رموز بے خودی

در جماعت خود شکن گردد خودی

در جماعت خود شکن گردد خودی

تا ز گلبرگی چمن گردد خودی

ترجمہ

جماعت میں خودی خود شکن ہو جاتی ہے، تاکہ ایک پھول کی پتی سے وہ ایک پورا چمن بن جائے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں جماعت میں خودی کی قربانی اور اس سے حاصل ہونے والی وسعت کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک خودی کا خود شکن ہونا اس کی موت نہیں بلکہ اس کی توسیع ہے۔ شعر کے مطابق:

جماعت میں خودی کا خود شکن ہونا:

جب خودی جماعت میں شامل ہوتی ہے تو وہ اپنی انفرادی انا کو توڑ دیتی ہے اور اجتماع کے مقصد کے لیے اپنے آپ کو قربان کر دیتی ہے۔

یہ خود شکنی دراصل خود غرضی اور تنگ نظری کو توڑنا ہے، تاکہ فرد اجتماع کے وسیع مقصد میں شامل ہو سکے۔

پتی سے چمن بننا:

یہی قربانی خودی کو ایک پھول کی اکیلی پتی سے نکال کر پورے چمن میں بدل دیتی ہے، یعنی فرد ملت بن کر بے پناہ وسعت پا لیتا ہے۔

ایک اکیلی پتی کی حیثیت محدود ہے، مگر جب وہ پورے چمن کا حصہ بنتی ہے تو اس کا حسن اور اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

قربانی میں وسعت:

خودی کا یہ خود شکن ہونا اس کی موت نہیں بلکہ اس کی وسعت اور بقا ہے۔ وہ اپنی محدود حیثیت کھو کر ایک وسیع تر حقیقت پا لیتی ہے۔

فنا میں بقا:

اقبال کے نزدیک یہی خودی کی معراج ہے کہ وہ بظاہر جماعت میں فنا ہو کر حقیقت میں ایک چمن کی صورت ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جائے۔

مثال

جیسے ایک بیج خود کو مٹی میں فنا کر کے ایک پورا درخت اور باغ بن جاتا ہے، ویسے ہی خودی جماعت میں خود کو توڑ کر ایک پورے چمن کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ خودی جماعت میں اپنی انا کو توڑ کر ایک پتی سے پورا چمن بن جاتی ہے، اور یہی قربانی اس کی وسعت اور بقا کا راز ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button