در جماعت فرد را بینیم ما
در جماعت فرد را بینیم ما
از چمن او را چو گل چینیم ما
ترجمہ
ہم فرد کو جماعت ہی کے اندر دیکھتے ہیں، اور اسے جماعت کے چمن سے پھول کی طرح چنتے ہیں۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں فرد اور جماعت کے رشتے کو چمن اور پھول کی تمثیل سے واضح کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک فرد کی اصل شناخت اور اس کا حسن جماعت ہی کے پس منظر میں ظاہر ہوتا ہے۔ شعر کے مطابق:
فرد کو جماعت میں دیکھنا:
اقبال کہتے ہیں کہ ہم فرد کو کبھی مکمل طور پر الگ تھلگ نہیں دیکھتے، بلکہ اسے ہمیشہ کسی نہ کسی جماعت، خاندان یا معاشرے کے اندر ہی دیکھتے ہیں۔
فرد کی پہچان، اس کا کردار اور اس کی حیثیت اسی اجتماعی پس منظر میں معنی رکھتی ہے جس سے وہ تعلق رکھتا ہے۔
چمن سے پھول چننا:
شاعر فرد کو پھول اور جماعت کو چمن سے تشبیہ دیتے ہیں۔ جس طرح پھول کو ہم چمن سے چنتے ہیں، اسی طرح فرد کو جماعت کے پس منظر ہی سے پہچانا اور پرکھا جاتا ہے۔
پھول کی خوبصورتی چمن میں ہی نکھرتی ہے، اور چمن سے کٹ کر وہ جلد مرجھا جاتا ہے۔ اسی طرح فرد کا حسن اور اس کی قدر جماعت ہی سے وابستہ ہے۔
فرد اور جماعت کی وابستگی:
اس تمثیل سے اقبال یہ سمجھاتے ہیں کہ فرد اور جماعت کا رشتہ فطری اور لازمی ہے۔ فرد جماعت کی پیداوار ہے اور جماعت افراد کا مجموعہ۔
پہچان کا اصول:
اقبال یہ اصول بیان کرتے ہیں کہ فرد کو سمجھنے کے لیے اس کی جماعت کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ فرد اپنی جماعت کے رنگ میں رنگا ہوتا ہے۔
مثال
جیسے ایک پھول باغ میں کھلا ہو تو اس کی خوبصورتی اور مہک نمایاں ہوتی ہے، مگر توڑ کر الگ رکھ دیا جائے تو جلد مرجھا جاتا ہے، ویسے ہی فرد جماعت میں رہ کر ہی اپنی اصل قدر و قیمت پاتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ فرد کی پہچان اور اس کا حسن جماعت ہی کے پس منظر میں ظاہر ہوتا ہے، جیسے پھول چمن میں نکھرتا ہے۔

