بر نمی آید اگر آهنگ تو
بر نمی آید اگر آهنگ تو
نرم از بیم است تار چنگ تو
ترجمہ
اگر تیرا نغمہ بلند نہیں ہوتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تیرے ساز کے تار خوف سے نرم پڑ گئے ہیں۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں فرد اور ملت کی بےآوازی کا سبب بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر تمہاری آواز بلند نہیں ہو رہی، اگر تمہارا نغمہ دنیا میں اثر پیدا نہیں کر رہا، تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ تمہارے ساز کے تار خوف سے ڈھیلے پڑ چکے ہیں۔ شعر کے مطابق:
آہنگ کا نہ اٹھنا:
آہنگ یہاں صرف موسیقی نہیں بلکہ شخصیت کی آواز، تہذیب کی صدا، فکر کی قوت، اور عمل کی تاثیر کی علامت ہے۔ اقبال کے نزدیک جب کسی انسان یا قوم کا آہنگ بلند نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اندرونی آمادگی، جرأت اور ربط کہیں کمزور ہو گئے ہیں۔
یعنی خاموشی ہمیشہ فقرِ وسائل کی وجہ سے نہیں ہوتی، کئی بار وہ باطن کے خوف کی وجہ سے ہوتی ہے۔ آواز کے پیچھے دل کا اعتماد ہونا ضروری ہے، ورنہ زبان اور ساز دونوں کم اثر رہتے ہیں۔
تارِ چنگ کا نرم ہونا:
ساز تبھی صحیح نغمہ پیدا کرتا ہے جب اس کے تار مناسب حد تک کشیدہ ہوں۔ اگر وہ ڈھیلے پڑ جائیں تو آواز کمزور، بےجان اور بےاثر ہو جاتی ہے۔ اقبال نے خوف کو اسی ڈھیل سے تعبیر کیا ہے۔ جب دل میں خوف داخل ہو جاتا ہے تو شخصیت کا تار نرم پڑ جاتا ہے۔ نہ اس میں فیصلہ رہتا ہے، نہ جرات، نہ وہ تیزی جو آواز کو آسمان تک پہنچا سکے۔
یہ ایک نہایت نفیس اور فنی تشبیہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کے ہاں شجاعت کا مطلب بےمہاری نہیں، بلکہ درست کشش اور درست توازن ہے۔
خوف اور اظہار:
خوف انسان کے اظہار کو کئی طرح سے متاثر کرتا ہے۔ وہ سچ جان کر بھی پوری قوت سے نہیں کہتا، اپنی صلاحیت رکھ کر بھی مکمل طور پر استعمال نہیں کرتا، اور اپنی تہذیبی یا فکری آواز رکھتے ہوئے بھی اسے دبا دیتا ہے۔ اس طرح آہنگ موجود ہوتے ہوئے بھی بلند نہیں ہو پاتا۔
اقبال کا مقصود یہی ہے کہ تم اپنے نغمے کے کمزور ہونے کا سبب باہر نہ ڈھونڈو، پہلے اپنے ساز کے تاروں کو دیکھو کہ کہیں وہ خوف سے نرم تو نہیں پڑ گئے۔
توحید اور کشیدگیِ روح:
توحید دل کو وہ کشیدگی دیتی ہے جو ساز کے لیے ضروری کشش کی طرح ہے۔ جب بندہ خدا کے ساتھ جڑا ہو تو وہ نہ خود کو بےکار سمجھتا ہے، نہ اپنے نغمے کو بےاثر۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس ایک سچ ہے، ایک امانت ہے، اور ایک ذمہ داری ہے۔ یہی شعور اس کے اندر کے تار کو درست تناؤ دیتا ہے۔
پھر اس کی آواز میں نرمی ضرور ہو سکتی ہے، مگر کمزوری نہیں ہوتی۔ یہی فرق اقبالی وقار اور خوف زدہ خاموشی کے درمیان ہے۔
ملت کے لیے پیغام:
ایک امت اگر اپنی فکری، روحانی اور تہذیبی آواز کھو رہی ہو تو اسے صرف باہر کے شور کو قصور وار نہ ٹھہرانا چاہیے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اصل سوال یہ ہے کہ تمہارے اپنے تار کتنے کشیدہ ہیں۔ اگر قوم خوف کے سبب اپنی آواز دبا دے تو اس کا نغمہ بلند نہیں ہوگا۔
پس قومی احیا کے لیے بھی دلوں سے خوف نکالنا ضروری ہے، تاکہ امت کا ساز دوبارہ نغمت خیز بن سکے۔
مثال
ایک اچھا ساز بھی اگر دیر تک بےتوجہی سے رکھا جائے تو اس کے تار ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور وہ پوری آواز نہیں دیتا۔ انسان کی شخصیت اور قوم کی تہذیبی آواز کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے جب خوف اندر بس جائے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق اگر تمہارا نغمہ بلند نہیں ہو رہا تو اس کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ خوف نے تمہارے ساز کے تار ڈھیلے کر دیے ہیں۔ علاج یہ ہے کہ دل توحیدی اعتماد سے دوبارہ کشیدہ اور زندہ ہو۔
