رموز بے خودی

شاید از سیل قهستان برخوری

شاید از سیل قهستان برخوری

باز در آغوش طوفان پروری

ترجمہ

شاید پھر کسی پہاڑی سیلاب سے تیرا سامنا ہو جائے، اور تو دوبارہ اپنے دامن میں طوفان پرورش دینے کے قابل ہو جائے۔

تشریح

یہ شعر پچھلے شعر کا امید افزا تسلسل ہے۔ علامہ اقبال نے پہلے فرمایا تھا کہ اپنی کم آب جوئے کی حفاظت کرو۔ اب وہ بتاتے ہیں کہ اس حفاظت کا مقصد صرف بقا نہیں بلکہ آئندہ احیا کا امکان بھی ہے۔ اگر جوئے کم آب اپنی راہ، اپنی صورت اور اپنے ربط کو باقی رکھے تو ممکن ہے کہ ایک دن اسے پہاڑوں سے اترنے والے سیلاب کا وصل نصیب ہو، اور پھر اسی کے اندر دوبارہ وہ قوت بیدار ہو جو طوفان پیدا کرتی ہے۔ شعر کے مطابق:

سیل قهستان کی علامت:

“سیل قهستان” سے مراد وہ تازہ، قوی اور بلند سرچشمہ ہے جو پہاڑ کی بلندیوں سے آتا ہے۔ یہ نئی روحانی حرارت، بیدار قیادت، سچا علم، یا الٰہی تائید کی کسی ایسی موج کی علامت ہو سکتا ہے جو کمزور بہاؤ کو پھر قوت دے دے۔ اقبال اس لفظ سے بتاتے ہیں کہ تجدید کی اصل قوت عموماً کسی بلند سرچشمے سے آتی ہے، نہ کہ محض نیچے کی بے قراری سے۔

جو ندی اپنی راہ ہی کھو دے وہ ایسے سیلاب سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتی، اس لیے پہلے حفاظت، پھر فیض۔

بقای صورت کی حکمت:

اگر چھوٹی جوئے اپنی شکل، اپنے کنارے اور اپنا بہاؤ باقی رکھتی ہے تو وہ بعد میں بڑی قوت کو قبول کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال تقلید اور ضبط ملت پر زور دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ بے صورت اور بے سمت وجود کسی عظیم احیا کو سنبھال نہیں سکتا۔

پس ظاہری کمزوری کے زمانے میں سانچے کی حفاظت دراصل آنے والی زندگی کے لیے تیاری ہے۔

طوفان پروری کا مفہوم:

“طوفان پروری” ایک نہایت طاقت ور تعبیر ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ملت دوبارہ اس قابل ہو جائے کہ اس کے باطن میں عظیم حرارت، بلند عزم، انقلابی قوت اور تخلیقی حرکت پیدا ہو۔ جو قوم آج کمزور ندی کی طرح بہہ رہی ہے، وہی کل اگر سچا فیض پا لے تو طوفان خیز بن سکتی ہے۔

لیکن یہ طوفان جذباتی انتشار نہیں، بلکہ زندگی بخش قوت ہے جو جمود کو توڑتی اور امت کو حرکت دیتی ہے۔

امید اور صبر کا ربط:

اقبال نہ مایوسی سکھاتے ہیں اور نہ غیر ذمہ دار جلد بازی۔ وہ ایسی امید دیتے ہیں جو صبر، تحفظ اور وفاداری کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ “شاید” کا لفظ بھی بڑی حکمت رکھتا ہے۔ اس میں وعدہ نہیں بلکہ امکان ہے، اور امکان اسی کے لیے ہے جو باقی ماندہ امانت کو سنبھال کر رکھے۔

گویا احیا کی تمنا کا پہلا حق دار وہی ہے جو زوال کے زمانے میں بھی امانت کا پاسبان رہے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت میں تجدید اور انقلاب کی بات بہت ہوتی ہے، مگر اقبال یاد دلاتے ہیں کہ بڑی لہر صرف نعرے سے نہیں آتی۔ پہلے اپنا راستہ، اپنی شناخت، اپنا دینی ربط اور اپنا اجتماعی سانچہ محفوظ رکھو۔ پھر اگر خدا کی طرف سے کوئی تازہ سیل آئے تو وہ تمہیں بلند کر سکتی ہے۔

اس شعر میں امید ہے، مگر اس امید کی شرط امانت داری اور ثابت قدمی ہے۔

مثال

جیسے ایک چھوٹی نہر اگر اپنے کنارے سلامت رکھے تو برف پگھلنے پر آنے والا پہاڑی پانی اسے بھر دیتا ہے، مگر ٹوٹی ہوئی نہر پانی پا کر بھی اسے سنبھال نہیں سکتی، ویسے ہی ملت کو پہلے اپنا سانچہ محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ بچی ہوئی جوئے کی حفاظت آخرکار احیا کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اگر صورت باقی رہے تو بلند سرچشمے کا فیض آ کر امت کو دوبارہ طوفان خیز قوت عطا کر سکتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button