رموز بے خودی

غنچہ ئی از دست گلچیں خوں شود

غنچہ ئی از دست گلچیں خوں شود

از چمن مانند بو بیروں رود

ترجمہ

کوئی غنچہ گلچیں کے ہاتھ سے زخمی ہو کر لہولہان ہو جاتا ہے، اور پھر خوشبو کی مانند چمن سے باہر نکل جاتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں زندگی کے اس تلخ مگر بلند مرحلے کو بیان کرتے ہیں جس میں باغ کی ہر نمود محفوظ نہیں رہتی۔ بعض غنچے کھلنے سے پہلے ہی گلچیں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں، زخمی ہوتے ہیں، مگر ان کا انجام محض فنا نہیں ہوتا۔ وہ خوشبو کی طرح چمن سے باہر چلے جاتے ہیں، یعنی ان کی ظاہری ہستی زخمی ہوتی ہے مگر ان کا اثر محدود نہیں رہتا۔ اقبال اس استعارے کے ذریعے شہادت، قربانی، امتحان اور اثرِ بقا کا نہایت گہرا سبق دیتے ہیں۔ ملت کی تاریخ میں بہت سی نازک مگر باقیمت قوتیں جبر، ظلم یا حادثے کا شکار ہوئیں، لیکن ان کی روح اور تاثیر باغ کی دیواروں میں قید نہ رہی۔ شعر کے مطابق:

گلچیں کا مفہوم:

گلچیں صرف پھول توڑنے والا شخص نہیں، وہ ہر وہ طاقت ہے جو نمو کو اپنے مقصد کے لیے کاٹ لیتی ہے۔ یہ طاقت ظالم حاکم بھی ہو سکتی ہے، خود غرض معاشرہ بھی، غلط قیادت بھی، یا وہ حالات بھی جو نیکی کے امکانات کو وقت سے پہلے زخمی کر دیں۔ اقبال جانتے ہیں کہ باغ میں صرف نسیم نہیں چلتی، گلچیں بھی آتا ہے۔

یہ حقیقت ملت کی زندگی کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ دوام کا مطلب یہ نہیں کہ اسے آزمائش نہ آئے۔ بلکہ اس کی بقا کا ایک راز یہ بھی ہے کہ وہ آزمائش کے باوجود اپنا اثر ضائع نہیں ہونے دیتی۔

خوں شدن:

غنچے کا خون آلود ہونا اس درد کی علامت ہے جس کے بغیر بڑی قدریں زندہ نہیں رہتیں۔ اقبال کے نزدیک زندگی محض آرام اور نمو کا نام نہیں، اس میں زخم بھی شامل ہیں۔ بعض اوقات وہی نازک ترین ہستیاں سب سے پہلے ظلم کا نشانہ بنتی ہیں، کیونکہ ان کے اندر اصل حسن اور حقیقی خوشبو زیادہ ہوتی ہے۔

یہ خون رفتہ رفتہ ضائع نہیں جاتا۔ ملت کی سچی قربانیاں اس کے ضمیر کو جگاتی ہیں، اس کی تاریخ کو معنی دیتی ہیں اور اس کے مستقبل میں نیا عزم پیدا کرتی ہیں۔

بو کی مانند باہر جانا:

یہ شعر کا سب سے بلند پہلو ہے۔ غنچہ اگرچہ باغ سے چلا گیا، مگر بو کی صورت میں گیا۔ خوشبو کی خاصیت یہ ہے کہ اسے قید نہیں کیا جا سکتا۔ پھول شاخ سے جدا ہو جائے تب بھی اس کی تاثیر پھیلتی رہتی ہے۔ اقبال کے نزدیک سچی قربانی کا یہی راز ہے: جسم محدود ہے، مگر معنی محدود نہیں۔

جو اہلِ حق ظلم کا نشانہ بنتے ہیں، ان کی ظاہری موجودگی ختم ہو سکتی ہے مگر ان کی خوشبو لوگوں کے دلوں، افکار اور تاریخ میں باقی رہتی ہے۔ یوں وہ اپنے چمن سے نکل کر وسیع تر فضا میں پھیل جاتے ہیں۔

ملت کی بقا میں قربانی کا حصہ:

اس شعر سے اقبال یہ واضح کرتے ہیں کہ ملت کی دوام پذیری صرف افزائش سے نہیں، ایثار سے بھی قائم رہتی ہے۔ باغ میں کچھ غنچے کھل کر حسن بڑھاتے ہیں اور کچھ کٹ کر خوشبو پھیلاتے ہیں۔ دونوں صورتیں زندگی کی خدمت کرتی ہیں۔ اسی طرح امت میں کچھ لوگ تعمیر کے ذریعے اور کچھ قربانی کے ذریعے حیاتِ ملت میں حصہ ڈالتے ہیں۔

یہاں شکست ظاہری ہے مگر حقیقت میں تاثیر کی وسعت ہے۔ جو غنچہ بو بن گیا وہ ایک شاخ کا نہیں رہا، پوری فضا کا حصہ بن گیا۔

آج کے لیے سبق:

آج جب ہم کسی صاحبِ حق کو ظلم، تنہائی، محرومی یا قبل از وقت زوال کا شکار دیکھتے ہیں تو اقبال کا یہ شعر سکھاتا ہے کہ ہر کٹنا ضائع ہونا نہیں ہوتا۔ اگر نیت خالص ہو اور سچ باقی ہو تو اس کا اثر خوشبو کی طرح پھیلتا ہے۔ ہمیں ایسے اہلِ حق کے زخموں کو تاریخ کی شکست نہیں بلکہ بقا کی ایک بلند صورت سمجھنا چاہیے۔

مثال

جیسے ایک سچا استاد زندگی میں بہت بڑی شہرت نہ بھی پائے، مگر اس کے شاگرد اس کی خوشبو بن کر معاشرے میں پھیل جاتے ہیں، اسی طرح بعض افراد اپنی ظاہری محرومی کے باوجود اپنے اثر میں کہیں زیادہ وسیع ہو جاتے ہیں۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک اگر کوئی غنچہ گلچیں کے ہاتھ سے زخمی ہو بھی جائے تو اس کی حقیقت ختم نہیں ہوتی۔ وہ خوشبو کی طرح باغ سے نکل کر زیادہ وسیع دائرے میں اثر انداز ہوتا ہے۔ یوں قربانی بھی ملت کی بقا اور اس کے دوام کا حصہ بن جاتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button