رموز بے خودی

بر نسب نازان شدن نادانی است

بر نسب نازان شدن نادانی است

حکم او اندر تن و تن فانی است

ترجمہ

نسب پر فخر کرنا نادانی ہے، کیونکہ اس کا حکم اور اثر صرف جسم اور جسمانی وجود تک محدود ہے، اور جسم تو فنا ہونے والا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں نسبی فخر اور خاندانی غرور کے تصور کو نہایت واضح انداز میں رد کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ نسب کی بنیاد پر اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھنا دانائی نہیں، بلکہ جہالت ہے، کیونکہ نسب کا تعلق جسمانی سلسلے سے ہے، اور جسم خود فانی ہے۔ شعر کے مطابق:

نسب پر ناز کیوں غلط ہے:

انسان کو اپنا خاندان، اپنی تاریخ اور اپنے بزرگوں کی نیک روایت عزیز ہو سکتی ہے، مگر اگر یہی نسبت فخر، برتری اور تکبر کا سبب بن جائے تو اقبال کے نزدیک یہ نادانی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نسب انسان کے اپنے کمال سے نہیں بنتا، بلکہ اسے ایک ایسی چیز پر غرور ہو رہا ہوتا ہے جو اسے بغیر اس کے اختیار کے ملی ہے۔

اس لیے نسب پر ناز دراصل انسان کو اس اصل قدر سے ہٹا دیتا ہے جو اس کے اخلاق، ایمان، عمل اور باطن کی سچائی سے پیدا ہونی چاہیے۔

تن کی حد تک محدود نسبت:

دوسرے مصرع میں اقبال کہتے ہیں کہ نسب کا حکم “تن” میں ہے، یعنی یہ جسمانی سلسلہ ہے۔ جسمانی رشتہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے، مگر یہ انسان کی مکمل تعریف نہیں کر سکتا۔ اگر انسان کی اصل قدر صرف خون کے رشتے سے طے ہو تو پھر روح، کردار، تقویٰ اور شعور کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔

اقبال اس غلط ترجیح کو الٹتے ہیں۔ ان کے نزدیک تن کا رشتہ ثانوی ہے، اصل رشتہ وہ ہے جو دل، ایمان اور مقصد میں پیدا ہوتا ہے۔

فانی چیز پر دائمی غرور:

جب شاعر “تن فانی است” کہتے ہیں تو وہ ہمیں فنا کی یاد دلاتے ہیں۔ اگر جسم عارضی ہے تو اس کے سلسلے سے پیدا ہونے والا غرور بھی عارضی بنیاد پر قائم ہے۔ جو چیز خود باقی رہنے والی نہیں، اسے انسان اپنی دائمی عزت کا معیار کیسے بنا سکتا ہے؟

یہاں اقبال دراصل انسان کو بقا اور فنا کے فرق کی طرف متوجہ کرتے ہیں، تاکہ وہ فانی نسبتوں کے بجائے باقی رہنے والی قدروں کو اختیار کرے۔

اسلامی مساوات:

اسلامی ملت کا ایک بڑا امتیاز یہی ہے کہ وہ نسبی تکبر کو توڑتی ہے۔ اس میں انسان کی قدر اس کے تقویٰ، صداقت، عدل اور خدمت سے ہے، نہ کہ اس کے خاندانی سلسلے سے۔ اقبال اسی روح کو تازہ کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ امت نسل، قبیلہ، خاندان یا برادری کے گھمنڈ سے نکل کر ایمانی اخوت کی طرف لوٹے۔

یہ اخوتی شعور ہی ملت کی حقیقی وحدت پیدا کرتا ہے، ورنہ نسبی تفاخر قوم کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔

فرد کے لیے تنبیہ:

ہر انسان اپنے اندر یہ دیکھ سکتا ہے کہ وہ اپنے اصل کمال کس چیز میں ڈھونڈ رہا ہے۔ اگر وہ اپنی عزت کو خاندان کے نام پر قائم کرے گا تو وہ خود اپنے کردار کی تعمیر سے غافل ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ سمجھے کہ اصل شرف ایمان اور عمل سے ہے تو وہ اپنی ذات کو سنوارنے کی طرف آئے گا۔

اس طرح اقبال فرد کو خود احتسابی کی طرف اور ملت کو مساوات کی طرف بلاتے ہیں۔

مثال

کسی پرانے محل کے ورثے کا مالک ہونا ایک بات ہے، مگر خود اس قابل ہونا کہ نئی تعمیر کر سکے، دوسری بات ہے۔ اسی طرح کسی بڑے نسب سے تعلق رکھنا کافی نہیں، اصل قدر یہ ہے کہ انسان اپنے کردار سے کیا ثابت کرتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق نسب پر غرور نادانی ہے، کیونکہ نسب کا تعلق فانی جسمانی رشتے سے ہے۔ حقیقی شرف ایمان، اخلاق اور عمل سے پیدا ہوتا ہے، اور یہی اسلامی ملت کی اصل بنیاد ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button