رموز بے خودی

از فریب عصر نو هشیار باش

از فریب عصر نو هشیار باش

ره فتد ای رهرو هشیار باش

ترجمہ

نئے زمانے کے فریب سے خبردار رہ، اور اے راہ کے مسافر، ہوشیار رہ کہ کہیں راہ نہ کھو بیٹھے۔

تشریح

اقبال اس شعر پر آ کر اپنے پورے استدلال کو عصر حاضر کی تنقید کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ چمن، صبا، گل، وسعت، حرکت، بیقرانی اور آفاقیت کے سب اسباق آخرکار ایک سوال پر آ کر ٹھہرتے ہیں: جدید زمانہ اپنے ساتھ کیا لایا ہے، اور اس میں سالک اپنی راہ کیسے محفوظ رکھے؟ اقبال جدیدیت کے ہر پہلو کے منکر نہیں، مگر وہ اس کے “فریب” سے خبردار کرتے ہیں۔ یعنی ہر نیا پن رشد نہیں ہوتا، ہر چمک روشنی نہیں ہوتی، اور ہر شور بیداری نہیں ہوتا۔ شعر کے مطابق:

فریبِ عصر نو:

عصر نو کا فریب یہ ہے کہ وہ اکثر صورت کو حقیقت، رفتار کو مقصد، سہولت کو کمال، اور کثرتِ معلومات کو حکمت بنا کر پیش کرتا ہے۔ انسان سمجھنے لگتا ہے کہ چونکہ زمانہ بدل گیا ہے، اس لیے اصول بھی بدل جائیں، وفاداریاں بھی بدل جائیں، اور خودی کی جڑیں بھی ہل جائیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہی دھوکا ہے۔ زمانہ بدلنے سے حق نہیں بدلتا، صرف امتحان کی صورتیں بدلتی ہیں۔

نیا لباس اگر باطل نے پہن لیا ہو تو اس کی جدت اسے حق نہیں بنا دیتی۔

هشیار باش:

ہوشیاری یہاں محض ذہانت یا دنیا داری نہیں، بلکہ باطنی بیداری ہے۔ اقبال کا سالک ایسا مسافر ہے جو ہر آواز پر لبیک نہیں کہتا، ہر چمک سے مرعوب نہیں ہوتا، اور ہر مقبول رجحان کے پیچھے نہیں چل پڑتا۔ وہ پرکھتا ہے، سوال کرتا ہے، اپنے مرکز کو محفوظ رکھتا ہے، اور یہ دیکھتا ہے کہ جو نیا دعویٰ سامنے آ رہا ہے وہ خودی کو مضبوط کرتا ہے یا اسے تحلیل کر دیتا ہے۔

جس دل میں مرکز زندہ ہو، وہی نئے زمانے کو پرکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ره فتد:

اس مصرعے میں تنبیہ کا ایک لرزہ ہے۔ راہ چلتے چلتے بھی کھوئی جا سکتی ہے۔ انسان بظاہر سفر میں رہتا ہے مگر آہستہ آہستہ مقصد سے ہٹ سکتا ہے۔ اقبال اس خطرے کو پہچانتے ہیں کہ جدید دنیا کی رنگا رنگی، فکری شور، تہذیبی دباؤ اور نئی خواہشات سالک کو اس کے اصل راستے سے بہکا سکتی ہیں۔ اسی لیے وہ راہرو سے کہتے ہیں: فقط چلنا کافی نہیں، صحیح سمت میں چلنا ضروری ہے۔

حرکت اگر مرکز سے کٹ جائے تو سفر بھی گمراہی بن سکتا ہے۔

راہرو کی ذمہ داری:

راہرو وہی ہے جو منزل کے شعور کے ساتھ سفر کرے۔ اقبال کے نزدیک مسلمان، طالب حق، مرد مؤمن یا زندہ خودی کا حامل انسان سب راہرو ہیں۔ ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ زمانے کے بدلتے سانچوں میں اپنی روح نہ گم کریں۔ وہ نئی چیزوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، مگر ان کے فریب میں گرفتار نہیں ہو سکتے۔ یہی توازن اقبالی بصیرت کا جوہر ہے: بیداری کے ساتھ زمانے میں رہنا، مگر زمانے کی اندھی نقالی نہ کرنا۔

زمانے سے استفادہ اور زمانے کی غلامی ایک چیز نہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج کا انسان معلومات، ٹیکنالوجی، نظریات، مارکیٹ، تشہیر، تہذیبی دباؤ اور فوری رجحانات کے ایسے سیلاب میں کھڑا ہے جہاں حق اور فریب کی تمیز آسان نہیں رہی۔ اقبال کا یہ شعر پہلے سے زیادہ تازہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نئے زمانے میں رہو مگر اس سے مرعوب نہ ہو؛ وسائل لو مگر روح نہ بیچو؛ ترقی کرو مگر مرکز نہ کھوؤ؛ اور ہر نئے نعرے کو قبول کرنے سے پہلے یہ دیکھو کہ وہ تمہیں راہ دیتا ہے یا راہ سے ہٹاتا ہے۔

اسلامی خودی کی بقا اسی میں ہے کہ وہ زمانے کے شور میں بھی اپنے رب، اپنے مقصد اور اپنی راہ کو نہ بھولے۔

مثال

اگر کوئی نوجوان نئی ٹیکنالوجی، نئے فیشن یا نئے فکری نعروں سے متاثر ہو مگر ہر چیز کو اپنی دینی و اخلاقی کسوٹی پر پرکھے، تو وہ عصر نو میں رہتے ہوئے بھی اس کے فریب سے بچ سکتا ہے۔

خلاصہ

اقبال نئے زمانے کی ہر چمک کو سچ مان لینے سے روکتے ہیں۔ ان کے نزدیک راہرو کو چاہیے کہ وہ جدید دور کے فریب سے بچتے ہوئے اپنی اصل راہ، مرکز اور روحانی وفاداری کو محفوظ رکھے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button