رموز بے خودی

هر که پیمان با هوالموجود بست

هر که پیمان با هوالموجود بست

گردنش از بند هر معبود رست

ترجمہ

جو شخص “ہو الموجود” یعنی موجودِ حقیقی کے ساتھ پیمان باندھ لیتا ہے، اس کی گردن ہر جھوٹے معبود کی غلامی سے آزاد ہو جاتی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر سے اسلامی حریت کی بنیاد بیان کرتے ہیں۔ آزادی محض سیاسی حالت یا سماجی نعرہ نہیں؛ اس کی جڑ توحید میں ہے۔ جب انسان اپنی وابستگی براہ راست خدا سے جوڑ لیتا ہے تو پھر دنیا کی دوسری طاقتیں، خواہ وہ بت ہوں، خواہ تاج و تخت، خواہ خواہشاتِ نفس، اس پر آخری حاکمیت قائم نہیں رکھ سکتیں۔ کربلا کی پوری روح بھی اسی آزادی سے نکلتی ہے۔ شعر کے مطابق:

ہو الموجود کا مفہوم:

“ہو الموجود” سے مراد وہ حقیقی ہستی ہے جس کا وجود ازلی، قائم بالذات اور سب وجودات کا سرچشمہ ہے۔ اقبال انسان کو پہلے اسی مرکز کی طرف لے جاتے ہیں، کیونکہ اگر آزادی کو صرف دنیاوی اصطلاح میں سمجھا جائے تو وہ جلد کسی نئے معبود کی غلام بن جاتی ہے۔ خدا کے ساتھ پیمان کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی اصل نسبت، اصل وفاداری اور اصل مقصد کا تعین کر لے۔

اسی نسبت سے اس کی خودی کو وہ مرکز ملتا ہے جو اسے بکھرنے نہیں دیتا۔

پیمان کی حقیقت:

یہاں “پیمان” صرف زبانی اقرار نہیں، ایک زندہ عہد ہے۔ یعنی بندہ اپنی خواہش، خوف، محبت، نفرت، طاعت اور جدوجہد سب کو اس ایک نسبت کے تابع کر دے۔ اقبال کے ہاں ایمان محض عقیدہ نہیں بلکہ ایک عہدِ وفا ہے۔ جب یہ وفا قائم ہو جائے تو انسان اپنی زندگی کے فیصلے دوسروں کے اشارے سے نہیں بلکہ حق کے میزان سے کرنے لگتا ہے۔

یوں آزادی کا دروازہ باہر سے نہیں، اندر سے کھلتا ہے۔

ہر معبود سے نجات:

“ہر معبود” میں صرف پتھر کے بت شامل نہیں۔ دولت، اقتدار، قوم پرستی، شہرت، نفس، خوف، ہجوم، روایت اور مصلحت بھی جھوٹے معبود بن سکتے ہیں۔ اقبال کا نکتہ یہ ہے کہ انسان کسی نہ کسی کی بندگی کرتا ہی ہے۔ اگر خدا کا بندہ نہ بنے تو کسی اور چیز کا غلام بنے گا۔ اسلامی حریت کا راز یہ ہے کہ ایک سچی بندگی تمام جھوٹی غلامیوں کو توڑ دیتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ توحید آزادی کی سب سے بڑی سیاسی اور روحانی قوت بن جاتی ہے۔

کربلا سے نسبت:

اس شعر میں کربلا ابھی نام سے نہیں آئی، مگر فضا پوری طرح اسی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ امام حسین کی عظمت یہی تھی کہ انہوں نے “ہو الموجود” سے باندھا ہوا عہد دنیاوی اقتدار کے سامنے نہیں توڑا۔ ان کی گردن کسی یزیدی معبود کے سامنے نہیں جھکی۔ اقبال اسلامی حریت کی تعریف پہلے اصول میں کرتے ہیں، پھر آگے کربلا کو اس اصول کی زندہ تفسیر بناتے ہیں۔

یعنی کربلا آزادی کی حادثاتی کہانی نہیں، توحید کے عہد کا لازمی نتیجہ ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی بہت سے لوگ آزادی چاہتے ہیں، مگر ان کی وابستگی کبھی معاشی خوف، کبھی سماجی دباؤ، کبھی سیاسی طاقت، کبھی نفسی خواہشات کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ جب تک اصل معبود ایک نہ ہو، آزادی کے نعرے بھی اندر سے کھوکھلے رہتے ہیں۔ سچا آزاد وہی ہے جو حق کے سوا کسی کو اپنی گردن کا مالک نہ بننے دے۔

اسلامی حریت کی ابتدا یہی ہے: بندگیِ خدا، بیزاری از غیر۔

مثال

ایک شخص جو اپنے اصول صرف اس لیے نہیں چھوڑتا کہ ملازمت، شہرت یا دباؤ اس کے خلاف ہے، وہ دراصل اسی معنی میں آزاد ہے کہ اس نے اپنی گردن کسی دنیاوی معبود کے حوالے نہیں کی۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق اسلامی آزادی کی جڑ توحید ہے۔ جو شخص خدا سے اپنا پیمان سچا کر لے، وہ ہر جھوٹی طاقت، خواہش اور معبود کی غلامی سے نجات پا لیتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button