رموز بے خودی

فطرت او تنگ تاب و سازگار

فطرت او تنگ تاب و سازگار

با دل لرزان و دست رعشہ دار

ترجمہ

اس کی فطرت تنگ ظرف اور ایسی ہے جو لرزتے دل اور کانپتے ہاتھ کے ساتھ موافق رہتی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال یہاں خوف اور یأس کے مزاجی اثرات کو بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بیماری انسان کی طبیعت کو تنگ کر دیتی ہے، اس کا ظرف چھوٹا کر دیتی ہے، اور اسے ایسی حالت کے ساتھ مانوس کر دیتی ہے جس میں دل لرزتا اور ہاتھ کانپتا رہتا ہے۔ شعر کے مطابق:

تنگ تاب فطرت:

“تنگ تاب” سے مراد ایسا مزاج ہے جس میں برداشت کم ہو، حوصلہ محدود ہو، اور باطنی وسعت باقی نہ رہے۔ اقبال کے نزدیک یأس اور خوف انسان کو کشادہ دل نہیں رہنے دیتے۔ وہ چھوٹی باتوں سے گھبرا جاتا ہے، بڑے بوجھ سے بھاگتا ہے، اور وسیع امکانات کے بجائے فوری خطرات ہی کو دیکھتا ہے۔

یہ تنگی صرف مزاجی نہیں، روحانی بھی ہے۔ دل جب خدا کی وسعت سے کٹ جائے تو وہ اپنے اندر سکڑنے لگتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کے حوصلے کا افق کم ہو جاتا ہے۔

سازگار ہونے کا مفہوم:

اقبال کا نکتہ یہ ہے کہ خوف اور یأس محض عارضی کیفیت نہیں رکھتے، بلکہ آہستہ آہستہ انسان کو اپنے ساتھ “سازگار” کر لیتے ہیں۔ یعنی وہ لرزتے دل، کانپتے ہاتھ، اور ہچکچاتے عمل کو معمول سمجھنے لگتا ہے۔ جو چیز ابتدا میں بیماری تھی، وہ بعد میں عادت بن جاتی ہے۔

یہ مرحلہ زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ اس میں انسان اپنی کمزوری کو کمزوری نہیں سمجھتا، بلکہ اسے اپنی فطرت ماننے لگتا ہے۔ اقبال اسی مانوسیت کو توڑنا چاہتے ہیں۔

دل کا لرزنا اور ہاتھ کا کانپنا:

دل کا لرزنا صرف خوف کی علامت نہیں بلکہ فیصلہ نہ کر سکنے، اعتماد کی کمی، اور باطن کے اضطراب کی بھی علامت ہے۔ اسی طرح ہاتھ کا کانپنا عمل کی کمزوری کی طرف اشارہ ہے۔ اقبال یہاں باطن اور ظاہر دونوں کو جوڑ دیتے ہیں: جب دل لرزے گا تو ہاتھ بھی پختہ عمل نہیں کر سکے گا۔

اس لیے یہ شعر دکھاتا ہے کہ یأس اور خوف صرف ایک اندرونی احساس نہیں، بلکہ وہ عمل، کردار اور زندگی کے عملی اظہار پر بھی براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔

توحید اور وسعتِ قلب:

اس حالت کا علاج توحید کی کشادگی میں ہے۔ جب دل خدا کی قدرت، حکمت اور رحمت سے جڑتا ہے تو اس کے اندر وسعت پیدا ہوتی ہے۔ وہ خطرات کو ان کے اصل درجے میں دیکھنے لگتا ہے، اور نتائج کے خوف سے مفلوج نہیں رہتا۔ پھر اس کے ہاتھ میں steadiness آتی ہے، اس کے دل میں جمعیت پیدا ہوتی ہے، اور وہ اپنے فرائض سے پیچھے نہیں ہٹتا۔

اقبال اسی داخلی کشادگی کو زندگی، خودی اور ایمان کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔

قوموں پر اطلاق:

ایک امت کی فطرت بھی تنگ تاب ہو سکتی ہے اگر وہ خوف اور مصلحت کے ساتھ جینا سیکھ لے۔ تب اس کے اہل علم محتاط حد سے زیادہ محتاط ہو جاتے ہیں، اس کے قائد لرزتے ہیں، اور اس کے اجتماعی ہاتھ بڑے فیصلے سے پہلے کانپنے لگتے ہیں۔ اقبال امت کو اس قومی رعشے سے بچانا چاہتے ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ اس کے اندر وسعتِ فکر، وسعتِ قلب، اور عملی جرات دوبارہ زندہ ہو، تاکہ وہ تنگ ظرف اور لرزاں مزاج قوم نہ رہے۔

مثال

ایک شخص اگر بار بار چھوٹی سی آواز سے بھی ڈرنے لگے تو آہستہ آہستہ اس کا پورا مزاج محتاط نہیں بلکہ خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ پھر بڑے کام تو دور، چھوٹے فیصلے بھی اس کے لیے مشکل ہو جاتے ہیں۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق خوف اور یأس انسان کی فطرت کو تنگ کر دیتے ہیں اور اسے لرزتے دل، کانپتے ہاتھ کے ساتھ مانوس بنا دیتے ہیں۔ نجات اسی میں ہے کہ دل توحیدی وسعت سے جڑے اور باطن کی یہ تنگی ٹوٹ جائے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button