دشمنان چون ریگ صحرا لاتعد
دشمنان چون ریگ صحرا لاتعد
دوستان او به یزدان هم عدد
ترجمہ
دشمن صحرا کی ریت کی طرح بے شمار تھے، اور اس کے دوست خدا کے نزدیک گنے جا سکنے کے برابر چند تھے۔
تشریح
اقبال اس شعر میں کربلا کی عددی حقیقت کو نہایت اثر انگیز انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ایک طرف دشمنوں کی کثرت ہے، دوسری طرف رفقا کی قلت۔ مگر اقبال اس قلت کو کمزوری نہیں بننے دیتے؛ وہ اسے “به یزدان هم عدد” کہہ کر ایسا تقدس دیتے ہیں جس میں قلیل ہونا عیب نہیں بلکہ انتخاب، اخلاص اور وزن کی علامت بن جاتا ہے۔ شعر کے مطابق:
ریگ صحرا کی کثرت:
صحرا کی ریت بے حساب، منتشر اور کثیر ہوتی ہے۔ دشمنوں کو اس سے تشبیہ دے کر اقبال تعداد کی کثرت ضرور دکھاتے ہیں، مگر ساتھ ہی ایک لطیف حقارت بھی داخل کرتے ہیں۔ ریت زیادہ ہوتی ہے، مگر ہر ذرہ وزن نہیں رکھتا۔ یزیدی لشکر تعداد میں کثیر تھا، مگر معنوی اعتبار سے اس کے اندر وہ وزنی مرکز نہ تھا جو حق کے لیے کھڑے قلیل رفقا میں تھا۔
یوں اقبال کثرت کو عظمت کا معیار نہیں مانتے۔
دوستان او:
“دوستان” میں صرف عسکری ساتھی شامل نہیں، بلکہ وہ سب لوگ شامل ہیں جو وفا، معرفت، قربانی اور حق کی محبت کے ساتھ امام کے گرد جمع ہوئے۔ یہ قلتِ عدد دراصل کثرتِ معنی رکھتی ہے۔ ان کے پاس لشکری وسعت نہ تھی، مگر صدق کی گہرائی تھی۔ اقبال اسی لیے تعداد کے فرق کو حقیقت کے فرق میں بدل دیتے ہیں۔
کربلا میں عدد سے زیادہ عدل اور وفا کا وزن بولتا ہے۔
به یزدان هم عدد:
یہ تعبیر نہایت خوب صورت ہے۔ مطلب یہ کہ وہ اتنے کم تھے کہ خدا کے سامنے بھی شمار کیے جا سکتے تھے، مگر یہی قلت ان کے انتخابی اور قیمتی ہونے کی علامت ہے۔ کم ہونا یہاں نارسائی نہیں بلکہ خلوص کا استعارہ ہے۔ جیسے قیمتی جواہر کثرت میں نہیں ہوتے، ویسے ہی حق کے کامل رفقا بھی ہر زمانے میں زیادہ نہیں ہوتے۔
اقبال اس کم تعدادی کو تقدیر کی کمزوری نہیں، قدر کی بلندی بنا دیتے ہیں۔
کربلا کا پیمانہ:
اگر تاریخ کو صرف تعداد کے حساب سے پڑھا جائے تو کربلا ناقابلِ فہم لگتی ہے۔ مگر اقبال ہمیں سکھاتے ہیں کہ حق کا معیار عددی اکثریت نہیں۔ بعض اوقات قلیل جماعت ہی کثیر امت کی روح بچاتی ہے۔ امام حسین کے ساتھی اسی معنی میں امت کے اخلاقی نمائندے بن جاتے ہیں، خواہ عدد میں کم ہوں۔
اس لیے کربلا کمیِ افراد کی نہیں، بلندیِ وفا کی داستان ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی بہت سے لوگ صرف کثرت، مقبولیت، ووٹ، ہجوم یا شور کو حق کا پیمانہ سمجھ لیتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ قلیل مگر سچے لوگ تاریخ کا رخ موڑ سکتے ہیں، جبکہ کثیر مگر بے بنیاد ہجوم صرف ریت کی طرح بکھر سکتا ہے۔
اسلامی حریت کی بقا کئی بار چند وفادار دلوں کے ذریعے ہوتی ہے، نہ کہ بڑے مجمعوں کے ذریعے۔
مثال
کئی بڑی اصلاحی یا اصولی تحریکیں ابتدا میں بہت کم لوگوں کے ساتھ شروع ہوئی ہیں، مگر انہی مخلص لوگوں نے بعد میں پوری فضا بدل دی، جبکہ مخالفین اپنے عدد کے باوجود دیرپا حقیقت نہ بن سکے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق کربلا میں دشمن تعداد میں بے شمار تھے، مگر امام حسین کے رفقا اپنی قلت کے باوجود وزنی، منتخب اور خالص تھے۔ حق کا معیار تعداد نہیں بلکہ وفا اور صدق ہے۔