رموز بے خودی

در میان کارزار کفر و دین

در میان کارزار کفر و دین

ترکش ما را خدنگ آخرین

ترجمہ

کفر اور دین کے معرکے کے درمیان، وہ ہمارے ترکش کا آخری اور فیصلہ کن تیر تھا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں عالمگیر کو ایک ایسی تاریخی شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں جس نے ایک نازک وقت میں ملت کے آخری مضبوط سہارے کی حیثیت اختیار کی۔ “خدنگ آخرین” کی ترکیب میں اضطراب بھی ہے، اہمیت بھی، اور ایک تاریخی احساسِ خطرہ بھی۔ شعر کے مطابق:

کارزارِ کفر و دین کا مفہوم:

اقبال کے ہاں “کفر و دین” کا معرکہ صرف فوجی جنگ نہیں ہوتا۔ یہ فکری، تہذیبی، اخلاقی اور روحانی کشمکش بھی ہے۔ کبھی یہ معرکہ دلوں میں برپا ہوتا ہے، کبھی ریاستوں میں، کبھی تہذیبوں میں۔ یہاں شاعر اشارہ دیتا ہے کہ عالمگیر کے عہد میں ایک ایسا مرحلہ آ گیا تھا جہاں اسلامی شناخت، دینی وقار اور اجتماعی سمت کو شدید آزمائش درپیش تھی۔

اس پس منظر میں کسی ایک شخصیت کا اہم ہونا محض سیاسی اتفاق نہیں رہتا بلکہ تہذیبی معنی اختیار کر لیتا ہے۔

خدنگ آخرین کیوں:

آخری تیر اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب ترکش میں بچانے کے لیے کچھ زیادہ نہ رہا ہو اور فیصلہ قریب ہو۔ اقبال کی تعبیر میں یہ عالمگیر کے عہد کی نزاکت کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ گویا کہتے ہیں کہ ملت کے پاس ایسے باوقار، دینی شعور رکھنے والے، اور قوت و ضبط کو یکجا کرنے والے افراد کم رہ گئے تھے۔ اس لیے عالمگیر آخری مضبوط کوشش کی علامت بن گیا۔

یہ محض تعریف نہیں، ایک تاریخی نوحہ بھی ہے کہ کتنی کم شخصیات تھیں جو دین اور اقتدار کو ایک سنجیدہ نسبت میں جوڑ سکتی تھیں۔

قوت اور مقصد کا ملاپ:

تیر کی اصل قوت اس کے تیز ہونے میں ہے، مگر اس کا اصل کام درست سمت میں چلنا ہے۔ اسی طرح ایک قوم کو ایسے افراد درکار ہوتے ہیں جو صرف طاقتور نہ ہوں بلکہ مقصد شناس بھی ہوں۔ عالمگیر کو “خدنگ” کہنا دراصل اس کی کارکردگی، نفوذ اور فیصلہ کن حیثیت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ “آخرین” اسے ایک نایاب اور کم یاب وجود بناتا ہے۔

اقبال کے نزدیک اس طرح کی شخصیت محض حاکم نہیں ہوتی، وہ تاریخ کے موڑ پر قوم کے دفاعی شعور کی نمائندہ بن جاتی ہے۔

ملت کی کمزوری کا اشارہ:

اس شعر میں ایک خاموش تنبیہ بھی ہے کہ اگر ایک پوری ملت کو ایک ہی “آخری تیر” پر تکیہ کرنا پڑ جائے تو یہ اس کے اجتماعی زوال کی علامت ہے۔ اقبال صرف عالمگیر کی مدح نہیں کر رہے، وہ اس کمی کو بھی محسوس کر رہے ہیں کہ ایسے کردار تسلسل سے پیدا کیوں نہ ہوئے۔

لہٰذا شعر میں تعریف کے ساتھ بیداری بھی ہے: قومیں افرادِ نادر پر زندہ نہیں رہ سکتیں، انہیں مسلسل ایسے دل اور دماغ پیدا کرنے ہوتے ہیں۔

آج کے لیے رہنمائی:

اقبال چاہتے ہیں کہ امت اپنے دفاع کو صرف ایک فرد، ایک واقعے یا ایک وقتی نجات دہندہ کے سپرد نہ کرے۔ حقیقی بقا تب ہے جب پوری قوم میں وہ صفات پھیلیں جو کبھی کسی ایک “خدنگ آخرین” میں جمع ہو گئی تھیں۔ بصیرت، غیرت، دینی وفاداری اور عمل کی جرأت اجتماعی مزاج بننی چاہیے۔

تبھی ملت کا ترکش خالی نہیں رہتا اور تاریخ کے موڑ پر وہ بے دست و پا نہیں ہوتی۔

مثال

جیسے کسی ٹیم کے پاس بحران کے لمحے میں صرف ایک ہی کھلاڑی ایسا رہ جائے جو آخری اوور یا آخری موقع سنبھال سکے، تو اس کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے، لیکن ساتھ ہی پوری ٹیم کی کمزوری بھی ظاہر ہو جاتی ہے۔ اقبال اسی دوہری کیفیت کو شعر میں سمیٹتے ہیں۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک عالمگیر ملت کے لیے ایک فیصلہ کن تاریخی سہارا تھا، گویا دین و باطل کے معرکے میں ترکش کا آخری مؤثر تیر۔ اس تعریف کے ساتھ یہ تنبیہ بھی موجود ہے کہ قوموں کو ایسے کردار مسلسل پیدا کرنے چاہییں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button