هر یکی از ما امین ملت است
هر یکی از ما امین ملت است
صلح وکینش ، صلح وکین ملت است
ترجمہ
ہم میں سے ہر شخص ملت کا امین ہے، اور اس کی صلح و جنگ دراصل پوری ملت کی صلح و جنگ ہوتی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں حکایت کا مرکزی اصول صاف لفظوں میں بیان کر دیتے ہیں۔ ایک مسلمان محض اپنی ذات کا مالک نہیں، بلکہ ملت کی امانت اپنے اندر لیے پھرتا ہے۔ اسی لیے اس کا ذاتی صلح یا ذاتی کینہ بھی خالصتاً ذاتی نہیں رہتا۔ شعر کے مطابق:
امینِ ملت ہونا:
امین وہ ہوتا ہے جس کے سپرد کوئی قیمتی امانت ہو۔ اقبال کہتے ہیں کہ ہر مسلمان، خواہ وہ کتنا ہی عام کیوں نہ ہو، ملت کی امانت اٹھائے ہوئے ہے۔ اس کا قول، اس کا وعدہ، اس کا لین دین، اس کا رحم، اس کا قتال، سب کسی نہ کسی درجے میں ملت کے اخلاقی اعتبار کی نمائندگی کرتے ہیں۔
یہی احساس فرد کو خود غرض، بے قید اور محض شخصی مزاج پر چلنے سے روکتا ہے۔
صلح و کین کی اجتماعی حیثیت:
اگر ایک مسلمان کسی کو امان دے دے، یا کسی کے خلاف کینہ رکھے، تو اس کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا۔ اقبال کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کے فیصلے نبوی ملت کے آہنگ سے جڑے ہوتے ہیں۔ اسی لیے فردی اقدام بھی ملت کے نام، وقار اور شرعی ذمہ داری سے بندھ جاتے ہیں۔
یہاں صلح صرف جنگ بندی نہیں، عہد اور امان بھی ہے؛ اور کین صرف غصہ نہیں، قتال اور عدالتی موقف بھی۔
فرد اور ملت کا ربط:
یہ شعر اقبال کے اجتماعی فلسفے کا بنیادی ستون ہے۔ فرد آزاد ہے، مگر بے نسبت نہیں۔ اس کی خودی اسی وقت بلند ہوتی ہے جب وہ ملت کے مرکز سے جڑی ہو۔ اگر وہ اپنے افعال کو صرف ذاتی اختیار سمجھے تو ملت کا شیرازہ کمزور پڑ جائے گا۔
یعنی ملت کی قوت افراد کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے، اور افراد کی ذمہ داری ملت کے ذریعے وزنی ہوتی ہے۔
جابان کی حکایت پر اطلاق:
اسی اصول کی بنا پر ابوعبید کا فیصلہ آتا ہے کہ ایک مسلمان نے جب جابان کو امان دی ہے تو وہ محض ایک آدمی کی زبان نہ رہی، پوری ملت کے عہد کے دائرے میں آ گئی۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں جابان کے قتل کو محض جنگی مصلحت سے درست نہیں کہا جا سکتا۔ امانِ فرد، امانِ ملت کے حکم میں داخل ہو گئی۔
اقبال کے نزدیک اسلامی اخوت کی اصل قوت یہی ہے کہ فرد ملت کی امانت داری کے ساتھ جیتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کے مسلمان اگر یہ شعور کھو دیں کہ ان کے اعمال اسلام کے نام سے جڑے ہیں، تو ان کا طرزِ عمل جلد ہی سطحی اور بے وزن ہو جاتا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے قول و فعل میں ملت کا اعتبار لگا ہوتا ہے۔
یہ احساس بوجھ بھی ہے اور شرف بھی: تم صرف اپنے نہیں، ایک بڑی امانت کے نمائندہ ہو۔
مثال
کسی سفارت کار یا ادارے کے نمائندے کی ذاتی بات بھی کئی بار پورے ادارے یا ملک کی نمائندگی سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے اس کی زبان اور اس کے عہد کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ مسلمان کی حیثیت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق ہر مسلمان ملت کی امانت اٹھائے ہوئے ہے، اس لیے اس کے فیصلے خالصتاً ذاتی نہیں رہتے۔ صلح، جنگ، وعدہ اور امان سب ملت کے اخلاقی وزن سے بندھے ہوتے ہیں۔