ورنہ این بیچارہ را منزل کجاست
ورنہ این بیچارہ را منزل کجاست
کشتی ادراک را ساحل کجاست
ترجمہ
ورنہ اس بےچارے کے لیے منزل کہاں ہے، اور ادراک کی کشتی کے لیے ساحل کہاں مل سکتا ہے؟
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں عقل اور ادراک کی محدودیت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کرتے ہیں۔ پچھلے شعر میں انہوں نے بتایا تھا کہ عقل کو توحید منزل تک پہنچاتی ہے۔ اب وہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ سہارا نہ ہو تو عقل ایک بےسمت مسافر اور ادراک ایک بےکنارہ کشتی بن جاتا ہے۔ شعر کے مطابق:
عقل کی بےچارگی کا مفہوم:
اقبال نے عقل کو “بیچارہ” کہا ہے، اور اس میں طنز نہیں بلکہ حقیقت کا بیان ہے۔ انسانی عقل اپنی قوت کے باوجود محدود ہے۔ وہ چیزوں کے ظاہری رشتے دیکھ سکتی ہے، قیاس قائم کر سکتی ہے، نتائج نکال سکتی ہے، مگر وہ خود اپنے زور سے آخری حقیقت تک نہیں پہنچتی۔ جب اس کے سامنے کوئی قطعی مرکز نہ ہو تو وہ ایک سوال سے دوسرے سوال تک جاتی رہتی ہے۔
یہی بےچارگی ہے کہ عقل کو معلومات تو ملتی رہتی ہیں مگر اطمینان نہیں ملتا۔ وہ جانتی بہت کچھ ہے لیکن ٹھہرنے کی جگہ کم پاتی ہے۔
کشتی اور ساحل کی تمثیل:
“کشتی ادراک” ایک بہت خوبصورت استعارہ ہے۔ کشتی کا مقصد پانی میں بہتے رہنا نہیں بلکہ ساحل تک پہنچنا ہوتا ہے۔ اسی طرح ادراک کا مقصد صرف محسوسات اور خیالات کے سمندر میں حرکت کرتے رہنا نہیں، بلکہ معنی، یقین اور ہدایت کے ساحل تک پہنچنا ہے۔ اگر کشتی کے پاس سمت نہ ہو تو سمندر اس کے لیے حیرت، خوف اور بھٹکاؤ بن جاتا ہے۔
اقبال اس مثال سے بتاتے ہیں کہ فکر کی حرکت اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن منزل کے بغیر حرکت خود ایک نئی بےچینی پیدا کر دیتی ہے۔
توحید ساحل کیوں ہے:
توحید انسان کے باطن میں یہ یقین پیدا کرتی ہے کہ کائنات بےحکمت نہیں، زندگی بےمقصد نہیں، اور انسان خود اپنے حال پر نہیں چھوڑا گیا۔ جب ادراک یہ مان لیتا ہے کہ ایک خدا، ایک قانونِ حق، اور ایک اخلاقی جواب دہی موجود ہے، تو پھر سوچ کی پراگندگی کم ہونے لگتی ہے۔ سوالات ختم نہیں ہوتے، مگر ان کا رخ درست ہو جاتا ہے۔
یہی رخ دراصل ساحل ہے۔ ساحل کا مطلب سوالوں کا مر جانا نہیں بلکہ سوالوں کا ایک بڑی سچائی کی طرف منظم ہو جانا ہے۔
شک اور یقین کے درمیان فرق:
اقبال اندھی تقلید کے قائل نہیں، لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ انسان شک ہی کو اپنا مستقل مسکن بنا لے۔ شک اگر سچ کی تلاش کا دروازہ بنے تو مفید ہے، مگر اگر وہ خود مقصد بن جائے تو کشتی کو ساحل سے دور لے جاتا ہے۔ توحید فکر کو یہ اعتماد دیتی ہے کہ تلاش کا کوئی حقیقی مقصود موجود ہے۔
اسی لیے مومن کی عقل مردہ نہیں ہوتی بلکہ زیادہ بیدار ہوتی ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی جستجو عبث نہیں ہے۔
ملت کے لیے اشارہ:
یہ شعر فرد کے ساتھ ساتھ ملت پر بھی صادق آتا ہے۔ ایسی قوم جس کے پاس تعلیم، تجربہ اور سیاسی تدبیریں تو ہوں مگر اس کے فکر کا مشترک ساحل نہ ہو، وہ ہر لہر کے ساتھ رخ بدلتی رہتی ہے۔ اس کے فیصلے وقتی فائدوں کے تابع ہو جاتے ہیں۔ توحید ملت کو ایک ایسی مرکزیت دیتی ہے جس سے اجتماعی عقل کو استحکام ملتا ہے۔
پس ملت کی کشتی بھی اسی وقت سلامت رہتی ہے جب اس کے سفر کا قبلہ واضح ہو۔
مثال
اگر ایک جہاز میں بہترین انجن، جدید نقشہ اور ماہر عملہ ہو لیکن منزل کا تعین ہی نہ کیا گیا ہو، تو وہ سمندر میں گردش کرتا رہے گا۔ اسی طرح انسان کے پاس ذہانت، علم اور مشاہدہ ہو، مگر اسے یہ نہ معلوم ہو کہ سچائی کا مرکز کیا ہے، تو اس کی فکری قوت اسے سکون تک نہیں پہنچا سکتی۔
خلاصہ
اس شعر میں اقبال نے واضح کیا ہے کہ توحید کے بغیر عقل بےسہارا اور ادراک بےساحل ہو جاتا ہے۔ توحید ہی وہ مرکز ہے جو سوچ کو منزل، دل کو اطمینان، اور اجتماعی زندگی کو سمت عطا کرتی ہے۔
