رموز بے خودی

در جہان کیف و کم گردید عقل

در جہان کیف و کم گردید عقل

پی بہ منزل برد از توحید عقل

ترجمہ

اس کیفیتوں اور مقداروں کی پھیلی ہوئی دنیا میں عقل بھٹکتی رہی، پھر توحید نے ہی اسے منزل تک پہنچنے کا راستہ دکھایا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں یہ حقیقت واضح کرتے ہیں کہ انسانی عقل اپنی جگہ بڑی نعمت ہے، لیکن اگر وہ صرف ظاہری فرقوں، گنتیوں، صورتوں اور کیفیتوں میں الجھی رہے تو حقیقت کے مرکز تک نہیں پہنچتی۔ توحید وہ اصل ہے جو عقل کو بکھراؤ سے نکال کر مقصد، ترتیب، یقین اور منزل عطا کرتی ہے۔ شعر کے مطابق:

عقل کی ابتدائی سرگردانی:

اقبال نے “کیف و کم” کی ترکیب سے اس پورے عالم کی طرف اشارہ کیا ہے جہاں انسان چیزوں کے اوصاف بھی دیکھتا ہے اور ان کی مقداریں بھی گنتا ہے۔ عقل ان سب کا جائزہ لیتی ہے، فرق سمجھتی ہے، نسبتیں قائم کرتی ہے، مگر صرف اسی مرحلے پر رک جائے تو وہ کثرت کے جنگل میں پھنس جاتی ہے۔ اسے معلوم تو بہت کچھ ہوتا ہے، مگر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اصل بنیاد کیا ہے۔

یعنی معلومات کا جمع ہو جانا خود بخود ہدایت نہیں بن جاتا۔ عقل کو ایک ایسے اصول کی ضرورت ہوتی ہے جو مختلف مشاہدات کو ایک بڑے معنی میں سمو دے۔

توحید مرکزِ معنی ہے:

اقبال کے نزدیک توحید محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ کائنات کو سمجھنے کا بنیادی زاویہ ہے۔ جب عقل یہ جان لیتی ہے کہ اصل حاکم، خالق اور مقصود ایک ہے تو پھر بکھری ہوئی چیزیں آپس میں مربوط نظر آنے لگتی ہیں۔ زندگی اتفاق کا مجموعہ نہیں رہتی بلکہ ایک حکیمانہ نظام دکھائی دینے لگتی ہے۔

اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ توحید نے عقل کو منزل تک پہنچایا۔ یعنی توحید نے اسے یہ سکھایا کہ کثرت کے پیچھے وحدت کو دیکھو، اسباب کے پیچھے مسبب الاسباب کو پہچانو، اور علم کو مقصد کے تابع کرو۔

علم سے حکمت تک سفر:

صرف عقل انسان کو سوال دینا جانتی ہے، مگر توحید اس کے سوالوں کو سمت دیتی ہے۔ جب عقل توحید کے نور میں سوچتی ہے تو علم، حکمت بن جاتا ہے۔ پھر آدمی صرف یہ نہیں پوچھتا کہ چیز کیسے ہوتی ہے، بلکہ یہ بھی سمجھنے لگتا ہے کہ اس کا مصرف کیا ہے، اس سے خیر کیسے پیدا ہوگی، اور اس کے ذریعے بندگی کا کون سا در کھلے گا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں فکر عبادت سے جڑتی ہے۔ عقل اپنی خودسری چھوڑ کر حقیقت کے تابع ہو تو وہ انسان کو گمراہی نہیں بلکہ بصیرت دیتی ہے۔

فرد اور ملت دونوں کی رہنمائی:

یہ شعر صرف ایک فرد کی فکری حالت بیان نہیں کرتا بلکہ پوری ملت کے لیے رہنمائی رکھتا ہے۔ اگر کسی قوم کے پاس علوم، فنون اور تدبیریں تو ہوں لیکن اس کے فکر کا مرکز توحید نہ ہو، تو وہ ترقی کے باوجود انتشار کا شکار رہتی ہے۔ اس کے فیصلے متضاد، اس کی ترجیحات بکھری ہوئی، اور اس کی قوت بےسمت ہو جاتی ہے۔

توحید ملت کو ایک اخلاقی قبلہ دیتی ہے۔ اسی سے علم خدمت بنتا ہے، طاقت امانت بنتی ہے، اور اجتماعی زندگی میں مقصد کی یکسانی پیدا ہوتی ہے۔

عملی پیغام:

اقبال ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ عقل کو رد نہیں کرنا بلکہ اسے بلند کرنا ہے۔ اس کی تکمیل تب ہوتی ہے جب وہ اپنے آپ کو ایک اعلیٰ سچائی کے ساتھ وابستہ کرے۔ مسلمان کے لیے وہ اعلیٰ سچائی توحید ہے، جو دل، فکر، اخلاق اور عمل سب کو ایک رشتے میں پرو دیتی ہے۔

پس اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان بہت کچھ جانتا ہو، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی معرفت کو صحیح منزل کی طرف لے جائے۔ توحید کے بغیر عقل راستے بناتی ہے، مگر توحید کے ساتھ وہ منزل بھی پہچان لیتی ہے۔

مثال

ایک طالب علم کے پاس بہت سی کتابیں ہوں، ہر مضمون کے نوٹس ہوں، اور معلومات بھی بہت ہوں، لیکن اگر اسے یہ نہ معلوم ہو کہ پڑھنا کس مقصد کے لیے ہے تو وہ بکھرا رہتا ہے۔ جب اس کے سامنے واضح ہدف آ جاتا ہے تو وہی معلومات ترتیب اختیار کر لیتی ہیں۔ اسی طرح توحید عقل کو وہ مرکزی ہدف دیتی ہے جس سے سوچ میں انتشار کے بجائے یکسوئی پیدا ہوتی ہے۔

خلاصہ

اس شعر میں اقبال نے بتایا ہے کہ عقل اگر صرف ظاہر کی کثرت میں الجھی رہے تو منزل نہیں پاتی۔ توحید اسے ایک مرکز، ایک معیار اور ایک سمت عطا کرتی ہے۔ یوں عقل معلومات کے بوجھ سے نکل کر حکمت، بصیرت اور بندگی کی راہ پر چل پڑتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button