرانه ها کارید و رفت

ترجمہ

وہ کربلا کی زمین پر برسا اور چلا گیا، مگر ویرانوں میں لالہ بو کر چلا گیا۔

تشریح

اقبال اس شعر میں امام حسین کے سفر اور شہادت کا خلاصہ ایک حیرت انگیز تصویری قوت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ وہ بارش کی طرح آئے، خون کی صورت برسے، اور چلے گئے؛ مگر ان کا جانا خالی جانا نہ تھا۔ انہوں نے ویرانیوں میں لالہ بو دیے۔ یعنی جہاں موت، زخم اور استبداد کی گرد تھی، وہاں سے حیات، یاد، غیرت اور آزادی کے پھول اگنے لگے۔ شعر کے مطابق:

بارید و رفت:

“بارید” میں بارش، رحمت، خون، اشک اور قربانی کے کئی معنی جمع ہیں۔ امام حسین کا وجود کربلا پر اس طرح برسا کہ ایک مختصر لمحے نے صدیوں کو سینچ دیا۔ “و رفت” یہ دکھاتا ہے کہ ظاہری طور پر کارواں رخصت ہو گیا، مگر اس رخصتی کے باوجود اثر باقی رہا۔ اقبال کی نظر میں اصل سوال قیام کی مدت نہیں، اس کے بعد کی حیات ہے۔

کچھ آمدیں مختصر ہوتی ہیں مگر تاریخ پر دائمی بارش بن کر اترتی ہیں۔

لالہ کی کاشت:

لالہ اقبال کی شاعری میں کئی بار خون، شہادت، خودی اور سرخ روئی کی علامت بنتا ہے۔ کربلا کے ویرانے میں لالہ بو دینا اس بات کی علامت ہے کہ شہادت نے بنجر روحوں میں نئی زندگی کے بیج بو دیے۔ جہاں فقط موت نظر آتی تھی وہاں حریت کے سرخ پھول اگنے لگے۔ یہ لالہ یاد کا بھی ہے، غیرت کا بھی، اور حق کی بقا کا بھی۔

یوں خون زمین میں جذب ہو کر گلستانِ معنی بن جاتا ہے۔

ویرانه ها:

ویرانی صرف کربلا کی ریت نہیں بلکہ امت کے باطن کی ویرانی بھی ہے: خوف، استبداد، مصلحت، بے حسی اور غلامی کی ویرانی۔ امام حسین نے اسی ویرانی میں لالہ بویا۔ یعنی انہوں نے مایوسی کے اندھیروں میں امید، خوف کے ماحول میں جرات، اور خاموشی کے اندر مزاحمت کا بیج چھوڑا۔

اسی لیے حسینیت ہر ویران دل کے لیے ایک امکانِ آبادی بن جاتی ہے۔

کربلا کا تخلیقی خون:

اقبال کے نزدیک شہادت محض ایک منفی نقصان نہیں۔ اگر وہ حق کے لیے ہو تو اس میں تخلیقی قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ حسین کے خون نے ایسی معنوی تخلیق کی کہ بعد کی نسلیں اسے صرف غم کے طور پر نہیں بلکہ بیداری کے سرچشمے کے طور پر پڑھتی رہیں۔ یہی کربلا کی سب سے بڑی معجزانہ صفت ہے: موت نے زندگی کو جنم دیا۔

اس لیے یہ ویرانی تخلیقی ویرانی ہے، جس کے بعد نئے گل کھلتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی اگر کوئی قربانی حق کے لیے دی جائے تو اس کا معیار یہی ہے کہ کیا اس نے ویرانی میں لالہ بویا یا نہیں۔ کیا اس نے لوگوں میں امید، سچائی، آزادی اور اخلاقی بیداری پیدا کی یا صرف تلخی چھوڑ دی؟ اقبال ہمیں یہ کسوٹی دیتے ہیں کہ حسینی قربانی کی نشانی اس کی بعد کی حیات آفرینی ہے۔

اسلامی حریت اسی وقت زندہ رہتی ہے جب قربانی سے نئی نمو پیدا ہو۔

مثال

کبھی کسی سچے مظلوم کی قربانی یا کسی حق گو کی شہادت فوری طور پر صدمہ پیدا کرتی ہے، مگر بعد میں وہی واقعہ معاشرے میں بیداری، سوال اور اصلاح کی لہر پیدا کر دیتا ہے؛ یہی ویرانے میں لالہ بونا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق امام حسین کربلا پر برسے اور چلے گئے، مگر ویرانی میں لالہ بو گئے۔ ان کی قربانی نے بنجر روحوں میں حریت، غیرت اور بیداری کی نئی زندگی پیدا کی۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button