صورت ماهی به بحر آباد شو
صورت ماهی به بحر آباد شو
یعنی از قید مقام آزاد شو
ترجمہ
مچھلی کی سی صورت اختیار کر کے سمندر میں آباد ہو جا، یعنی ایک ہی مقام کی قید سے آزاد ہو جا۔
تشریح
اقبال یہاں زندگی کی ایک نہایت گہری تصویر پیش کرتے ہیں۔ مچھلی سمندر میں رہتی ہے مگر کسی ایک کنارے، ایک جگہ یا ایک ساکت مقام سے بندھی نہیں ہوتی۔ اس کا مسکن ہی حرکت ہے۔ اقبال مسلم خودی کو اسی مزاج کی دعوت دیتے ہیں: ایسا وجود بنو جو وسعت میں جیتا ہو، جو ایک محدود ٹھکانے کو اپنی آخری حقیقت نہ سمجھے، اور جو مقام کی قید سے نکل کر اپنے بڑے میدان میں زندہ ہو۔ شعر کے مطابق:
صورتِ ماهی:
مچھلی کی صورت یہاں محض شکل نہیں، ایک مزاج ہے۔ مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، مگر پانی کے اندر ایک ہی جگہ جمی نہیں رہتی۔ اس کی زندگی حرکت، شناوری اور موافقت سے عبارت ہے۔ اقبال اس استعارے کے ذریعے بتاتے ہیں کہ زندہ خودی وہ ہے جو اپنے اصل ماحول میں متحرک رہے، نہ کہ بے جان شے کی طرح ایک جگہ پڑی رہے۔
اصل ماحول میں زندہ رہنے کی علامت حرکت ہے، سکونِ مردہ نہیں۔
بحر آباد شو:
سمندر میں آباد ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ صرف بڑے میدان میں داخل ہو جاؤ، بلکہ یہ ہے کہ تمہارا وجود اس وسعت کے مطابق ڈھل جائے۔ کئی لوگ وسیع دنیا میں پہنچ تو جاتے ہیں مگر دل کے اعتبار سے تنگ ہی رہتے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ بحر میں آباد ہونے کے لیے بحر جیسا ظرف چاہیے۔ وسعت محض جغرافیائی نقل مکانی سے نہیں، باطنی مناسبت سے پیدا ہوتی ہے۔
جگہ بدل لینا کافی نہیں، ظرف بدلنا بھی ضروری ہے۔
قیدِ مقام:
“مقام” صرف جغرافیائی جگہ نہیں، بلکہ ہر وہ ٹھہرا ہوا تعارف ہے جس میں انسان اپنے آپ کو بند کر لے: ایک منصب، ایک حیثیت، ایک روایت، ایک آسودگی، ایک چھوٹی شناخت، یا ایک پرانا دائرہ۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر خودی کو بحر آباد ہونا ہے تو اسے اس قید سے نکلنا ہوگا۔ انسان جب ایک ہی مقام کو اپنی آخری منزل سمجھ لیتا ہے تو اس کی روحانی اور عملی نمو رک جاتی ہے۔
جو خود کو ایک تعریف میں مقفل کر لے، وہ اپنے باقی امکانات بند کر دیتا ہے۔
حرکت اور بقا:
یہ شعر بقا کا راز بھی سکھاتا ہے۔ مچھلی کی بقا اسی میں ہے کہ وہ اپنے آبی دائرے میں متحرک رہے۔ اسی طرح مسلم کی بقا اس میں ہے کہ وہ مقصد، دعوت، علم، اخلاق اور وسعت کے سمندر میں زندہ حرکت برقرار رکھے۔ اگر وہ ساحل کی مٹی پر پڑا رہے تو مرجھا جائے گا۔
زندگی اپنے اصل میدان میں متحرک رہنے سے محفوظ رہتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے لوگ ایک نوکری، ایک شہر، ایک منصب، یا ایک بنے بنائے تعارف کو اپنی پوری زندگی بنا لیتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ مقام تمہاری ضرورت ہو سکتا ہے، قید نہیں۔ اپنے اندر ایسی آمادگی پیدا کرو کہ اگر مقصد بڑا ہو تو تم حرکت کر سکو، سیکھ سکو، وسعت اختیار کر سکو، اور اپنے آپ کو نئے میدان کے مطابق ڈھال سکو۔
اسلامی خودی کا وقار اس کی حرکی، آفاقی اور مقام شکن زندگی میں ہے۔
مثال
ایک شخص اگر صرف اپنے عہدے کی پہچان میں جینے لگے تو وہ عہدہ چھننے پر ٹوٹ جاتا ہے، مگر جو اپنی شناخت کو خدمت، علم اور مقصد سے جوڑتا ہے وہ مختلف حالات میں بھی زندہ اور مفید رہتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق زندہ خودی مچھلی کی طرح حرکت پذیر اور بحر کی وسعت سے مناسبت رکھنے والی ہوتی ہے۔ جو ایک مقام کی قید سے آزاد ہو جائے، وہی بڑے میدان میں واقعی آباد ہو سکتا ہے۔
