تخم او چون در گلت خود را نشاند
تخم او چون در گلت خود را نشاند
زندگی از خود نمائی باز ماند
ترجمہ
جب اس کا بیج تیرے وجود کی مٹی میں جم جاتا ہے تو زندگی خودنمائی سے رک جاتی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں خوف اور یأس کے ایک نہایت لطیف اثر کو بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب اس بیماری کا بیج انسان کی سرشت میں بیٹھ جاتا ہے تو زندگی کی اصل نمود، اس کی خودی کا اظہار، اور اس کے باطن کی تخلیقی حرکت رکنے لگتی ہے۔ یعنی انسان صرف کمزور نہیں ہوتا، بلکہ اپنی اصل شخصیت بھی پوری طرح ظاہر نہیں کر پاتا۔ شعر کے مطابق:
بیج کا استعارہ:
بیج چھوٹا ہوتا ہے مگر اگر زمین میں بیٹھ جائے تو پورا درخت اس سے نکل سکتا ہے۔ اقبال اسی انداز سے خبردار کرتے ہیں کہ خوف یا یأس ہمیشہ ابتدا میں بڑے طوفان کی صورت میں نہیں آتا۔ کبھی وہ ایک چھوٹے خیال، ایک کمزور عادت، یا ایک مسلسل اندیشے کے طور پر دل میں جگہ بناتا ہے، اور پھر آہستہ آہستہ پوری شخصیت پر اثر انداز ہونے لگتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شاعر “تخم” کا لفظ لاتے ہیں۔ یعنی بیماری کا اصل خطرہ اس وقت بڑھتا ہے جب وہ دل کے اندر جڑ پکڑ لے۔
گل اور سرشتِ انسانی:
“گِل” انسان کی مٹی، سرشت اور وجود کی بنیادی ساخت کی علامت ہے۔ جب یأس یا خوف کا بیج اسی مٹی میں جم جائے تو پھر یہ صرف ایک عارضی کیفیت نہیں رہتی، بلکہ انسان کی طبیعت کا حصہ بننے لگتی ہے۔ اس کے فیصلے، اس کی نگاہ، اس کا اعتماد اور اس کی حرکت سب اسی کے اثر میں آنے لگتے ہیں۔
اقبال چاہتے ہیں کہ انسان اس مرحلے سے پہلے ہی ہوشیار ہو جائے، کیونکہ سرشت میں بیٹھ جانے والی کمزوری کا علاج زیادہ گہرا مانگتا ہے۔
خود نمائی کا رک جانا:
اقبال کے ہاں “خود نمائی” محض دکھاوے یا خود پسندی کے معنی میں نہیں، بلکہ خودی کے صحیح اظہار، شخصیت کے ابھرنے، اور اندرونی استعداد کے سامنے آنے کے معنی میں بھی آتی ہے۔ جب انسان خوف میں مبتلا ہو تو وہ اپنے اندر کے امکانات کو ظاہر نہیں کر پاتا۔ وہ سچ جان کر بھی خاموش رہ سکتا ہے، صلاحیت رکھتے ہوئے بھی پیچھے ہٹ سکتا ہے، اور اپنے رب کی عطا کردہ قوتوں کو استعمال نہیں کر پاتا۔
یعنی خوف اس کی زندگی کے پھول کو کھلنے نہیں دیتا۔ وہ اپنی اصل شان تک نہیں پہنچ پاتا، حالانکہ اس کے اندر وہ استعداد موجود ہوتی ہے۔
توحیدی خودی کا تقاضا:
اقبال کی پوری فکر خودی کے صحیح اظہار پر قائم ہے، مگر یہ خودی تکبر سے نہیں بلکہ خدا کے ساتھ صحیح نسبت سے پیدا ہوتی ہے۔ جب دل میں توحید ہو تو انسان اپنے آپ کو ایک امانت سمجھتا ہے، اور اس امانت کو ظاہر کرنے سے نہیں ڈرتا۔ لیکن جب یأس اور خوف کا بیج دل میں بیٹھ جائے تو یہی خودی سہم جاتی ہے۔
اس لیے اس شعر میں باطن کی بیماری کو براہِ راست اقبالی خودی کے مسئلے سے جوڑ دیا گیا ہے۔ نجات اس میں ہے کہ دل سے یہ بیج نکال کر ایمان، امید اور حوصلے کا بیج بویا جائے۔
ملت کی سطح پر اثر:
ایک قوم بھی جب خوف کا بیج اپنے باطن میں جما لیتی ہے تو اس کی تہذیب کی خود نمائی، اس کی فکری تخلیق، اور اس کی تاریخی جرات کم ہونے لگتی ہے۔ وہ دوسروں کی نقل میں زیادہ خوش رہتی ہے اور اپنی اصل استعداد ظاہر کرنے سے گھبراتی ہے۔ اقبال امت کو اسی باطنی مرض سے بچانا چاہتے ہیں۔
اس لیے یہ شعر صرف فرد کی اصلاح نہیں بلکہ قومی شخصیت کی بازیافت کا بھی پیغام رکھتا ہے۔
مثال
اگر کسی باغ میں مفید بیج کے ساتھ کانٹوں اور جھاڑیوں کا بیج بھی بیٹھ جائے تو خوب صورت پودا پوری طرح ابھر نہیں پاتا۔ اسی طرح خوف اور یأس انسان کی اصل استعداد کے راستے میں جھاڑیوں کی طرح کھڑے ہو جاتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق جب خوف یا یأس کا بیج انسان کی سرشت میں جم جاتا ہے تو اس کی زندگی اپنی اصل خودنمائی سے رک جاتی ہے۔ علاج یہی ہے کہ اس باطنی بیج کو امید، ایمان اور توحیدی خودی سے بدل دیا جائے۔

