زنده حق از قوت شبیری است
زنده حق از قوت شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است
ترجمہ
حق آج تک شبیری قوت سے زندہ ہے، اور باطل کے حصے میں آخرکار حسرت اور محرومی کا داغ ہی آتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں کربلا کے تاریخی نتیجے کا فیصلہ سناتے ہیں۔ ظاہری سطح پر دیکھا جائے تو شبیری قوت قلیل تھی اور سلطنت یزیدی کے پاس دنیاوی غلبہ تھا، مگر اقبال کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں کہ ایک دن یا ایک معرکے میں کون غالب دکھا، بلکہ یہ ہے کہ کس نے حق کو زندہ رکھا۔ ان کے مطابق دین کے باطن، امت کے ضمیر اور حریت کی روح کو حیات شبیری قوت سے ملی۔ شعر کے مطابق:
قوتِ شبیری:
“شبیری” صرف امام حسین کے شخصی نام کی نسبت نہیں بلکہ ایک پورے مزاج کی علامت ہے: حق کے لیے قیام، قلت میں استقامت، بندگیِ حق، اور باطل کے ساتھ غیر مصالحتی وفاداری۔ اقبال کہتے ہیں کہ حق کی زندگی اسی قوت سے بندھی ہوئی ہے۔ مطلب یہ کہ اگر تاریخ میں شبیری کردار نہ ابھرتے رہیں تو حق رسمی، کمزور اور مصلحت زدہ ہو سکتا ہے۔
گویا حق کی بقا کے لیے صرف علم نہیں، شبیری جرات بھی درکار ہے۔
حق کی زندگی:
یہاں “زنده حق” نہایت اہم تعبیر ہے۔ حق محض ایک تجریدی تصور نہیں جسے کتابوں میں محفوظ کر دیا جائے؛ اسے زندہ بھی رہنا ہوتا ہے۔ زندہ رہنے کا مطلب ہے کہ وہ انسانوں کے ضمیر میں اثر انداز ہو، ظلم کے مقابلے میں قوت بنے، قربانی کا محرک ہو، اور ہر دور میں آزادی و عدالت کی بنیاد بن سکے۔ اقبال کے نزدیک حسینیت نے حق کو یہی زندہ کیفیت عطا کی۔
اس لیے کربلا ایمان کے جذبے کو تاریخ میں تازہ رکھنے والی قوت ہے۔
باطل کی حسرت:
باطل بظاہر جیت جاتا ہے، مگر اس کی جیت دیر پا نہیں ہوتی۔ آخرکار اس کے حصے میں “داغ حسرت” آتا ہے۔ یعنی وہ تاریخ کی عدالت میں رسوا، ضمیر کی دنیا میں مردہ، اور معنوی اعتبار سے محروم رہ جاتا ہے۔ یزیدیت نے اقتدار تو لیا، مگر حق کی آبرو نہ لے سکی؛ سلطنت چلائی، مگر دلوں کی وفاداری نہ پا سکی۔ اقبال اسی کو حسرت کا داغ کہتے ہیں۔
باطل کی بڑی ناکامی یہی ہے کہ وہ غلبے کے باوجود ہمیشہ ادھورا رہتا ہے۔
کربلا کا فیصلہ:
یہ شعر کربلا کی تعبیر بدل دیتا ہے۔ وہاں اگر صرف عسکری نتیجہ دیکھا جائے تو حق کمزور دکھائی دیتا ہے، مگر اقبال فیصلہ معنوی اور تاریخی سطح پر کرتے ہیں۔ حق زندہ رہا، باطل حسرت میں رہا۔ یہی وہ منطق ہے جس سے حسینیت شکست نہیں بلکہ حیاتِ حق کی بنیاد بن جاتی ہے۔
اسی لیے کربلا کا خون وقتی نہیں، ابدی تاثیر رکھتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی حق کی قوت کا پیمانہ صرف فوری کامیابی نہیں ہونا چاہیے۔ بہت سے سچے کام دیر سے اثر دکھاتے ہیں مگر گہرا اثر چھوڑتے ہیں، جبکہ باطل کئی بار جلدی غالب آ کر بھی اندر سے کھوکھلا رہتا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر کسی جدوجہد میں شبیری روح موجود ہو تو وہ حق کو زندہ رکھتی ہے، چاہے دنیاوی نتائج فوراً موافق نہ ہوں۔
اسلامی حریت کی اصل کامیابی ضمیر میں فتح ہے، محض تخت میں نہیں۔
مثال
کئی اصولی تحریکیں ابتدا میں کمزور نظر آتی ہیں، مگر انہی سے بعد میں سچ، انصاف اور آزادی کی نئی زبان پیدا ہوتی ہے؛ جبکہ طاقت ور ظالم اپنے وقت میں غالب ہو کر بھی بعد میں رسوائی اور حسرت کی علامت بن جاتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق حق کی زندگی شبیری قوت سے بندھی ہے۔ باطل وقتی غلبہ پا کر بھی آخرکار حسرت اور معنوی شکست کا شکار ہوتا ہے، جبکہ حسینیت حق کو ابدی حیات دیتی ہے۔